Sports

پاکستان اور سری لنکا ایشیا کپ کے فائنل میں، افغانستان،بھارت دوڑ سے باہر، شائقین کا رد عمل

کراچی — 

اب سے چھتیس سال قبل جس شارجہ میں منجھے ہوئے بلے باز جاوید میانداد نے چھکا مار کر بھارت کے خلاف ایک وکٹ سے پاکستان کو فتح دلائی تھی، بدھ کو پاکستان کے ابھرتے ہوئے اسٹار نسیم شاہ نے اسی گراؤند میں لگاتار دو گیندوں پر دو چھکے مار کر افغانستان کو بھی شکست دی، اور بھارت کو فائنل کی دوڑ سے باہر کردیا۔

افغانستان کے خلاف سپر فور مقابلے میں ایک وکٹ سے کامیابی نے پاکستان کو ایشیا کپ کے فائنل میں جگہ دلادی۔ 11 ستمبر کو کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کا مقابلہ اب سری لنکا سے ہوگا ، جو ایونٹ کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔

پاکستان اور سری لنکا نے سپر فور مرحلے میں دو ، دو میچز جیت کر چار چار پوائنٹس حاصل کرکے فائنل میں جگہ بنائی، افغانستان اور بھارت کی ٹیمیں اس مرحلے میں پہلے دونوں میچز ہار کر فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگئیں۔

جمعرات کو بھارت اور افغانستان اورجمعے کو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے سپر فور میچز کی اب کوئی خاص اہمیت نہیں رہ گئی ہے کیونکہ ان کے نتائج سے فائنل میں پہنچ جانے والی دونوں ٹیموں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

پاکستانی بالرز کے شاندار کم بیک نے افغان ٹیم کو 129 رنز تک محدود کردیا!

پاکستان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تو افغان اوپنرز نے تین اعشاریہ پانچ اوورز میں چھتیس رنز کا دھواں دار آغاز فراہم کیا، ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ابراہیم زدران نے اننگز کو سنبھالا اور 17ویں اوور تک بیٹنگ کرکے پینتیس رنز بنائے۔

لیکن دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا، جس کی وجہ سے پاکستانی بالرز بالخصوص اسپنرز نے مخالف بلے بازوں کی جارح مزاجی کو بریک لگا دیا۔

مقررہ 20 اوورز کے اختتام پر افغانستان نے چھ وکٹ کے نقصان پر 129 رنز بنائے، ابراہیم زدران کے سوا کوئی بھی بلے باز 30 رنز سے زیادہ نہ اسکور کرسکا۔

فاسٹ بالر حارث روف 26 رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے پاکستان کے سب سے کامیاب بالر رہے۔

محمد نواز نے چار اوورز میں ایک وکٹ کے عوض 23 اور شاداب خان نے 27 رنز دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔نسیم شاہ اور محمد حسنین کے حصے میں بھی ایک ایک وکٹ آئی۔

بابر اعظم کے ‘گولڈن ڈک ‘کے باوجود پاکستان کی پیش قدمی، آخری اوور میں میچ جیت لیا!

جواب میں پاکستان کا آغاز اچھا نہ تھا اور کپتان بابر اعظم پہلی ہی گیند پر بغیر رن بنائے واپس پویلین چلے گئے، ان کے آؤٹ ہونےکے بعد فخر زمان وکٹ پر آئے لیکن جب وہ 5 رنز بناکر رن آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا اسکور 18 رنز تھا اور اسے جیت کے لئے مزید 112 رنز درکار تھے۔

ایسے میں افتخار احمد نے نائب کپتان محمد رضوان کے ساتھ تیسری وکٹ کی شراکت میں 27 رنز جوڑے، رضوان کے 20 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد انہوں نے شاداب خان کے ساتھ مل کر اسکور کو سولہویں اوور میں 87 رنز تک پہنچادیا۔

جب 30 رنزبناکر افتخار احمد باؤنڈری پر کیچ ہوئے تو پاکستان کو جیت کے لئے ساڑھے 27 گیندوں پر 43 رنز درکار تھے لیکن سترہویں اوور میں 36 رنز بناکر شاداب خان، اور اٹھارویں اوور میں چار رن اسکور کرکے گزشتہ میچ کے ہیرو محمد نواز کی وکٹ افغانستان کو میچ میں واپس لے آئی۔

ایک موقع پر لگ رہا تھا جیسے پاکستان کی ٹیم کے خلاف افغانستان کی پہلی کامیابی زیادہ دور نہیں، لیکن شائقین کرکٹ آصف علی اور خوشدل شاہ سے امیدیں لگائے بیٹھے تھے، جنہیں اٹھارویں اوور کی آخری گیند پر بولڈ ہوکر خوشدل شاہ نے، اور انیسویں اوور کی دوسری گیند پر حارث روف نے آؤٹ ہوکر تقریبا ختم کردیا۔

ایسے میں آصف علی کے آٹھ گیندوں پر 16 رنز نے پاکستان ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن رکھا، 19ویں اوور کی آخری گیند پر جب وہ فرید احمد کا شکار بنے تو اس وقت پاکستان کی ٹیم فتح سے 12 رنز دور تھی،جبکہ پاکستان کے خلاف تاریخی کامیابی سے افغان ٹیم صرف ایک وکٹ کے فاصلے پر تھی۔

آصف علی کے آؤٹ ہونے کے بعد افغان پیسر فرید احمدسے ان کی تلخ کلامی ہوئی، جس کو ختم کرنے کے لئے امپائر اور کھلاڑیوں کو مداخلت کرنا پڑی، جو شاید دوسرے اینڈ پر موجود نسیم شاہ کو ناگوار گزری۔

انہوں نے فضل الحق فاروقی کے آخری اوور کی پہلی گیند پر چھکا مار کر پہلے جیت کا ہدف کم کیا، اس کے بعد دوسری گیند کو بھی باؤنڈری سے باہر پھینک کر پاکستان کو ایک وکٹ سے کامیابی بھی دلائی، اور ایونٹ کے فائنل میں بھی پہنچادیا۔

فضل الحق فاروقی اور فرید احمد کی تین تین وکٹیں، اور راشد خان کے دو شکار بھی افغانستان کو پاکستان کے خلاف انٹرنیشنل میچ میں فتح نہ دلاسکے۔

اس شکست کے بعد افغانستان کی ٹیم تو فائنل کی دوڑ سے باہر ہوئی ہی، بھارت کی ٹیم بھی ٹائٹل میچ سے باہر ہوگئی۔

شاداب خان کو ان کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

نسیم شاہ نے آصف علی سے افغان کھلاڑی کی بدتمیزی کا بدلہ لیا!

میچ کے بعد بابر اعظم نے کہا کہ نسیم شاہ کے چھکوں نے جاوید میانداد کے چھکے کی یاد دلادی جو اسی گراؤنڈ پر آج سے 36 سال قبل مارا گیا تھا ، اس بات پر ان کا انٹرویو لینے والے سابق بھارتی کھلاڑی روی شاستری نے کہا کہ وہ اس میچ میں ہارنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔

جاوید میانداد اور نسیم شاہ کے میچ وننگ شاٹ کو ٹوئیٹر پر موجود کرک وک نامی اکاؤنٹ نے ایک تصویر میں یکجا کرکے شئیر کیا۔

لیکن کئی صارفین نے میچ کا اصل ٹرننگ پوائنٹ 19ویں اوور میں پاکستانی بلے باز آصف علی اور افغان بالر فرید احمد کی تکرار کو قرار دیا، کسی کے خیال میں اگر فرید احمد آصف علی سے دست درازی نہ کرتے تو میچ کا نتیجہ مختلف ہوتا تو کسی نے نسیم شاہ کے جوش کی تعریف کی۔

سیٹھ عبداللہ نامی صارف کا کہنا تھا کہ نسیم شاہ نے آصف علی کے آؤٹ ہوجانے کے بعد افغان کھلاڑی کی بدتمیزی کا بدلہ لیا، وہ دو گیندوں پر دو چھکے مارنے کے بعد بھی بہت غصے میں تھے۔

ہارون نامی صارف نے بھی نسیم شاہ کے جشن کو خوبصورت قرار دیتے ہوئے اس کی ویڈیو شئیر کی۔

مہوش اعجاز نے جھگڑے کی فوٹیج شئیر کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہ فرید احمد کون ہے، اور مخالف ٹیم کے کھلاڑی کو جان بوجھ کر کیوں مار رہا ہے؟

عمران صدیق نےدعوی کیا کہ افغان تماشائیوں نے میچ کے بعد ہلڑ بازی کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل افغان تماشائیوں پر پابندی لگائیں۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi