Reviews Sports Sports-ur

انگلش فاسٹ بالر مارک وڈ کو کیچ لینے سے روکنے پر آسٹریلوی بلے بازمیتھیو ویڈ پرتنقید

Written by Omair Alavi

رواں ماہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل تقریباً تمام بڑی کرکٹ ٹیمیں تیاریوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان، نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش نیوزی لینڈ میں سہ ملکی سیریز کے لیے موجود ہیں جب کہ انگلینڈ، اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں آسٹریلیا کے دورے پر ہیں۔

اتوار کو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کی ویڈیو نہ صرف سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی بلکہ اس پر تنقید بھی کی گئی۔

آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں کھیلا گیا روایتی حریفوں کے درمیان مقابلہ انگلینڈ کی جیت پر ختم ہوا لیکن میچ میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب آسٹریلوی ٹیم کو جیت کے لیے 23 گیندوں پر 39 رنز درکار تھے اور اس کی پانچ وکٹیں باقی تھیں۔

ایسے میں انگلش فاسٹ بالر مارک وڈ نے 17ویں اوور کی تیسری گیند پر آسٹریلوی بلے باز میتھیو ویڈ کو ایک تیز گیند پھینکی جو ان کے بلے سے لگنے کے بعد پہلے ہیلمٹ سے ٹکرائی اور پھر سیدھا اوپر چلی گئی۔ لیکن جب مارک وڈ نے اس گیند کو کیچ کرنے کی کوشش کی تو میتھیو ویڈ نے انہیں ہاتھ بڑھا کر روکا اور یوں وہ آؤٹ ہونے سے بچ گئے۔

اس واقعے کے بعد انگلینڈ کے کپتان جوس بٹلر جو خود بھی گیند پکڑنے کے لیے بھاگ رہے تھے، انہوں نے امپائرز کو دیکھ کر ان کی توجہ حاصل کرنے کوشش کی لیکن اپیل نہ ہونے کی وجہ سے آن فیلڈ امپائر نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

اس دوران کمنٹری باکس میں موجود سابق آسٹریلوی وکٹ کیپر اور بلے باز ایڈم گلکرسٹ نے واقعے پر تعجب کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی اپیل کے بغیر بھی تھڑد امپائر اس واقعے کا نوٹس لے کر بلے باز کو آؤٹ دے سکتے ہیں کیوں کہ میتھیو ویڈ کی توجہ صرف کریز پر واپس پہنچنے پر مرکوز نہیں تھی۔

ان کے بقول وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ میتھیو ویڈ کے دماغ میں اس وقت کیا چل رہا تھا لیکن جب انہوں نے بالر کی جانب ہاتھ بڑھایا تو وہ بات انہیں ٹھیک نہیں لگی۔

انگلینڈ کی ٹیم نے اس واقعے کے بعد بھی ہمت نہیں ہاری اور اسی اوور کی آخری گیند پر مارک وڈ نے اننگز کے ٹاپ اسکورر ڈیوڈ وارنر کو 73 رنز بنانے کے بعد واپس پویلین بھیجا۔ جب کہ آخری اوور میں پیسر سیم کرن نے میتھیو ویڈ کو آؤٹ کرکے آسٹریلیا کو جیت کی دوڑ سے باہر کردیا۔ انگلینڈ نے یہ میچ آٹھ وکٹ سے جیت کر تین میچ کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کرلی۔

‘آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ ‘کا قانون کیا ہے؟

میچ کے بعد جب انگلش کپتان جوس بٹلر سے اس واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اپیل نہ کرنے پر کہا کہ چوں کہ وہ خود اس وقت کیچ لینے کی کوشش کررہے تھے اس لیے انہوں نے وکٹ پر جو ہوا وہ نہیں دیکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب امپائر نے ان سے اپیل کرنے کے لیے رجوع کیا تو انہیں کسی اور سے مشورہ کرنا چاہیے تھا، جس نے یہ واقعہ دیکھا ہو، لیکن چوں کہ ان کی ٹیم کو آسٹریلیا کے دورے پر کافی دن رہنا ہے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ دورے کے آغاز پر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہ رہے تھے جس سے بدمزگی ہو۔

کرکٹ کے قوانین کے مطابق “اگر پھینکی گئی گیند نو بال نہیں اور اس پر اسٹرائیکر یا نان اسٹرائیکر نے کسی بھی طرح سے فیلڈ میں رکاوٹ ڈالنے یا فیلڈرز کا دھیان بٹانے کی کوشش کی تو اسے آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ آؤٹ قرار دیا جائے گا۔”

سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد کئی موجودہ اور سابق کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ صارفین نے میتھیو ویڈ کے اس عمل کو ‘اسپورٹس مین اسپرٹ’کے خلاف قرار دیا۔

آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم کے اوپنر عثمان خواجہ نے اس واقعہ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تو یقین ہی نہیں آرہا کہ انگلش فیلڈرز نے اس موقع پر اپیل نہیں کی۔

سابق بھارتی فاسٹ بالر وینکاٹیش پرساد کے مطابق میتھیو ویڈ کی یہ حرکت ‘چیٹنگ’ کے زمرے میں آتی ہے۔ انگلش کپتان کی اپیل نہ کرنے کی وجہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔

ایک اور سابق بھارتی کھلاڑی دوڈا گنیش نے امپائرز پر تنقید کی اور ان سے دریافت کیا کہ میتھیو ویڈ کو آؤٹ کیوں نہیں دیا گیا؟

انگلش کرکٹ ٹیم کے مداح ‘بارمی آرمی’ جو اپنی ٹیم کے ساتھ دنیا بھر کا دورہ کرتے ہیں، انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ انہیں آسٹریلیا سے ایمان داری کی توقع ہی نہیں تھی اس لیے اس واقعہ پر انہیں تعجب نہیں ہوا۔

دوسری جانب آئس لینڈ کرکٹ نے انگلش کپتان جوس بٹلر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ واقعہ ان کے خلاف میچ میں ہوتا تو وہ ضرور اپیل کرتے۔

میتھیو ویڈ کو آؤٹ کیوں نہیں دیا گیا؟ صحافیوں اور صارفین کا غصہ بھی کم ہونے کو نہیں!

‘آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ’ یعنی فیلڈ میں رخنہ ڈالنے کی کوشش میں کرکٹ کے کئی نامور کھلاڑی واپس پویلین جاچکے ہیں جن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیئرمین رمیز راجہ، سابق کپتان انضمام الحق اور محمد حفیظ کے ساتھ ساتھ بھارتی کھلاڑی مہندر امرناتھ اور انگلینڈ کے بین اسٹوکس شامل ہیں۔

اتوار کے میچ میں ہونے والے واقعے پر آسٹریلوی صحافیوں نے بھی اپنی ٹیم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

نک سیویج نے تو صارفین کو یاد دلایا کہ جب 2015 میں انگلینڈ کے بین اسٹوکس کو ‘آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ’ آؤٹ دیا گیا تھا تو اس کی اپیل میتھیو ویڈ نے ہی کی تھی جو حالیہ واقعے میں ملوث ہیں۔

ایک اور اسپورٹس صحافی ڈینیئل بریٹیگ نے بھی ماضی میں ہونے والے میچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر 2015 میں بین اسٹوکس آؤٹ تھے، تو میتھیو ویڈ بھی زیادہ دور نہیں تھے۔

انگلش صحافی پال نیومین کے مطابق اچھا ہوا کہ انگلینڈ نے یہ میچ جیت لیا اگر آسٹریلیا کی ٹیم یہ میچ جیت جاتی تو میتھیو ویڈ کی حرکت پر تنازع بن جاتا۔

ول مک فیرسن نے اس موقع پر کہا کہ اگر یہ آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ نہیں تو پھر کیا ہوتا ہے؟

عاطف نواز نامی صارف کے خیال میں اگر لوگ ‘آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ’ کے قانون کو پڑھیں گے تو اس کا عملی نمونہ کچھ ایسا ہی ہوگا جیسا کہ فیلڈ پر ہوا۔

اینڈریو وو نامی صارف نے میتھیو ویڈ کی حرکت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مارک وڈ کو فری کک مارنے پر آسٹریلوی بلے باز کو آؤٹ قرار دیا جانا چاہیے تھا۔

ریحان الحق نے ٹوئٹر کے ذریعے لوگوں سے پوچھا کہ کیا کھلاڑیوں نے کرکٹ کھیلتے کھیلتے فٹ بال شروع کردی؟ کیوں کہ انہیں میتھیو ویڈ کو دیکھ کر تو ایسا ہی لگتا ہے۔

نبیل ہاشمی نے بھی امپائرز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میتھیو ویڈ نے بالر کو روکنے کی کوشش کی، انہیں مزید بیٹنگ کرنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی۔

About the author

Omair Alavi

Leave a Comment