اسپورٹس

بیزبال یا اوزی وے؟ سابق کرکٹرز کی ایشز سیریز میں انگلش ٹیم کی حکمتِ عملی پر کڑی تنقید

Written by ceditor

کراچی — لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ایشز سیریز کے دوسرے میچ میں بھی انگلش ٹیم کی روایت سے ہٹ کر کھیل پیش کرنے کی حکمتِ عملی جاری رہی جس پر اب سابق کرکٹرز بھی تنقید کر رہے ہیں۔

ایشز سیریز سے قبل جس بیزبال اسٹرٹیجی کو مبصرین میزبان ٹیم کی طاقت قرار دے رہے تھے آج وہی اسی طریقہ کار کو غیر ذمہ دارانہ اور خودکش کہہ رہے ہیں۔ انگلینڈ کے کامیاب ترین بلے باز ہوں یا سابق کپتان، سب ہی کی رائے میں اگر انگلش کپتان بین اسٹوکس اور کوچ برینڈن مکلم بیز بال کے بجائے تحمل سے آسٹریلیا کے خلاف میچز کھِیلتے تو شاید کینگروز کو سیریز میں برتری حاصل نہ ہوتی۔

آسٹریلیا نے میزبان ٹیم کے خلاف تین سو سے زائد کی برتری حاصل کر لی ہے اور انگلش ٹیم کی مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک صفر کے خسارے سے سیریز کا آغاز کرنے والی ٹیم کو دوسرے میچ میں کامیابی کے لیے ذمہ داری سے بیٹنگ کرنا ہوگی جس کی امید سابق کھلاڑیوں کو بہت کم ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کے پہلی اننگز 416 رنز کے جواب میں انگلینڈ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 325 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی۔ تیسرے دن کھانے کے وقفے سے قبل کے سیشن میں انگلینڈ کے بلے بازوں نے جس طرح بیٹنگ کی اس سے ٹیم کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا، سابق کھلاڑیوں نے اس سیشن میں چھ انگلش کھلاڑیوں کے مل کر صرف 47 رنز بنانے پر تعجب کا اظہار کیا۔

انگلینڈ کے 325 رنز پر ڈھیر ہوجانے کے بعد ٹی وی پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق انگلش کپتان ناصر حسین کا کہنا تھا کہ ان دو سیشن میں انگلینڈ کے بلے بازوں کی حکمتِ عملی سمجھ سے باہر تھی۔

ناصر حسین کے بقول ان دونوں سیشن میں انگلینڈ نے غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جونی بیئراسٹو اگر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے تو شاید انگلینڈ کا پہلی اننگز میں اسکور زیادہ ہوتا۔

انہوں نے ساتھی کمنٹیٹر مارک ٹیلر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سابق آسٹریلوی کپتان نے جس طرح کہا تھا کہ کھلاڑی آف اسپنر ٹریوس ہیڈ کی بالنگ پر آؤٹ ہوں گے، ویسے ہی آؤٹ ہوئے اور اس لیے بیزبال انگلینڈ کو کمزور بناتا ہے۔

انہوں نے کھلاڑیوں کے مستقل ہُک شاٹ کھیلنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور تجویز دی کہ ہر بال ہر رن بنانے کے بجائے اگر کنڈیشنز کے مطابق کھیلا جائے تو بہتر ہوگا۔

ناصر حسین کے مطابق انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف پاکستان کے گراؤنڈز پر بیزبال کھیل پیش کر کے اس لیے کامیابی سمیٹی کیوں کہ انگلش کھلاڑیوں نے وہاں کی کنڈیشنز کے مطابق کھیلا جب کہ ہوم کنڈیشنز کا وہ فائدہ نہیں اٹھا پارہے۔

ناصر حسین کی رائے سے زیادہ تر انگلش کھلاڑی متفق، سوائے اوئن مورگن کے

جب سے انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس اور کوچ برینڈن مکلم نے ٹیم کا چارج سنبھالا ہے، انہیں ناکامی کم اور کامیابیاں زیادہ ملی ہیں۔ اور ان کی اسٹرٹیجی کو ب’یزبال’ کا نام دیا گیا ہے۔ اس طرز کی ٹیسٹ کرکٹ میں کھلاڑی ون ڈے کرکٹ کی طرح بیٹنگ کرکے رنز کے انبار لگادیتے ہیں، لیکن پہلے ایشز ٹیسٹ میں شکست کے بعد یہ سحر ٹوٹتا نظر آرہا ہے اور سابق انگلش کرکٹرز نے اس اسٹریٹجی کو ‘پاگل پن’ قرار دینا شروع کردیا ہے۔

معروف کمنٹیٹر اور سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن کے خیال میں انگلش کھلاڑیوں کی بیٹنگ دیکھ کر لگتا ہے جیسے ان کے کنٹرول میں کچھ نہیں۔

سابق انگلش کپتان ایلسٹر کک نے میزبان ٹیم کی بیٹنگ اسٹرٹیجی پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک کھلاڑی ٹیسٹ میچ میں رنز اور سیشن کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے، وہ اچھی پوزیشن میں آنے کے بعد بھی میچ نہیں جیت سکیں گے۔

ایک اور انگلش کپتان مائیکل وان کے بقول انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو پہلی اننگز میں آسٹریلیا نے آؤٹ نہیں کیا بلکہ بلے بازوں نے تحفے میں اپنی وکٹیں انہیں دیں۔

ادھر معروف کمنٹیٹر اور سابق انگلش کھلاڑی مارک بُچر نے بھی کھلاڑیوں پر الزام لگایا کہ وہ بیزبال کے پیچھے چھپ نہیں سکتے اور جس طرح وہ آؤٹ ہوئے اس کی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے۔

ایک پوڈکاسٹ کے دوران میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلے بازوں کو خود بھی سوچنا چاہیے کہ کیا وہ کوچ و کپتان کی جانب سے دی ہوئی آزادی کا درست استعمال کررہے ہیں یا پھر اسے ضائع کررہے ہیں ۔ پہلی اننگز کے آخر میں جو بھی ہوا اسے دیکھ کر اسٹرٹیجی کا فقدان نظر آرہا ہے۔

سابق انگلش کپتان اور مایہ ناز بلے باز کیون پیٹرسن نے تو چوتھے دن کے کھیل سے قبل پیش گوئی کی کہ آسٹریلوی ٹیم اننگز ڈکلیئر نہیں کرے گی اور بیزبال کو چیلنج کرنے کی کوشش کرے گی، وہ بھی ایک ایسے موقع پر جب ان کے فل ٹائم اسپنر نیتھن لائن انجرٖڈ ہیں۔

فاسٹ بالر و صحافی ڈیریک پرنگل نے بھی بیزبال کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس اسٹریٹجی نے بھلے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے طریقے کو بدلا ہوگا لیکن پہلے فیلڈنگ کرکے مخالف ٹیم کو ڈھائی سو سے کم رنز پر آؤٹ نہ کرنا انگلش ٹیم کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔

اس کے برعکس سابق انگلش کپتان اوئن مورگن بیزبال کے حق میں بول پڑے، ان کے خیال میں انگلینڈ کی ٹیم آسٹریلیا کو صرف اور صرف بیزبال کے ذریعے ہی شکست دے سکتی ہے۔

عمیر علوی – وائس آف امریکہ

About the author

ceditor