اسپورٹس

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل: شبمن گل کے آؤٹ پر تنازع

Written by ceditor

کراچی — آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں ہفتے کو اس وقت دلچسپ صورتِ حال پیدا ہوگئی جب آسٹریلوی بالر کیمرون گرین بالنگ کرنے آئےاور کراؤڈ میں ‘چیٹر چیٹر’ کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔

کیمرون گرین کے خلاف اسٹیڈیم میں موجود بھارتی شائقین کی اس حرکت کے پیچھے شبمن گل کا وہ کیچ تھا جو آسٹریلوی کھلاڑی نے سلپ میں لیا تھا۔ اس کیچ کو تھرڈ امپائر نے آؤٹ قرار دے کر نہ صرف شائقین کو حیران کیا بلکہ دوسرے اینڈ پر موجود بھارتی کپتان روہت شرما نے بھی اس کے خلاف آواز اٹھائی۔

کھیل کے چوتھے دن چائے کے وقفے سے قبل شبمن گل کے آؤٹ نے اُس ‘سافٹ سگنل’ کی اہمیت واضح کی جسے گزشتہ ماہ ہی آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی نے ختم کردیا تھا۔

سافٹ سگنل اس اشارے کو کہتے تھے جو آن فیلڈ امپائر تھرڈ امپائر کو رجوع کرتے ہوئے دیتے تھے جس سے ٹی وی امپائر کی مدد ہوجاتی تھی لیکن یکم جون سے کرکٹ کے قوانین میں تبدیلی کی وجہ سے سافٹ سگنل کو ختم کردیا گیا، جس کے بعد شبمن گل کا آؤٹ پہلے تنازع کے طور پر سامنے آیا ہے۔

تھرڈ امپائر نے نہ صرف کیچ کو مختلف زاویوں سے دیکھ کر یہ فیصلہ کیا بلکہ انہوں نے سلو موشن اور رئیل ٹائم میں بھی کئی بار اس کا مشاہدہ کرنے کے بعد گل کو آؤٹ قرار دیا۔

آن فیلڈ امپائرز کی جانب سے کسی بھی قسم کا اشارہ نہ ملنے کی صورت میں ٹی وی امپائر نے وہی کیا جو اسے ٹھیک لگا لیکن سابق کرکٹرز نے اس فیصلے پر انگلینڈ کے رچرڈ کیٹل برو کو آڑھے ہاتھوں لیا۔

پہلی نظر میں تو کمنٹری کرنے والے سابق کھلاڑیوں کو بھی لگ رہا تھا جیسے کہ کیمرون گرین نے میچ میں دوسری مرتبہ شاندار کیچ تھاما، لیکن جب بعد میں سلو موشن میں اسے دکھایا گیا تو بھارتی سابق کھلاڑی روی شاستری نے اس کو افسوس ناک قرار دیا۔

کمنٹری باکس میں موجود سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ کے بقول کیچ کو اس لیے درست تسلیم کیا گیا کیوں کہ قوانین کے مطابق کیمرون گرین کی انگلیاں بال تھامنے سے لے کر آخر تک گیند کے نیچے رہیں، جب کہ روی شاستری کے بقول شک کا فائدہ دے کر شبمن گل کو ناٹ آؤٹ قرار دیا جاسکتا تھا۔

سابق بھارتی کوچ نے مزاحاً یہ بھی کہا کہ اگر شبمن گل کی جگہ آسٹریلیا کے اسٹیو اسمتھ بلے بازی کررہے ہوتے تو امپائرز شک کا فائدہ دے کر انہیں ناٹ آؤٹ قرار دیتے۔

بلے باز کو شک کا فائدہ نہ دینے پر تعجب کا اظہار

کیمرون گرین کے اس کیچ کے خلاف صرف روی شاستری ہی نے آواز نہیں اٹھائی، کئی اور سابق کھلاڑیوں نے بھی اس کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

سابق پاکستانی کپتان راشد لطیف نے تو اس کیچ کے بارے میں متعدد ٹوئیٹس کیں، پہلی ٹوئٹ میں انہوں نے کیمرون گرین کے کیچ کی وہ تصویر شیئر کی جس کو دیکھ کر تھرڈ امپائر نے اپنا حتمی فیصلہ دیا تھا۔

راشد لطیف کا کہنا تھا کہ واضح ثبوت کی غیر موجودگی میں امپائر کا فیصلہ بلے باز کے حق میں جانا چاہیے تھا۔

اس کے فورا بعد ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے اسی کیچ کی کلوز اپ میں تصاویر شئیر کیں جن سے بظاہر یہی لگ رہا تھا کہ زمین کو ٹچ کرنے کی وجہ سے اس کیچ کو درست قرار نہیں دینا چاہئے تھا۔

سابق پاکستانی وکٹ کیپر کامران اکمل کے خیال میں کیچ کلئیر نہیں تھا جس کی وجہ سے امپائر کو ناٹ آؤٹ کا فیصلہ دینا چاہیے تھا۔

معروف بھارتی کمنٹیٹر ہارشا بھوگلے جو اس میچ میں کمنٹری کے لیے اوول ہی میں موجود ہیں، سوشل میڈیا پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیمرون گرین کا کیچ لینے کی کوشش عمدہ ضرور تھی لیکن ایسا کرنے کے بعد ہی ان کا ہاتھ مڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے شبمن گل کو دکھ ہوا۔

لیکن سب سے اہم ٹوئیٹ صحافی روری ڈینس نے کیا، انہوں نے کرکٹ کے وہ قوانین شئیر کیے جن کو پڑھ کر صاف لگنے لگتا ہے کہ تھرڈ امپائر نے یہ فیصلہ کیوں دیا اور اسے درست کیوں تسلیم کرنا چاہئے۔

انہوں نے کرکٹ قوانین کے قانون نمبر 33 کی شق تین میں صاف لکھا ہے کہ کیچ تھامنے کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب گیند فیلڈر کے ہاتھ میں آتی ہے اور اگر آخر تک کھلاڑی کا بال اور اپنے موومنٹ پر کنٹرول رہتا ہے، تو کیچ کو درست تسلیم کیا جائے گا۔

مبصرین کی رائے بھی اس کیچ کے حوالے سے ملی جلی ہے، بھارتی کرکٹ صحافی جتن کھاندیوال کے بقول کسی بھی زاویے سے یہ کیچ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا، فیلڈر کی انگلیوں کے درمیان جو گیپ تھا اس نے گراؤنڈ کو چھوا جس کی وجہ سے بلے باز کو شک کا فائدہ دینا چاہیے تھا۔

عمیر علوی – وائس آف امریکہ

About the author

ceditor