Drama Reviews

انور مقصود کے ڈرامے ‘ساڑھے 14 اگست’ میں تبدیلیاں؛ کیا شائقین مطمئن ہوسکے؟

Written by Omair Alavi

کراچی — 

معروف پلے رائٹر انور مقصود کا کھیل ‘ساڑھے 14 اگست’ گزشتہ ایک ماہ سے آرٹس کونسل کراچی میں جاری ہے۔ یہ انور مقصود کی اگست سیریز’ کا تیسرا اور آخری کھیل ہے۔ اس سے قبل ‘پونے 14 اگست’ اور ‘سوا 14 اگست’ پیش کیے جاچکے ہیں۔

‘پونے 14 اگست’ آج سے دس برس قبل پیش کیا گیا تھا جس کی کہانی بانی پاکستان محمد علی جناح ، علامہ اقبال اور مولانا شوکت علی کے گرد گھومتی تھی۔جب کہ ‘سوا 14 اگست’ کچھ عرصے بعد ہی پیش کیا گیا جس میں محمد علی جناح کی ملاقات سابق صدر جنرل ضیاء الحق اور سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو سے ہوتی ہے۔

سیریز کے تیسرے اور آخری کھیل میں محمد علی جناح اور بھارتی رہنما موہن داس کرم چند گاندھی کے ساتھ پاکستان اور بھارت کے چند حصوں میں وقت گزارتے ہیں اور انہیں آزاد وطن کے شہریوں اور ان کی ترجیحات دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔

کھیل کے گزشتہ دونوں حصوں کے دوران اگر ناظرین کے چہروں پر مسکراہٹ آتی ہے تو دوسرے ہی لمحے ان کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں کیوں کہ ان دونوں ڈراموں میں جس طرح پاکستان کے حالات بیان کیے گئے وہ دیکھنے والوں کو سوچنے پر مجبور کرتے تھے۔

اس کے برعکس ‘ساڑھے 14 اگست’ میں طنز و مزاح کا عنصر زیادہ ہے۔ ‘پونے 14 اگست’ کی طرح اس میں پاکستان کی سیاست کے کئی اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا ہے جس میں ملک میں طویل آمریت اور سیاسی عدم استحکام شامل ہیں۔

‘ساڑھے 14 اگست’ میں کشمیر کی صورتِ حال پر تو بات ہوئی لیکن اس کے بعد ہندوستان میں اقلیتیوں کے کیس کو جس انداز میں پیش کیا گیا وہ متاثر کن نہ تھا۔

انور مقصود کا یہ کھیل ‘اگست سیریز’کے دیگر ڈراموں کے مقابلے میں کمزور کیوں؟

اس کھیل کے مکالمے زیادہ متاثر کن نہیں تھے جنہیں سن کر بعض جگہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے یہ انور مقصود کے بجائے کسی اور فرد نے لکھے ہیں۔ ڈرامے کے ایک ایکٹ کا ‘آئٹم سانگ ‘ کے گرد گھومنا زیادہ تر شائقین کو پسند نہیں آیا اور نہ ہی اس کا گانا ‘آجا جانی پان کھلا دے دیکھنے والوں کو متاثر کر سکا ہے۔

دو گھنٹے تک جاری رہنے والے ڈرامے کے کئی مکالموں پر اعتراض اٹھایا جاسکتا ہے جس میں محمد علی جناح کی ایک بھارتی منتری سے بات چیت ، گاندھی کی بھارتی وزیرِاعظم کے مجسمے سے گفتگو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی اہلیہ کے بارے میں دونوں افراد کے خیالات قابلِ ذکر ہیں۔

اس کے علاوہ گاندھی کو مختلف اوقات میں ڈانس کرتا دکھانا، دوسروں کا ان کے کپڑوں کا مذاق اڑانا اور گاندھی کا محمد علی جناح کو ‘جینا جینا’ کہنا بھی ڈرامے کو کمزور کرتا ہے۔

ڈرامے کے دوران محمد علی جناح کبھی گاندھی کو مہاتما، کبھی موہن داس تو کبھی گاندھی جی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں تو گاندھی بھی کہیں انہیں محمد علی، کہیں قائد اور کہیں جناح کہتے ہیں۔

ڈرامے میں تقریبا ڈھائی سو سے زائد اداکاروں کو کاسٹ کا حصہ بناکر اسے امریکی تھیٹر براڈوے کا انداز دینے کی کوشش کی گئی۔ ہر ایکٹ کے اختتام پر یہ تمام اداکار کسی نہ کسی طرح اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔

ڈرامے کے سیٹ تو اچھے تھے لیکن نیلوفر نامی لڑکی کو ایک کردار بنا کر پیش کرنا، آئٹم سانگ میں ڈانسر کا گاندھی کے ہمراہ انگلینڈ جانا اور آخر میں کیس کا اختتام، ان سب کے بغیر بھی ڈرامہ آگے بڑھایا جا سکتا تھا۔

سابق برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے بجائے اگر کھیل محمد علی جناح اور گاندھی سے ہی شروع کیا جاتا تو یہ بہتر تھا کیوں کہ 14 اگست 1947 کو چرچل وزارتِ عظمی کے عہدے پر فائز نہیں تھے۔

ایک ماہ کے دوران متعدد تبدیلیاں، کیا شائقین مطمئن ہوسکے؟

‘اگست سیریز’کے پہلے ڈرامے میں محمد علی جناح کا کردار عمر سلطان نے ادا کیا تھا جب کہ دوسرے ڈرامے میں زاہد احمد نے یہ کردار نبھا کر شائقین سے داد سمیٹی۔ اس بار محمد علی جناح کا کردار ہدایت کار داور محمود نے ادا کیا لیکن آغاز میں اداکار عمر قاضی محمد علی جناح بن رہے تھے جنہیں منفی تجزیوں کے بعد ڈرامے سے ہٹا دیا گیا۔

داور محمود جو اس سیریز کو پروڈیوس کرنے والی ‘کاپی کیٹس’ پروڈکشن کے روح رواں ہیں, اس سے قبل بھی عمر سلطان اور زاہد احمد کی غیر موجودگی میں محمد علی جناح بن چکے ہیں۔ اس بار بھی ان کی اداکاری نے شائقین کو متاثر کیا۔ تاہم ان کی انٹری اس ڈرامے کا واحد پہلو نہیں جسے تبدیل کیا گیا ہو۔

سولہ اگست سے کراچی میں پیش کیے جانے والے ‘ساڑھے چودہ اگست’ کے پہلے شو میں بہت کچھ ایسا تھا جسے بعد میں نظرثانی کرنے کے بعد ہٹا دیا گیا۔ جیسے محمد علی جناح کے کردار کابھارت کے زیرِ انتظام کشمیر جاکر عسکریت پسندوں کو دیکھ کر چھپ جانا، انگلینڈ میں چند نوجوانوں کو ڈانس کرتا دیکھ کر انہی کی طرح ڈانس کرنا اور آخر میں گاندھی سے مکالمہ بازی، جس میں دونوں نے ایک دوسرے کی عظمت کو تسلیم کیا۔

ڈرامے کے آخر میں محمد علی جناح حاضرین سے مخاطب ہوکر ایک تقریر کرتے ہیں جو پہلے بھی انگریزی میں تھی اور تبدیلیوں کے بعد بھی انگریزی میں ہی کی گئی۔ اس تقریر کا حاضرین پر وہ اثر نہیں پڑ رہا جتنا اگر یہ تقریر اردو زبان میں ہوتی۔

ڈرامے میں آئٹم سانگ کی موجودگی سب سے کمزور پہلو ہے جس کے گرد گھومنے والے مکالموں کو کافی حد تک کم کردیا گیا ہے۔ اس کی موجودگی پر مصنف انور مقصود پہلے ہی ناظرین سے معافی مانگ چکے ہیں۔

ان تمام تبدیلیوں کے باوجود اداکار ساجد حسن جو اس ڈرامے میں ایک سندھی کردار ادا کررہے ہیں، بدستور اس کا حصہ ہونے پر بہت خوش ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ساجد حسن نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ملک بھر میں سیلاب نے تباہی مچائی ہوئی ہے، ایک تھیٹر پلےکا ہاؤس فل جانا ہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے اوران حالات میں بھی لوگوں کا اس کھیل کو دیکھ کر پسند کرنا قابل تعریف ہے۔

ساجد حسن سمجھتے ہیں کہ ایک ‘سمبولک ‘ (علامتی) ڈرامہ ہونے کی وجہ سے ‘ساڑھے 14 اگست’ وقت کی ضرورت ہے۔

ان کے بقول “وہ تھیٹر سے خود کو دور نہیں رکھنا چاہتے کیوں کہ یہیں سے نئے اور اچھے اداکار سامنے آتے ہیں جن کو سکھانے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

‘ساڑھے 14 اگست میں گاندھی بننے کے لیے 14 کلو وزن کم کیا’

‘اگست سیریز’ کے بقیہ ڈراموں کی طرح اس ڈرامے میں محمد علی جناح کا کردار تو موجود ہے لیکن جس کردار نے پہلے ہی شو سے شائقین کا دل جیت لیا تھا وہ موہن داس کرم چند گاندھی کا تھا جسے اداکار تنویر گل نے ادا کیا۔

گاندھی کو ڈرامے میں ایک نئے انداز میں پیش کیا گیا جس میں وہ صرف بظاہر سنجیدہ نظر آتے ہیں لیکن ان کی حرکات و سکنات قطعاً سنجیدہ نہیں ہوتیں۔

ڈرامے میں بھارت کے ایک بڑے لیڈر کو مزاحیہ کردار بناکر دکھایا گیا ہے جو درست نہیں۔ کبھی وہ مینار پاکستان پر ہیرا منڈی سے آئی ہوئی لڑکی سے فری ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی دہلی میں آئٹم نمبر کی شوٹنگ کا حصہ بن جاتے ہیں۔

ڈرامے میں ایک وقت میں وہ موجودہ بھارتی وزیر اعظم کے مجسمے کی بے حرمتی بھی کرتے ہیں۔ان کے برعکس ڈرامے میں محمد علی جناح کا کردار سنجیدہ دکھایا گیا ہے اور بار بار جناح کی وکالت کی طرف نشاندہی کی گئی۔ لیکن ڈرامے کو لکھتے وقت شاید یہ نہیں سوچا گیا کہ گاندھی بھی ایک وکیل تھے جو برصغیر سے جنوبی افریقہ ایک کیس کے سلسلے میں ہی گئے تھے۔

اپنی بہترین اداکاری کی وجہ سے گاندھی کا کردار نبھانے والے اداکار تنویرگل شو کے بعد ہر طرف سے داد سمیٹنے میں مصروف تھے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کردار کو نبھانے کے لیے انہوں نے بہت محنت کی۔

ان کے بقول “جب ڈرامے کی ریہرسل شروع ہوئیں تو اس وقت ان کا وزن 74 کلو گرام تھا لیکن پھرہدایت کار نے انہیں گاندھی جیسا دکھنے کے لیے وزن کم کرنے کا کہا، اور چوں کہ وہ کردار کی ڈیمانڈ تھی تو اس لیے انہوں نے تین مہینے میں 14 کلو وزن کم کیا اور اس وقت خود کو 58 کلوگرام پر روکا ہوا ہے۔”

تنویر گل جو اس سے قبل کاپی کیٹس پروڈکشن کے ‘کیوں نکالا’ کا بھی حصہ تھے۔ انہوں نےبتایا کہ گاندھی جیسا نظر آنے سے زیادہ بڑا چیلنج ان کی طرح چلنا اور بات کرنا تھا۔ جس میں ان کی مدد گاندھی کی ویڈیوز نے کیں۔

امکان ہے کہ ‘ساڑھے 14 اگست’ کراچی میں 15 نومبر تک جاری رہے گا جس کے بعد اسے لاہور اور اسلام آباد لے جایا جائے گاجب کہ ہدایت کار اسے ملک سے باہر بھی پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi