Showbiz

جب ملکۂ برطانیہ نے بیٹے چارلس کی لیڈی ڈیانا سے صلح کی کوشش کی

Written by Omair Alavi

کراچی — 

سن 1952 میں جب الزبتھ دوم تخت نشین ہوئیں تو اس وقت ان کی عمر صرف 25 برس تھی۔ بعد ازاں انہوں نے 70 برس تک برطانیہ پر حکمرانی کی اور اس عرصے میں کئی عروج و زوال دیکھے۔

ملکہ الزبتھ دوم کی زندگی اور حکمرانی پر کئی فلمیں اور ڈرامے بنے جب کہ برطانیہ میں ان پر متعدد کتابیں بھی لکھی گئیں۔ ان کتابوں میں کئی ایسے واقعات کا تذکرہ ہے جس سے شاید بہت سے لوگ لاعلم ہوں۔

ایسے ہی چند واقعات پر نظر ڈالتے ہیں اور جانتے ہیں کہ برطانیہ کی ملکہ کے بار ے میں مؤرخ کیا لکھتے ہیں؟

برطانوی صحافی اینڈریو مورٹن جنہوں نے شہزادی ڈیانا کی زندگی میں ان کی سوانح حیات شائع تھی ان کی ایک اور کتاب ‘والیس ان لو’ کے مطابق اگر الزبتھ کے چچا کنگ ایڈورڈ کو امریکی خاتون والیس سمپسن سے محبت نہ ہوتی تو شاید الزبتھ کبھی ملکہ برطانیہ نہ بن پاتیں۔

اپنی کتاب میں انہوں نے بتایا کہ دو بار طلاق یافتہ خاتون سے شادی اس وقت کے بادشاہ کو مہنگی پڑی اور انہیں بادشاہت سے ہاتھ دھونا پڑا اور انہیں شاہی خاندان، برطانوی حکومت اور چرچ آف انگلینڈ نے ملک بدر کردیا ۔ بعدازاں ان کے چھوٹے بھائی اور الزبتھ کے والد جارج نے ان کی جگہ لی جن کے انتقال کے بعد ان کی بڑی بیٹی الزبتھ ملکہ بن گئیں۔

ایڈورڈ کو بادشاہت چھوڑنے کے بعد ‘ڈیوک آف ونڈسر’کا شاہی ٹائٹل ملا۔ لیکن کئی بار کوشش کے باوجود وہ اپنی اہلیہ کو شاہی ٹائٹل دلوانے میں ناکام رہے جن پر الزام تھا کہ ان کی وجہ سے ایڈورڈ اپنے ہی خاندان سے دور ہو گئے۔

جب مئی 1972 میں ایڈورڈ کی 78ویں سالگرہ سے کچھ روز قبل ملکۂ برطانیہ اور پرنس فلپ پیرس میں سابق بادشاہ سے ملنے گئے تب بھی انہوں نے وہی درخواست کی کہ والیس کو ‘ہر رائل ہائی نیس’ کا ٹائٹل دیا جائے۔

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ملکۂ برطانیہ نے ان کی درخواست رد کردی۔ یہ چچا اور بھتیجی کی آخری ملاقات ثابت ہوئی کیوں کہ 10 روز بعد ڈیوک آف ونڈسر کا انتقال ہوگیا اور انہیں آبائی قبرستان میں دفن کیا گیا۔

جب 1986 میں والیس سمپسن کا انتقال ہوا تو ملکۂ برطانیہ نے انہیں ان کے شوہر کے احاطے میں دفن کیا۔ جو بقول اینڈریو مورٹن کے سابق بادشاہ کی دلی خواہش تھی جو ان کے مرنے کے بعد پوری ہوئی۔

جب ملکہ کے کمرے میں ایک شخص گھس آیا

مصنف بین پملوٹ کی کتاب ‘دی کوئین: الزبتھ اینڈ دی مونارکی’ میں اس واقعے کو بھرپور کوریج دی گئی ہے جس کے بعد ملکہ کی سیکیورٹی پر انگلیاں بھی اٹھائی گئیں اور ان کی جگ ہنسائی بھی ہوئی۔

اس کتاب کے مطابق نو جولائی 1982 کی صبح مائیکل فیگن نامی ایک شخص بکنگھم پیلس کے باغیچے سے ہوتا ہوا ڈرین پائپ سے اوپر چڑھا اور بغیر کسی رکاوٹ کے ملکہ کے کمرے میں جا پہنچا۔

ملکۂ برطانیہ نے بغیر پریشان ہوئے اپنےسیکیورٹی اسٹاف کو طلب کیا جس نے اس شخص کو پولیس کے حوالے کیا۔ تاہم محل میں کام کرنے والے ایک فٹ مین نے بعد میں بتایا کہ اس نے عام طور پر پُرسکون رہنے والی ملکہ کو اس دن بہت غصے میں دیکھا تھا۔

مائیکل فیگن نے بعد میں پولیس کو بتایا کہ وہ اس واقعے سے کچھ روز پہلے بھی بغیر کسی رکاوٹ کے محل میں آ گیا تھا اور ایک کمرے میں موجود بوتل سے ایک گلاس شراب پی تھی۔

اس واقعے کے بعد محل کی سیکیورٹی کو تو مزید سخت کردیا گیا تھا لیکن برطانوی عوام کو یہ پتا چل گیا تھا کہ ملکۂ برطانیہ اور ان کے شوہر پرنس فلپ الگ الگ کمروں میں رہتے جس پر کئی دنوں تک برطانوی اخبارات میں بحث بھی ہوئی۔

ملکۂ برطانیہ کی بیٹے اور بہو کے درمیان صلح کرانے کی کوشش

رابرٹ لیسی کی کتاب ‘دی کوئین: آ لائف ان بریف’ میں پرنس فلپ کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق ملکہ نے اپنی بہو شہزادی ڈیانا کو کئی خطوط لکھ کر بتایا کہ بطور ایک ‘آؤٹ سائڈر’ وہ سمجھ سکتی ہیں کہ شاہی خاندان میں انہیں کن مشکلات کا سامنا ہو رہا ہوگا۔

ان خطوط کے جواب میں ڈیانا نے ملکہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔ لیکن جب ان کے دوستوں نے پرنس فلپ سے دریافت کیا کہ بجائے خطوط لکھنے کے انہوں نے اپنی بہو سے آمنے سامنے بات کیوں نہیں کی؟ تو انہوں نے ایک قصہ سنایا۔

اس کتاب میں درج ہے کہ جب ملکۂ برطانیہ اور پرنس فلپ نے شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کو ساتھ بٹھا کر ان کے درمیان صلح کرانے کی پہلی اور آخری کوشش کی تو ڈیانا کا رو رو کر برا حال ہوگیا تھا۔ جب کہ چارلس نے کچھ بھی کہنے سے اس لیے انکار کیا کیوں کہ ان کے خیال میں اگلے روز سب کچھ اخبار میں چھپ جائے گا۔

ملکۂ برطانیہ کو جب انکم ٹیکس دینے پر مجبور کیا

بین پملوٹ کی کتاب ‘دی کوئین: الزبتھ اینڈ دی مونارکی’میں درج ہے کہ 90 کی دہائی تک شاہی خاندان کے افراد انکم ٹیکس ادا نہیں کیا کرتے تھے۔ لیکن 1992 میں ان کی رہائش گاہ ‘ ونڈسر کاسل’ میں لگنے والی آگ نے انہیں مجبور کیا کہ وہ بھی عوام کی طرح انکم ٹیکس دیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ برطانوی اخبارات نے اس وقت شاہی خاندان کے خلاف آواز اٹھائی جب انہیں معلوم ہوا کہ شاہی محل کی مرمت کی قیمت کا جو تعین کیا جارہا ہے وہ محل کی انشورنس نہ ہونے کی صورت میں حکومت بھرے گی۔

اگر یہ رقم کم ہوتی تو ٹھیک تھا لیکن جو تخمینہ لگایا گیا تھا اس کے مطابق محل کی مرمت پر 20 سے 40 ملین پاؤنڈز کا خرچہ آنا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب شاہی خاندان کی مقبولت شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے جھگڑے کی وجہ سے پہلے ہی کم ہورہی تھی اور حکومتِ وقت اور میڈیا کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا تھا۔

اس احتجاج کے بعد ملکۂ برطانیہ اور شہزادہ چارلس انکم ٹیکس دینے پر رضامند تو ہوئےلیکن شہزادہ چارلس کے ایک مشیر نے بعد میں کہا کہ معاملے کو ٹھیک طرح سے ہینڈل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے لگ رہا ہے کہ شاہی خاندان کو ایک ‘ٹیبلوئڈ’ کی مہم نے ٹیکس دینے پر مجبور کیا۔

ملکۂ برطانیہ شہزادی ڈیانا کی تعزیت کرنے والوں سے ملیں

اکتیس اگست 1997 کو جب شہزادی ڈیانا ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوئیں تو برطانوی عوام کی نظریں ان کی ساس یعنی ملکۂ برطانیہ پر مرکوز تھیں۔جن کی پہلی کوشش تھی کہ ڈیانا کے بیٹوں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کو میڈیا سے دور رکھا جائے۔

رابرٹ لیسی کی کتاب ‘دی کوئین: آ لائف ان بریف’ نے ڈیانا کی موت کے بعد کے وقت کو بیان کرتے ہوئے لکھا کہ جب نہ برطانوی پرچم سرنگوں ہوا اور نہ ہی شاہی خاندان کے کسی فرد نے میڈیا کا سامنا کیا تو عوام کا غم و غصہ بڑھنے لگا۔

ایسے میں اپنے مشیروں کے مشورے کے بعد جب ملکۂ برطانیہ پہلی مرتبہ ستمبر کو بکنگھم پیلس پہنچیں تو باہر انہوں نے اُن لوگوں سے ملاقات کی جو ڈیانا کی یاد میں گلدستے رکھنے آئےتھے۔ جب ایک لڑکی نے ملکۂ برطانیہ کو گلاب کا پھول پیش کرنا چاہا تو ملکہ نے بے ساختہ کہا کہ اس پھول کو بھی وہیں رکھ دیں جہاں باقی پھول پڑے ہیں۔

اس پر اس لڑکی نے جواب دیا کہ یہ پھول آپ کے لیے ہیں۔ یوں ملکہ اور وہ عوام جو شاہی خاندان سے ناراض تھی اپنی ناراضی بھول کر تالی بجانے پر مجبور ہوگئے۔

اس کتاب میں یہ بھی درج ہے کہ اسی روز ملکۂ برطانیہ کے ٹی وی پر لائیو خطاب نے عوام کے دل جیت لیے تھے۔ ان کی تقریر میں بطور ایک دادی کے جو جذبات موجود تھے، اس نے عوام کا غم و غصہ ختم کرنے میں مدد کی۔

ملکہ نے روس کا دورہ کرنے کے لیے 42 برس انتظار کیوں کیا؟

سن 1952 میں ملکۂ برطانیہ بننے والی الزبتھ دوم کو روس کا دورہ کرنے کے لیے 42 برس انتظار کرنا پڑا۔ اور اس کا تعلق کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ روس پر اس جماعت کی حکومت کا تھا جنہوں نے ان کے کزن زار نکولس دوم اور ان کے خاندان کے افراد کو قتل کیا تھا۔

رابرٹ لیسی کی کتاب ‘دی کوئین: آ لائف ان بریف’ میں درج ہے کہ برطانوی شاہی خاندان نے اس وقت تک روس کا دورہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جب تک وہاں بولشیویکس کی حکومت تھی۔ کیوں کہ ولادیمیر لینن کے حامیوں ہی نے 1918 میں نکولس دوم سمیت شاہی خاندان ‘رومانووز’ کے زیادہ تر افراد کو بہیمانہ انداز میں مار ڈالاتھا۔

سن 1991 میں جب سوویت یونین کا خاتمہ ہوا اور روس میں جمہوری حکومت کا قیام ہوا تب ہی ملکۂ برطانیہ نے روس جانے کا فیصلہ کیا۔اس دورے پر روسی صدر بوریس یلسن نے آخری زار نکولس اور ان کے خاندان والوں کی نایاب تصاویر پرنس فلپ کے حوالے کیں، جو ان کے بھی رشتہ دار تھے۔

ملکۂ برطانیہ اپنے ساتھ روسی صدر کی اہلیہ نینا کے لیے بکنگھم پیلس کے گارڈن سے بہترین پھولوں کے بیج لے کر گئی تھیں جن کو دیکھ کر بوریس یلسن سے ان کی بیوی نے کہا تھاکہ ‘اب ہم بھی ملکہ کے گارڈن کے پھول اپنے ہاں اُگا سکتے ہیں۔’

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi