Uncategorized

اولمپکس کے گرد گھومنے والی نو مشہور ہالی وڈ فلمیں

Written by Omair Alavi

کراچی — 

جس طرح اولمپکس کو کھیلوں کے دوسرے مقابلوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔ اسی طرح ہالی وڈ میں بننے والی ان فلموں کا بھی کوئی ثانی نہیں جو اولمپکس کے گرد گھومتی ہیں۔

کہانی ہو امریکہ کے پہلے اولمپک ہیرو جم تھورپ کے عروج و زوال کی یا پھر ونٹر اولمپکس میں امریکہ کی ہاکی ٹیم کی ناقابلِ یقین فتح کی۔ ہالی وڈ نے ہر کہانی کو نئے انداز میں پیش کیا ہے۔

یہاں تک کے امریکی فلم سازوں نے میونخ اولمپکس اور اٹلانٹا اولمپکس میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کو بھی فلم کی شکل دی۔ کہیں ایکشن تھرلر بنا کر تو کہیں میڈیا کو آئینہ دکھا کر۔ آئیے ایسی ہی نو ہالی وڈ فلموں پر نظر ڈالتے ہیں۔

1. جم تھورپ، آل امیرکن (1951)

جم تھورپ کا شمار اولمپک کھیلوں کے بدقسمت ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ 1912 کے اولمپکس میں شاندار کھیل پیش کر کے ہیرو بن جانے والے ٹریک اینڈ فیلڈ ایتھلیٹ سے ان کے میڈلز اس وقت واپس لے لیے گئے جب حکام کو پتا چلا کہ انہوں نے ایک بیس بال میچ کھیلنے کے پیسے لیے۔

آج یہ بات عجیب سی لگتی ہے لیکن 100 سال پہلے پروفیشنل ایتھلیٹس کے لیے ایسا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔

اس فلم میں ہالی وڈ اسٹار برٹ لینکاسٹر نے جم تھورپ کا کردار ادا کیا اور ان کے عروج و زوال کی کہانی کو بالکل ویسے پیش کیا جیسا کہ کرنا چاہیے تھا۔

جم تھورپ کو ان کی زندگی میں تو انصاف نہیں ملا لیکن مرنے کے بعد انہیں ان کے میڈلز اور اعزازات واپس لوٹا دیے گئے۔

2. چیرئیٹس آف فائر(1981)

نہ تو اس فلم میں کوئی بڑا اداکار تھا نہ ہی یہ کسی بڑے اسپورٹس مین کی بائیوپک تھی لیکن یہ فلم آج بھی اولمپک فلموں کی ریس میں سب سے آگے ہے۔

اس فلم میں 1924 کے اولمپکس میں دو نوجوان برٹش رنرز ہیرلڈ ابراہمز اور ایرک لڈل کی کہانی بیان کی گئی ہے جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے میں میڈل جیتے۔

اس فلم میں نہ صرف یہ بتایا گیا کہ ایرک لڈل نے اتوار کے روز ہونے والی ریس کا حصہ بننے سے انکار کیوں کیا تھا بلکہ یہ بھی کہ ابراہمز کی جیت کے پیچھے وہ کیا وجوہات تھیں جس نے اسے سب سے تیز دوڑنے پر قائل کیا۔

فلم کا بیک گراؤنڈ اسکور (میوزک) آج بھی اتنا ہی مقبول ہے جتنا کہ اسی کی دہائی میں فلم کی ریلیز کے وقت تھا۔

برٹش فلم ہونے کے باوجود اس فلم نے آسکرز میں میلہ لوٹ لیا اور بہترین فلم، بہترین اسکرین پلے اور بہترین کوسٹیوم ڈیزائن کے ساتھ ساتھ بہترین اسکور کےایوارڈ اپنے نام کیے۔

3. ریس (2016)

سن 1936 کے اولمپکس میں جیسسی اوئنز نے چار گولڈ میڈل جیت کر جرمن چانسلر ایڈولف ہٹلر کے سامنے اس کے نظریے کی نفی کی لیکن جیسسی اوئنز کا اس وقت اولمپکس میں کھیلنا اور میڈل جیتنا بھی ایک عجیب کہانی تھی۔

جیسسی اوئنر اس زمانے میں امریکہ میں ایک سیاہ فام ایتھلیٹ تھے جب افریقی امریکیوں کو وہاں بنیادی حقوق بھی میسر نہیں تھے۔

کیسے اس ٹریک اسٹار نے خود کو اس قابل بنایا کہ دنیا بھر کے سامنے امریکی پرچم بلند کرسکے اور اس کی اس کاوش میں کس کس نے مدد کی، ریس میں سب کچھ بہترین انداز میں دکھایا گیا۔

اداکار اسٹیفن جیمز ور جیسن سوڈیکس نے اس فلم میں جیسسی اوئنز اور ان کے کوچ لیری اسنائیڈر کا کردار ادا کیا اور ایک ایسے اسٹار ایتھلیٹ کی کہانی پیش کی جس نے امریکہ میں سیاہ فام اور سفید فام میں فرق کو کم ضرور کردیا۔

4. ڈاؤن ہل ریسر (1969)

جس وقت ‘ڈاؤن ہل ریسر’ سنیما میں ریلیز کی گئی تو اس وقت نہ تو کسی اسکیئر پر کوئی فلم بنی تھی نہ ہی اسکیئنگ پر۔ امریکی اداکار رابرٹ ریڈفرڈ نے امریکی ناولسٹ جیمز سالٹر کا ناول پڑھ کر انہی سے اس کا اسکرین پلے لکھوایا اور خود مرکزی کردار بھی ادا کیا۔

یہ فلم ایک ایسے امریکی اسکیئر کی کہانی ہے جو حصہ تو امریکی ٹیم کا ہے لیکن اکیلا ہی منزل کی جانب گامزن رہتا ہے اولمپک گولڈ کی جانب۔

اسپورٹس کا شوق نہ رکھنے والوں کو یہ فلم اتنی اصل لگے گی کہ وہ بھول جائیں گے کہ ڈیوڈ چیپیلیٹ کا کردار فرضی ہے، اصلی نہیں۔

نامور اداکار جین ہیکمین نے اس فلم میں ایک ایسے کوچ کا کردار ادا کیا جو اپنے چیمپیئن کو جانتا بھی ہے، پہچانتا بھی، لیکن ٹیم سپورٹ ہونے کی وجہ سے اسے سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔

5. میونخ (2005)

جس فلم کے ساتھ اسٹیون اسبیلبرگ جیسا ہدایت کار جڑا ہوا ہو، وہ نہ تو بری ہوسکتی ہے اور نہ ہی معمولی۔ 1972 کے میونخ اولمپکس کے تناظر میں بننے والی یہ فلم اس آپریشن کے گرد گھومتی ہے جو موساد ایجنٹس نے 11 اسرائیلی ایتھلیٹس اور کوچز کی موت کا بدلہ لینے کے لیے کیا۔

اس فلم میں ڈینئیل کریگ نے بھی اہم کردار ادا کیا جو بعد میں جیمز بونڈ 007 کے نام سے مقبول ہوئے۔

‘میونخ’ کو آسکرز میں پانچ مختلف کیٹگریز میں نامزد بھی کیا گیا تھا جس میں بہترین فلم، بہترین ہدایت کار، بہترین اسکور، بہترین ایڈیٹنگ اور بہترین ایڈاپٹڈ اسکرین پلے شامل تھا۔

6. میریکل (2004)

اس فلم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ شاہ رخ خان کی فلم ‘چک دے انڈیا’ اس فلم کا چربہ تھی، فرق صرف اتنا تھا کہ بالی وڈ فلم ایک فرضی کہانی تھی، جب کہ’مریکل’ ایک ایسے واقعے پر مبنی تھی جسے امریکی تاریخ میں اعلی مقام حاصل ہے۔

فلم کی کہانی ایک ایسے امریکی ہاکی کوچ ہرب بروکس (کرٹ رسل) کے گرد گھومتی ہے جو خود تو اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم سے باہر ہوگیا تھا لیکن اس نے بالکل نئی ٹیم کو اولمپک چیمپیئن بنادیا۔ وہ بھی 1980 کے سرمائی اولمپکس میں ایک ایسے مخالف کے سامنے جس سے وہ مسلسل شکست کھا رہے تھے۔

فلم کی سب سے خاص بات اس کے برف پر فلمائے گئے سین ہیں جس میں کبھی کھلاڑی آپس میں لڑے تو کبھی مخالف ٹیم سے، کبھی انہوں نے اپنا تعارف غلط کرایا تو کبھی کوچ کے غصے سے ڈر کر اچھا کھیلے۔

7. ایڈی دی ایگل (2016)

ایک کا خواب تھا اولمپکس کے ’اسکی جمپنگ‘ مقابلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا۔ دوسرے کا مقصد تھا خود کو ایک بار پھر منوانا اور دونوں نے مل کر وہ کر دکھایا جو چھ دہائیوں سے نہیں ہوا تھا۔

‘ایڈی دی ایگل’ مائیکل ایڈورڈز نامی برٹش ایتھلیٹ کی کہانی ہے جس کا سب مذاق اڑاتے تھے لیکن جس نے اپنی محنت اور لگن سے برطانیہ کی اسکی جمپنگ میں نمائندگی کی اور سب کو اپنا گرویدہ بنالیا۔

اس فلم میں ٹیرون ایگرٹن نے مائیکل ایڈورڈز کا کردار بخوبی نبھایا جب کہ وولورین کے کردار سے مقبول ہونے والے اداکار ہیوج جیک مین ان کے کوچ کا بنے جس نے کھیل سے کنارہ کشی اختیار کی ہوئی تھی اور ایڈی کی وجہ سے ہی دوبارہ کھیل کا رخ کیا۔

8. آئی ٹونیا (2017)

اگر ‘آئی ٹونیا’ کو اداکارہ مارگو روبی کی بہترین کارکردگی نہ کہا جائے تو غلط ہوگا۔

اس فلم میں انہوں نے فگر اسکیٹر ٹونیا ہارڈنگ کا کردار اس مہارت سے ادا کیا کہ سب حیران رہ گئے۔

فلم کی کہانی ایک ایسی امریکی ایتھلیٹ کے گرد گھومتی ہے جس کا کیرئیر اس کی غلطیوں کی وجہ سے زوال کاشکار ہوتا ہے۔

دراصل ٹونیا ہارڈنگ پر 90 کی دہائی میں اس وقت عمر بھر کے لیے پابندگی لگی جب انہیں ساتھی کھلاڑی نینسی کیریگن پر حملے میں ملوث پایا گیا۔

مارگو روبی کی جاندار اداکاری، اولمپکس کے آئس رنگ میں ان کی فگر اسکیٹنگ اور معاون اداکارہ ایلیسن جینی کی آسکرز میں کامیابی نے اسے ایک بہترین اسپورٹس فلم کا مقام دلادیا۔

9. رچرڈ جیول (2019)

سن 1996کے اولمپک گیمز میں رچرڈ جیول نامی ایک سیکیورٹی گارڈ نے اپنی حاضر دماغی کی وجہ سے کئی لوگوں کی جان اس وقت بچائی جب اس نے حکام کو صحیح وقت پر بم کی موجودگی کی اطلاع دی۔

اس واقعے کے بعد اسے مقامی ہیرو مانا گیا لیکن جب اس حادثے میں دو ہلاکتیں اور سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے تو امریکی تحقیقاتی ادارے نے واقعے کی پیشگی اطلاع دینے والے ہی سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔

ہیرو سے ولن کا یہ سفر ہدایت کار کلنٹ ایسٹ وڈ نے اس فلم میں بہترین انداز میں پیش کیا اور ان کی اس میں مدد کی اداکار پال والٹر ہاؤزر نے مرکزی کردار بخوبی نبھا کر۔

تفتیشی حکام نے رچرڈ جیول کو بعد میں کلیئر تو کردیا لیکن اس فلم نے بتایا کہ بغیر ثبوت کے میڈیا ٹرائل کا انجام برا ہی ہوتا ہے، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ ہو۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi

Omair Alavi is a highly regarded journalist, critic, and commentator, specializing in news, sports, showbiz, film, blogs, articles, drama, reviews, and PTV drama. With extensive experience and a keen eye for storytelling, he captivates audiences with his insightful analysis and compelling presentations. His expertise and contributions have made him a prominent figure in the media and entertainment industry.