Showbiz

پاکستان کے قومی ترانے کی نئی ریکارڈنگ میں سینئر موسیقار کیا کمی محسوس کر رہے ہیں؟

Written by Omair Alavi

ترانے کی نئی ریکارڈنگ میں پاکستان کے ہر علاقے سے مدعو کیے گئے گلوکار حصہ بنے جس میں عارف لوہار، فریحہ پرویز ، ٹینا ثانی، احمد جہانزیب، زیب بنگش، فاخرمحمود ، گوہر ممتاز، اور عمیر جسوال اور دیگر شامل ہیں۔

ویب ڈیسک — 

حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک کی آزادی کے 75 برس مکمل ہونے پر قومی ترانے کی نئی ریکارڈنگ جاری کی گئی جسے اکثریت نے پسند کیا لیکن کچھ نے اس پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔

نئے ریکارڈ شدہ ترانے میں دھن اور الفاظ تو وہی رہے البتہ اوریجنل قومی ترانے کی نسبت اس بار گلوکاروں کی تعداد دس گنا زیادہ تھی۔سن 1954 میں ریکارڈ ہونے والے’پاک سر زمین’ میں معروف پلے بیک سنگر احمد رشدی سمیت 11 گلوکار وں کی آواز شامل تھی جب کہ اس بار ملک بھر سے 155 گلوکاروں کو ترانہ گانے کا موقع دیا گیا۔

ترانے کی نئی ریکارڈنگ میں پاکستان کے ہر علاقے سے مدعو کیے گئے گلوکار حصہ بنے جس میں ٹینا ثانی، عارف لوہار، فریحہ پرویز ، احمد جہانزیب، زیب بنگش، فاخرمحمود ، گوہر ممتاز، عمیر جسوال اور دیگر شامل ہیں۔جب کہ نئے ترانے میں 48 موسیقار اور چھ بینڈ ماسٹرز نبھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے قومی ترانے ‘پاک سر زمین’ کی دھن احمد جی چھاگلا نے ترتیب دی تھی جس کی منظوری سن 1949 میں ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے دی تھی۔ ترانے کے بول لیاقت علی خان کے انتقال کے بعد شاعر ابو الاثر حفیظ جالندھری نے لکھے تھے۔

یہ قومی ترانہ 1954 میں جاری ہوا تھا اور تب سے لے کر اب تک یہ سرکاری سطح پر استعمال ہوتا رہا ہے۔

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں قومی ترانے کی دوبارہ ریکارڈنگ کی منظوری دی گئی تھی اور اس میں ملک بھر سے ثقافتی، علاقائی اور نسلی پسِ منظر سے تعلق رکھنے والے گلوکاروں کو شامل کرکے اسے 13 ماہ میں تیار کیا گیا۔

ترانہ منظور کرنے والی کمیٹی کی سربراہی سابق سینیٹر و فلم ساز جاوید جبار نے کی جب کہ موسیقار ارشد محمود، میوزک بینڈ ‘وائٹل سائنز ‘کے روحیل حیات اور فلم پروڈیوسر ستیش آنند کے ساتھ ساتھ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کے استاد نفیس احمد اور آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر پروڈکشن بریگیڈیئر عمران نقوی اس کمیٹی کا حصہ تھے۔

پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ملی نغمے کمپوز کرنے والے موسیقار سہیل رعنا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ترانے کی نئی ریکارڈنگ میں چند کمیوں کی نشاندہی کی۔

انہوں نے کہا کہ اس ترانے میں زیادہ گلوکار تو ہیں لیکن فائنل ریکارڈنگ کے وقت اگر ایک دو باتوں کا خاص خیال رکھ لیا جاتا تو بہت بہتر ہوتا۔

سہیل رعنا کے بقول “میرے حساب سے اس نئی ریکارڈنگ کی مِکسنگ کافی دھیان سے ہونا چاہیے تھی جس کی وجہ سے فائنل ورژن میں چند اہم چیزوں کی کمی محسوس کی گئی۔ مثلاً ‘پرچم ستارہ و ہلال’ کے بعد ساز ٹرمپیٹ کے ذریعے جو فین فیئر کا ایفیکٹ آنا چاہیے تھا وہ خاصا دبا ہوا ہے۔ یہ ایفیکٹ اس لیے اہم ہے کیوں کہ اس سے سننے والے کا سینہ چوڑا ہوجاتا ہےلیکن یہاں وہ واضح نہ ہونے کی وجہ سے کم سنائی دیتا ہے۔”

‘جیوے پاکستان’، ‘سوہنی دھرتی’، ‘میں بھی پاکستان ہوں’ اور ‘یہ دیس ہمارا ہے’ جیسے ملی نغمے کمپوز کرنے والے سہیل رعنا کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے قومی ترانے کی نئی ریکارڈنگ کی ٹریٹمنٹ اوریجنل سے مختلف ہے۔ اوریجنل قومی ترانہ ‘نیچرلی فلکچوایٹ’ کرتا ہے یعنی اس کا ٹیمپو ایک سا نہیں رہتا۔ جب کہ اس نئی ریکارڈنگ کا ٹیمپو تقریباً ایک ہی رہتا ہے اور جو ‘رالن ٹینڈو ‘ایفیکٹ ‘سایہ خدائے ذوالجلال ‘کے وقت آنا چاہیے وہ محسوس نہیں ہوتا ۔

سہیل رعنا نے اس کاوش پر وزارتِ اطلاعات و نشریات کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہ اگر وہ ان تجاویز پر عمل کر کے ری مکس کرلیں تو یہ ہم سب کے لیے باعث افتخار ہوگا۔

‘اتنا پیسہ ضائع کرنے سے بہتر تھا کہ اوریجنل ترانے کو ڈیجیٹل پر منتقل کردیا جاتا’

اداکار و موسیقار خالد انعم نے قومی ترانے کی دوبارہ ریکارڈنگ کے بارے میں وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نئی ریکارڈنگ کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ حب الوطنی سے زیادہ اس کےپیچھے پیسے کا عمل دخل ہے۔

خالد انعم کے بقول”میں اکثر اپنے طلبہ سے یہی سوال کرتا ہوں کہ ‘دل دل پاکستان’ کے بعد سے ایسے ملی نغمے کم کیوں بنے جو لوگوں کو یاد نہیں رہتے؟ میرے خیال میں اس کا دارومدار نیت پر ہے کیوں کہ اب ملی نغمہ پیسہ کمانے کے لیے بنتا ہے۔ پیسہ اور حب الوطنی ایک دوسرے کی ضد ہے اور یہی معنی خیز نغموں کی کمی کا سبب ہے۔”

انہوں نے کہا کہ وہ قومی ترانے کی نئی ریکارڈنگ میں بہتر آڈیو ٹیکنالوجی سے تو خوش ہیں لیکن الفاظ کے تلفظ سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اتنےبڑے کام سے پہلے تلفظ پر کام ہونا چاہیے تھا۔ اگر کوئی تلفظ درست کرانے والا کمیٹی کا حصہ ہوتا تو اس سے قومی ترانہ گانے والوں ہی کو فائدہ پہنچتا۔

خالد انعم کا مزید کہنا تھا کہ اتنا پیسہ ضائع کرنے سے بہتر تھا کہ اوریجنل قومی ترانے کو ہی ڈیجیٹل پر منتقل کردیا جاتا اور اس نئے ورژن پر خرچ ہونے والے پیسے سے ایک اور ترانہ بنایا جاتا جس میں نئے اور پرانے لوگوں کی محنت شامل ہوتی۔

قومی ترانے کی دوبارہ ریکارڈنگ پر سوشل میڈیا صارفین کا ردِ عمل

پاکستان کے قومی ترانے کی دوبارہ ریکارڈنگ کو حکومتی سطح پر تو پذیرائی ملی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اس پر زیادہ تر مثبت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ 68 سال بعدقومی ترانے کی نئی ریکارڈنگ کو زیادہ تر لوگوں نے سراہا البتہ کچھ افراد نے منتخب ہونے والے گلوکاروں کے پینل پر سوال اٹھایا۔

گلوکارہ زیب بنگش نے رواں برس جون میں اس ترانے کی ریکارڈنگ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کاوش کا حصہ بننے پر انہیں فخر ہے۔

اسی طرح گلگت بلتستان سمیت شمالی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے گلوکاروں نے بھی قومی ترانے کی دوبارہ ریکارڈنگ کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار کیا۔

گلوکار و اداکار ہارون شاہد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ پاکستان بھر کے گلوکاروں نے ہم آواز ہوکر اس نئی ریکارڈنگ کے تجربے کو یادگار بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس کاوش کا حصہ بننے پر فخر ہے اور جب ترانہ ریکارڈ ہورہا تھا تو انہیں بہت اچھا محسوس ہورہا تھا۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi