Sports

گھٹنے کی انجری کے باعث شاہین کی ‘پرواز’ کو بریک لگ گئی، ایشیا کپ سے باہر

Written by Omair Alavi

کراچی — 

پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسٹار بالر شاہین شاہ آفریدی گھٹنے کی انجری کے باعث ایشیا کپ سے باہر ہو گئے ہیں۔ شاہین شاہ آفریدی کے اسکواڈ سے باہر ہونے کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ تینوں فارمیٹس کے لیے مسلسل کرکٹ کھیلنے کے باعث شاہین شاہ آفریدی انجری کا شکار ہوئے۔

بائیں ہاتھ سے بالنگ کرنے والے پیسر کو پی سی بی میڈیکل ایڈوائزری کمیٹی اور آزاد ماہرین نے تازہ ترین اسکینز اور رپورٹس کی روشنی میں چار سے چھ ہفتے آرام کا مشورہ دیا ہے۔

ڈاکٹرز کے مشورے کے بعد ایشیا کپ میں 22 سالہ شاہین آفریدی کی شرکت کا کوئی امکان نہیں ، اس وقت وہ قومی ٹیم کے ساتھ نیدرلینڈز میں موجود تو ہیں لیکن اب انگلینڈ کے خلاف اگلے ماہ ہونے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی ان کی شرکت مشکوک ہوگئی ہے ۔

ممکنہ طور پر وہ اکتوبر میں نیوزی لینڈ میں ہونے والی سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے سلیکشن کے اہل ہوں گے، بشرطیکہ وہ فٹ ہوجائیں، اگر وہ صحت یات ہوگئے تو اکتوبر میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کا حصہ ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ‘سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے دوران گھٹنے کی انجری کا شکار ہونے والے شاہین آفریدی کو مکمل فٹنس حاصل کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔ بورڈ کا اسپورٹس اینڈ ایکسرسائز ڈپارٹمنٹ ان کی جلد واپسی کے لیے ان کے ساتھ کام کرے گا تاکہ وہ ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کا حصہ بن سکیں۔

بورڈ جلد ہی ایشیا کپ کے لیے ان کے متبادل کے نام کا اعلان کرے گا۔کرکٹ مبصرین کے مطابق ان کی غیر موجودگی میں پاکستان کے پیس اٹیک کو تجربہ کار بالر کی ضرورت پڑے گی اور اس وقت تجربہ صرف حسن علی کے پاس ہے جو ناقص کارکردگی کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہیں۔


شاہین آفریدی نےپاکستان کے لیے اپنا پہلا میچ اپریل 2018 میں کھیلا تھا اور اب تک 25 ٹیسٹ میں 99، 32 ون ڈے انٹرنیشنل میں 62 اور 40 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل مقابلوں میں 47 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرچکے ہیں۔

ان کے مداح تو ان کے زخمی ہونے پر افسردہ ہیں ہی، مبصرین ان کی انجری کا ذمہ دار کرکٹ بورڈ کو قرار دے رہے ہیں۔نام ور اسپورٹس جرنلسٹ سلیم خالق کے بقول ایشیا کپ جیسے اہم ٹورنامنٹ سے شاہین شاہ آفریدی کے باہر ہونے کی تمام ذمہ داری پی سی بی پر عائد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سمیت کئی صحافی شاہین شاہ آفریدی کو مسلسل میچز کھلانے کی نشان دہی کرتے رہے ہیں لیکن بورڈ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا اور نقصان پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہو گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ “ہم لوگ کب سے اس بات کی نشان دہی کررہے ہیں کہ شاہین آفریدی بالنگ مشین نہیں انسان ہے، انہیں انسانوں کی طرح استعمال کرنا چاہیے۔اگر وہ کہہ بھی رہا ہے کہ وہ ہر میچ کھیلنا چاہتا ہے تو بورڈ کو اسے سمجھا کر بریک دینا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوا۔’

خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ مؤقف رہا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی کو چھوٹی ٹیموں کے خلاف میچز میں آرام دیا جاتا رہا ہے۔

سلیم خالق سمجھتے ہیں کہ شاہین آفریدی کی غیر موجودگی میں پاکستان کا بالنگ اٹیک کمزور ہوگا، ایشیا کپ جیسے ایونٹ میں ان کے نہ ہونے سے پاکستا ن کی کامیابی کے امکانات کم ہوں گے۔

‘اُن کے بقول گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان کی شان دار کارکردگی کے پیچھے شاہین آفریدی کی بالنگ کا کمال تھا اب ایشیا کپ انہی گراؤنڈز پر کھیلا جائے گا لیکن پاکستان ٹیم میں شاہین آفریدی نہیں ہوں گے جو ٹاپ آرڈر کو جلد آؤٹ کرنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ‘

‘وہی ہوا جس کا ڈر تھا ، اہم ٹورنامنٹ میں پاکستان اب اہم ترین کھلاڑی کے بغیر شرکت کرے گا’

سابق ٹیسٹ کرکٹر و آل راؤنڈر یاسر عرفات کے خیال میں وہی ہو جس کا ڈر تھا اور اب پاکستان کو اہم ٹورنامنٹ میں اہم ترین کھلاڑی کے بغیر شرکت کرنا پڑے گی، وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی کو دھیان سے استعمال کرنے کے مشوروں کے باوجود بورڈ نے ان کا ورک لوڈ کم نہیں کیا، جس کی وجہ سے اب وہ ایشیا کپ میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔

‘شاہین شاہ آفریدی کا ایشیا کپ سے باہر ہوجانا پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے ایک بری خبر ہے، کیونکہ جس ٹورنامنٹ میں پاکستان کو شرکت کرنا ہے وہاں بھارت سے اس کے ایک سے زائد میچز ہیں۔ ایک اتنے اہم کھلاڑی کا اہم ایونٹ سے پہلے زخمی ہو کر باہر ہوجانا، اس سے پوری ٹیم کی تیاریوں پر بھی فرق پڑے گا۔’

بقول یاسر عرفات، وہ اور کئی سابق کھلاڑی کئی بار بورڈ سے درخواست کرچکےہیں کہ شاہین آفریدی جیسے اہم کھلاڑی کا، جو پاکستان کے لئے تینوں فارمیٹ کھیلتا ہے، خیال رکھنے کی ضرورت ہے، لیکن بورڈ نےانہیں ملک کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلنے کی اجازت دے دی۔

‘بورڈ نے کسی بھی سابق کرکٹر یا مبصر کی بات نہ مانتے ہوئے شاہین شاہ آفریدی کو نہ صرف انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی بلکہ پاکستان سپر لیگ میں انہیں کپتانی کرنے کی بھی اجازت دی جس کا اثر ان کی صحت پر پڑا، کھلاڑی صرف گراؤنڈ میں کھیل کر ہی زخمی نہیں ہوسکتے، مسلسل سفر بھی انہیں تھکا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے، اور شاہین شاہ آفریدی کے سلسلے میں ایسا ہی ہوا۔’

یاسر عرفات سمجھتے ہیں کہ اب پاکستان کو ایشیا کپ میں حارث رؤوف، نسیم شاہ،شاہنواز داہانی اور محمد وسیم جونئیر کے ساتھ ساتھ حسن علی کے ہمراہ جانا پڑے گا کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں۔انہوں نے پی سی کے ان حکام سے بھی سوال کیا جو شاہین شاہ آفریدی کی فٹنس کو باریک بینی سے جایزہ لینے کا پریس کانفرنس میں اعلان کرتے تھے۔

‘جب جب پریس کانفرنس میں بورڈ کے عہدیداروں سے شاہین آفریدی کے ورک لوڈ پر سوال کیا ان کا جواب یہی ہوتا تھا کہ وہ ان کی فٹنس کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں، اگر ایسا ہوتا تو انہیں کاونٹی کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاتی، کیونکہ آف سیزن ہی وہ وقت ہوتا ہے جب کھلاڑی اپنی معمولی انجری سے چھٹکارا پاتے ہیں اور اپنی اسکلز کو بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔’

بھارتی اسپورٹس تجزیہ کار وکرانت گپتا نے ٹویٹ کی کہ شاہین شاہ کہ ایشیا کپ سے باہر ہونے سے دبئی میں پاک، بھارت ٹاکروں کا مزا کرکرا ہو گیا ہے ۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں 28 اگست کو ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی میں مدِ مقابل ہوں گی جب کہ ایونٹ کے دوران دیگر مرحلوں میں بھی مزید دو پاک، بھارت ٹاکروں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایشیا کپ میں پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان کے علاوہ ہانگ کانگ، سنگاپور، کویت اور متحدہ عرب امارات میں سے ایک ٹیم شامل ہو گی۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi