Sports Uncategorized

پاکستان، آسٹریلیا ٹیسٹ سیریز: پچز پر تنقید اور رنز کے انبار، لیکن فتح پھر بھی آسٹریلیا کے نام

Written by Omair Alavi

آسٹریلیا نے 24 برس قبل پاکستان میں کھیلی جانے والی سیریز میں ایک صفر سے کامیابی حاصل کی تھی۔

آسٹریلیا نے 24 برس بعد دورۂ پاکستان میں تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں ایک صفر سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ پاکستانی وکٹوں سے ہم آہنگی نہ ہونے کے باوجود پیٹ کمنز کی قیادت میں آسٹریلیا نے لاہور ٹیسٹ میں پاکستان کو 115 رنز سے شکست دے کر فتح حاصل کی۔

سیریز کی خاص بات صرف پاکستان میں پیدا ہونے والے آسٹریلوی اوپنر عثمان خواجہ کی شاندار بیٹنگ ہی نہیں تھی بلکہ آسٹریلوی کپتان کی دلیری بھی تھی جنہوں نے فیصلہ کن ٹیسٹ میں پاکستان کو فتح کے لیے ایک ایسا ہدف دیا جو اچھی بیٹنگ کر کے حاصل کیا جا سکتا تھا۔

پاکستان ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں قیمتی پوائنٹس حاصل کرنے سے بھی محروم ہو گئی ہے۔ سیریز میں کامیابی کے ساتھ ہی آسٹریلیا نے 72 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔

پچز پوری سیریز کے دوران موضوع بحث

آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان 24 سال بعد پاکستانی سرزمین پر کھیلی جانے والی سیریز نہ رنز کے انبار کی وجہ سے یاد رہے گی نہ وکٹیں گرنے کی وجہ سے بلکہ اسے یاد رکھا جائے گا تو تینوں ٹیسٹ میچز میں بننے والی پچز کی وجہ سے جس پر کرکٹ مبصرین اور کھلاڑی تنقید کرتے رہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ جو خود ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر بھی ہیں، ان کی ہدایات کے مطابق بننے والی پچز پر مبصرین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ پی سی بی چیئرمین کو نہ صرف اس دفاعی حکمت عملی کا دفاع کرنا پڑا بلکہ ذرائع کے مطابق انہوں نے براڈکاسٹرز کو پچ کی برائی کرنے سے بھی منع کیا تھا۔

تبھی تو جب آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بالر اور کمنٹیٹر مائیکل کیسپرووچ کے منہ سے کمنٹری کے دوران ‘فلیٹ وکٹ’ نکلا تو انہوں نے جلد ہی اسے درست کرکے ‘بیٹسمین فرینڈلی اسٹرپس’ کالفظ کہہ کر جان بچائی۔

راولپنڈی کی پچ غیر معیاری قرار

پہلے ٹیسٹ میں استعمال ہونے والی پچ کو آئی سی سی نے عالمی مقابلوں کے لیے ‘غیر معیاری’ قرار دیا، جو ایک تاریخی سیریز کے لیے نہایت افسوس ناک بات ہے۔ راولپنڈی ٹیسٹ کے بعد سری لنکا سے تعلق رکھنے والے میچ ریفری رنجن مدوگالے نے اپنی رپورٹ میں اس پچ کو غیر معیاری قرار دے کر اسے ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا۔

آئی سی سی کے مطابق میچ ریفری کی رپورٹ میں لکھا گیا کہ پانچ روز کے دوران وکٹ کے ردِعمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جس کی وجہ سے بیٹ اور بال میں یکساں مقابلہ نہ دیکھا جا سکا۔

قوانین کے تحت پنڈی اسٹیڈیم کو ملنے والا ایک ڈی میرٹ پوائنٹ اگلے پانچ برسوں تک ایکٹو رہے گا اور اگر مستقبل میں ان ڈی میرٹ پوائنٹس کی تعداد پانچ ہوگئی تو پنڈی اسٹیڈیم پر ایک سال کی پابندی بھی عائد کی جاسکتی ہے۔

سیریز میں صرف پاکستان میں پیدا ہونے والے کھلاڑیوں کی سینچری

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلی جانے والی اس تاریخی سیریز میں دونوں ٹیموں کے بلے بازوں نے عمدہ کارکردگی دکھائی، ماسوائے ان کے جو فارم میں نہیں تھے۔ حیران کن طور پر سیریز میں کسی بھی ایسے کھلاڑی نے سو رنز کا ہندسہ عبور نہیں کیا جو آسٹریلیا میں پیدا ہوا ہو۔

تین میچز پر مشتمل سیریز کے دوران سب سے زیادہ رنز آسٹریلیا کے عثمان خواجہ نے اسکور کیے۔ انہوں نے تین میچز میں دو سینچریوں اور نروس نائنٹیز کی مدد سے 165 کی اوسط سے 496 رنز بنائے۔

عثمان خواجہ جو آسٹریلیا منتقل ہونے سے قبل راولپنڈی میں پیدا ہوئے ، اپنے ‘ہوم’ گراونڈ پر تو سینچری اسکور نہ کرسکے لیکن اپنے والدین کے آبائی شہر کراچی اور پھر فیصلہ کن ٹیسٹ میچ کے وینیو لاہور میں سینچریاں اسکور کرنے میں کامیاب ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے عبداللہ شفیق، کپتان بابر اعظم، امام الحق اور اظہر علی نے 300 سے زائد رنز بنائے تاہم 2021 میں مردآہن کا کردار ادا کرنے والے فواد عالم بری طرح ناکام ہوئے۔ اپنی دوسری سیریز کھیلنے والے عبداللہ شفیق 397 رنز بنا کر پاکستان کی جانب سے ٹاپ اسکورر رہے، انہوں نے ایک سینچری اور دو نصف سینچریاں بناکر اپنی بلے بازی سے سب کو متاثر کیا۔

سیریز میں کم بیک کرنے والے دوسرے اوپنر امام الحق نے راولپنڈی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سینچریاں بناکر حنیف محمد، جاوید میانداد، اور انضمام الحق جیسے کھلاڑیو ں کی فہرست میں جگہ بنائی۔

سابق کپتان اظہر علی نے بھی سیریز کے دوران ٹیسٹ کرکٹ میں سات ہزار رنز کا سنگ میل عبور کیا، ان سے قبل یہ کارنامہ صرف پانچ پاکستانیوں نے انجام دیا جس میں یونس خان، جاوید میانداد، انضمام الحق اور موجودہ ٹیم کے بیٹنگ کوچ محمد یوسف شامل ہیں۔

اس سیریز کو بابر اعظم کی بطور کپتان پہلی ٹیسٹ سینچری کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں سیریز کی سب سے بڑی انفرادی اننگز 196 رنز کھیل کر انہوں نے پاکستان کے پہلے ایسے کپتان ہونے کا اعزاز حاصل کیا جس نے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی، تینوں میں سینچریاں اسکور کیں۔

پاکستان کے بلے بازوں نے انفرادی طور پر تو اچھا کھیل پیش کیا، لیکن تینوں میچز کے دوران پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ غیر یقینی کا شکار رہی، فواد عالم کی مسلسل ناکامی نے جہاں مڈل آرڈر کو بے سہارا چھوڑا وہیں فہیم اشرف کی کمی کو بھی میزبان ٹیم نے محسوس کیا۔

نسیم شاہ اور شاہین آفریدی کی شاندار بالنگ کی وجہ سے پاکستان نے آسٹریلیا کو لاہور ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 391 رنز تک محدود کردیا تھا، لیکن پھر صرف 12 رنز کے درمیان پاکستان کی پانچ وکٹیں گرنے کی وجہ سے میزبان ٹیم آسٹریلیا کو تاریخی سیریز میں شکست دینے کی ریس سے باہر ہو گئی۔

فواد عالم جنہوں نے 2020 میں ٹیسٹ ٹیم میں 11 سال بعد کم بیک کیا اور 2021 میں قومی ٹیم کی کئی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اس سیریز میں آف کلر نظر آئے۔ انہوں نے 3 میچز میں 8 عشاریہ دو پانچ کی اوسط سے 33 رنز اسکور کیے جب کہ ان سے زیادہ رنز آف اسپنر ساجد خان نے بنائے، جن کے مجموعی رنز کی تعداد 41 رہی۔

پہلے ٹیسٹ میں فہیم اشرف کووڈ ۔19 کی وجہ سے شرکت نہ کرسکے تو تیسرے ٹیسٹ میں ان کی جگہ حسن علی کو موقع دیا گیا جو نہ تو بالنگ میں چل سکے، نہ ہی بیٹنگ میں، بلے بازوں کی سست بیٹنگ کی وجہ سے پاکستان ٹیم کراچی ٹیسٹ بھی صرف ڈرا کرنے میں کامیاب ہوئی جب کہ اگر بلے باز بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تو شاید سیریز کا نتیجہ مختلف ہوتا۔

آسٹریلوی بالرز وکٹوں کی ریس میں پاکستانی بالرز سے آگے!

اگر سیریز میں بالرز کی کارکردگی کی بات کی جائے تو آسٹریلوی بالرز نے پاکستانی بالرز کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی۔پاکستان کی جانب سے سوائے لیفٹ آرم اسپنر نعمان علی کے کسی بھی بالر نے ایک اننگز میں پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ نہیں کیا، جب کہ آسٹریلیا کی جانب سے یہ کارنامہ ایک پیسر اور ایک آف اسپنر نے انجام دیا۔

سیریز کا اختتام آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز اور آف اسپنر نیتھن لائن نے 12، 12 وکٹوں کے ساتھ کیا۔ پیٹ کمنز نے مہمان ٹیم کی جانب سے سیریز کی بہترین بالنگ کرتے ہوئے 56 رنز کے عوض پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ جب کہ نیتھن لائن ایک اننگز میں 83 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔

سیریز کے پہلے میچ میں 6 وکٹیں حاصل کرنے والے نعمان علی مجموعی طور پر نو وکٹیں ہی حاصل کرسکے، اور اتنے ہی کھلاڑیوں کو شاہین آفریدی نے بھی واپس پویلین بھیجا، تاہم وہ ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل نہیں کرسکے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں اب بابر اعظم اور ایرن فنچ کی قیادت میں وائٹ بال کرکٹ مقابلوں میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔ تین ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ پر مشتمل یہ سیریز 29 مارچ سے شروع ہو گی، سیریز کے تمام میچز لاہور میں ہی کھیلے جائیں گے۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi