اسپورٹس

بھارت یا نیوزی لینڈ: ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں کس کا پلڑا بھاری ہوگا؟

Written by Omair Alavi

کراچی — 

ٹیسٹ کرکٹ کا بے تاج بادشاہ کون ہوگا؟ اس سوال کا جواب صرف ایک میچ کے نتیجے کی دوری پر ہے اور وہ میچ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل ہے۔

بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل انگلینڈ کے شہر ساؤتھ ہیمپٹن میں 18 جون سے شروع ہو گا۔

نیوٹرل مقام پر ہونے والے پانچ روزہ میچ میں جہاں ایونٹ کی دو بہترین ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی وہیں ایک کے پاس دنیا کا بہترین بالنگ اٹیک ہے تو دوسرے کی بیٹنگ کا کوئی جواب نہیں۔

دونوں ٹیموں کے مداح بھی اس ٹائٹل میچ سے قبل پر عزم ہیں کہ ان کے پسندیدہ کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔ کسی کو ٹرینٹ بولٹ سے امید ہے کہ وہ مخالفین کو مشکل میں ڈالیں گے تو کوئی روہت شرما سے بڑی اننگز کی توقع لگائے بیٹھا ہے۔

فائنل سے قبل نیوزی لینڈ کو بھارت پر نفسیاتی برتری حاصل

آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں موجود دونوں ٹیموں کے ریکارڈز کی بات کی جائے تو گزشتہ دو برسوں کے دوران دونوں ٹیموں نے صرف دو میچز کھیلے اور دونوں ہی میچز میں نیوزی لینڈ نے بھارت کو شکست دی۔

فروری اور مارچ 2020 میں کھیلے گئے دو ٹیسٹ میچز میں میزبان نیوزی لینڈ نے بھارت کو پہلے ویلنگٹن میں 10 اور پھر کرائسٹ چرچ میں سات وکٹوں سے شکست دی۔

فائنل اسکواڈ میں موجود کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو بھارت کے اجنکیا راہانے سب سے آگے ہیں، وہ اپنے آخری 17 میچز میں 1095 رنز کے ساتھ سب سے کامیاب بھارتی بلے باز ہیں۔

روہت شرما 11 میچز میں 1030 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ بھارتی کپتان وراٹ کوہلی 14 میچز میں 877 اور مایانگ اگروال 12 میچز میں 857 رنز کے ساتھ چوتھے کامیاب بیٹسمین ہیں۔

اسی طرح نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے اپنے آخری نو میچز میں 817 رنز بنا رکھے ہیں جس میں 251 رنز کی اننگز بھی شامل ہے۔ ان کے نائب ٹام لیتھم 11 میچز میں 680 رنز کے ساتھ دوسری پوزیشن پر ہیں۔

چیمپئن شپ میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ آسٹریلیا کے مارنس لیبو شین کے پاس ہیں جن کے 13 میچز میں 1675 رنز بھی ان کی ٹیم کو فائنل میں جگہ نہ دلا سکے۔

بالر کی اگر بات کی جائے تو اس میں نیوزی لینڈ کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے۔ اگر بھارت کے روی چندرن ایشون 13 میچز میں 67 وکٹوں کے ساتھ فائنل کھیلنے والے بالرز میں پہلے نمبر پر ہیں تو نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی 10 میچز میں 51 وکٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر۔

چھ میچز میں 36 شکار کرنے والے کائل جیمیسن بالترتیب 11 اور 10 میچز میں اتنی ہی وکٹیں لینے والے ایشانت شرما اور محمد شامی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے ٹرینٹ بولٹ 9 میچز میں 34 اور نیل ویگنر سات میچز میں 32 وکٹوں کے ساتھ زیادہ پیچھے نہیں۔

چیمپئن شپ کے سب سے کامیاب بالر آسٹریلیا کے پیٹ کمنز رہے جنہوں نے 14 میچز میں 70 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، لیکن ان کی ٹیم ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہے۔

کون جیت کے لیے زیادہ فیورٹ؟

کرکٹ کے ماہرین ایونٹ کی فائنلسٹ دونوں ٹیموں کو فیورٹ قرار دے رہے ہیں، لیکن نیوزی لینڈ کی انگلینڈ میں پہلے آمد اور پھر میزبان ٹیم کو شکست دینے کے بعد کیویز کی کامیابی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

پاکستان کے سینئر اسپورٹس جرنلسٹ عبدالماجد بھٹی کے خیال میں بھارت کی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک ہے لیکن جس طرح نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو اس کے ہوم گراؤنڈ میں ہرایا، اس سے لگتا یہی ہے کہ وہ بھرپور تیاری کے ساتھ آئے ہیں۔

ان کے بقول، "نیوزی لینڈ کی ٹیم کی نہ صرف بیٹنگ متوازن ہے بلکہ ان کی فاسٹ بالنگ بھی کسی سے کم نہیں۔ جو کارکردگی انہوں نے برمنگھم ٹیسٹ میں دکھائی اس کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کو جیتنے کے لئے فیورٹ ہے۔

پاکستان کے سابق فاسٹ بالر یاسر عرفات کہتے ہیں ساؤتھ ہیمپٹن کی کنڈیشنز میں فائدہ اس ٹیم کو ہوگا جس کے اسپنرز اچھا پرفارم کریں گے۔ امید ہے کہ دونوں ٹیمیں بہترین کھیل پیش کریں گی اور شائقین کو اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔

یاسر عرفات ان دنوں انگلینڈ میں کوچنگ کے شعبے سے منسلک ہیں۔ ان کے بقول، وہ دونوں ٹیموں کو جیت کے لیے ففٹی ففٹی چانس دیں گے کیوں کہ اگر ایک ٹیم کا کپتان جارح مزاج ہے تو دوسرے کا کپتان ٹھنڈے مزاج کا اور انہیں دونوں کی کپتانی میچ کو دلچسپ بنائے گی۔

یاسر عرفات نے کہا کہ بھارت کے پاس بھی اچھے بیٹسمین اور بالرز موجود ہیں۔ روہت شرما کے ساتھ شبمن گل اگر اننگز کا آغاز کریں اور لمبی اننگز کھیلیں تو بھارت کو فائدہ ہوگا۔ مڈل آرڈر میں پجارا، کوہلی، راہانے، اور رشب پنت کی موجودگی سے بیٹنگ لائن اپ مضبوط ہوگا۔ ٹیم میں موجود فاسٹ بالرز بمرہ، اشانت شرما اور محمد شامی کیویز کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے پاس اس وقت ٹرینٹ بولٹ، نیل ویگنز، ٹم ساؤتھی، اور کائل جیمیسن کی شکل میں بہترین فاسٹ بالرز ہیں۔ ان کے بقول، کیویز کے پاس تجربے کی اگر کہیں کمی ہے تو وہ اسپن ڈپارٹمنٹ ہے جہاں بھارت کا پلڑا بھاری ہے۔

یاسر عرفات کے مطابق، جس طرح کی گرمی اس وقت انگلینڈ میں ہو رہی ہے اس کی وجہ سے پچ بہت ڈرائی ہو گی۔ صرف پہلے دن بلے بازوں کو مدد ملے گی اور باقی دن اسپنرز فائدہ اٹھا سکیں گے۔

آخر ٹیسٹ چیمپٔن شپ کے فائنلسٹ کا فیصلہ کیسے ہوا؟

ویسے تو کسی بھی میگا ایونٹ کا فیصلہ راؤنڈ روبن لیگ یا گروپ اسٹیج میں کھیلے گئے میچز کے بعد ہوتا ہے، لیکن آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کی ہر چیز نرالی ہے۔

نہ یہاں تمام ٹیموں نے برابر میچز کھیلے اور نہ ہی برابر سیریز۔ جس کے حصے میں جو سیریز آئی اور جتنے میچز ملے، اس نے اتنے کھیلے اور آخر میں سب سے زیادہ پوائنٹس پانے والی دونوں ٹاپ ٹیموں کو فائنل میں جگہ مل گئی۔

دیکھا جائے تو بھارت نے چھ ٹیسٹ سیریز میں 17 اور نیوزی لینڈ نے پانچ سیریز میں 11 میچز کھیلے۔

بھارت نے 17 میں سے 12 میچز جیت کر 520 اور نیوزی لینڈ نے 11 میں سے سات میچز جیت کر 420 پوائنٹس حاصل کیے۔ اس طرح دونوں کو چار چار میچز میں شکست ہوئی۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ 21 میں سے 11 میچز جیتنے والی انگلش ٹیم اور چودہ میں سے آٹھ میچز میں کامیابی حاصل کرنے والی آسٹریلوی ٹیم اس گرینڈ فینالے میں جگہ نہ بناسکے۔

ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل سے دور ہونے کی وجہ آسٹریلیا کے 332 اور انگلینڈ کے 442 پوائنٹس ہیں۔ اور وہ بھی اس لیے کیوں کہ آسٹریلیا کے دو اور انگلینڈ کے تین میچز ڈرا ہوئے تھے۔

پاکستان ٹیم بھی ان پوائنس ٹیبل پر زیادہ نیچے نہیں تھی۔ چھ ٹیسٹ سیریز میں 12 میچز کھیلنے والی ٹیم کو تین سیریز میں کامیابی تو حاصل ہوئی لیکن اس نے چار میچز جیتے، پانچ ہارے اور تین میچز ڈرا ہوئے جس کی وجہ سے اس کے پوائنٹس کی تعداد 286 رہی۔

ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ اور سری لنکا بھی بالترتیب 200، 204 اور 200 پوائنٹس کی وجہ سے چھٹے، ساتویں اور آٹھویں نمبر پر آئے۔ آخری نمبر پر جگہ ملی بنگلا دیش کو جس نے مجموعی طور پر صرف 20 پوائنٹس حاصل کیے۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں خامی کہاں ہے؟

آئی سی سی ٹیسٹ چیمپٔن شپ کا آغاز یکم اگست 2019 کو ہوا تھا جس کے بعد دو سال کے دوران آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں شامل سرِفہرست نو ٹیموں کے درمیان میچز کو اس مقابلے میں شامل کیا گیا۔

اس چیمپٔن شپ میں ہر ٹیم کو چھ مختلف ٹیموں سے میچز کھیلنا تھے جس میں تین ہوم اور تین اوے میچز ہونا لازمی تھا۔ لیکن کرونا کی وجہ سے بہت سی سیریز ملتوی ہوئیں اور رواں برس انگلینڈ اور بھارت کی سیریز کے بعد ہی فائنل میں کوالی فائی کرنے والی ٹیموں کا فیصلہ ہو گیا۔

ٹیسٹ اسٹیٹس حاصل کرنے والی زمبابوے، آئرلینڈ اور افغانستان کو پہلی ورلڈ ٹیسٹ چیمپٔن شپ سے باہر رکھا گیا جب کہ بہتر رینکنگ کی وجہ سے بنگلہ دیش کی ٹیم اس میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔

اس سے قبل بھی آئی سی سی متعدد بار اس کے انعقاد کی کوشش کر چکا تھا لیکن پہلے 2013 اور پھر 2017 میں اس ارادے کو ترک کرنا پڑا۔

پاکستان کے سینئر اسپورٹس جرنلسٹ عبدالماجد بھٹی کہتے ہیں ٹیسٹ چیمپئن شپ فارمیٹ کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ دو بڑی ٹیموں نے ہوم اینڈ اوے میچز نہیں کھیلے اور فاتح کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فاتح کا فیصلہ تو تب ہو جب ہر ٹیم دوسری ٹیم کے خلاف ہوم اینڈ اوے میچز کھیلے۔ یہاں تو پاکستان اور بھارت نے 2007 کے بعد سے ٹیسٹ میچز ہی نہیں کھیلے۔ ان کے ٹکراؤ کے بغیر ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فیصلہ پھیکا ہے۔

نہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی ورلڈ چیمپئن شپ ہے جس میں نہ ہوم اینڈ اوے کا فلیور آیا اور نہ ہی تمام ٹیموں نے ایک دوسرے کے خلاف میچز کھیلے۔ اگر آئی سی سی ویسے ہی کسی کو ٹرافی دینا چاہتی ہے تو اس کی مرضی، کوئی کسی کو روک نہیں سکتا۔

سن 2007 میں بھارت میں ہونے والی آخری ٹیسٹ سیریز میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے پاکستانی آل راؤنڈر یاسر عرفات بھی کچھ اسی قسم کے خیالات رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس قسم کے ایونٹ میں تمام ٹیموں کو ایک دوسرے کے خلاف کھیلنا چاہیے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر میچ ہوجاتا تو بہت اچھا ہوتا۔ روایتی حریف کے میچز کے بغیر یہ چیمپئن شپ ادھوری لگ رہی ہے۔

ماجد بھٹی کہتے ہیں کہ جس جلد بازی میں آئی سی سی نے اس ایونٹ کا فائنل کرایا اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اس سے جان چھڑا رہی ہے۔

ان کے بقول، ٹیسٹ چیمپئن شپ ایک پرانے آئیڈیا پر کرایا گیا ہے۔ جب تک چیمپئن شپ میں ہوم اینڈ اوے میچز نہیں ہوں گے اور ہر ٹیم کو برابر نہیں سمجھا جائے گا۔ اس طرح کے ایونٹ اپنی افادیت نہیں برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi

عمیر علوی ایک بہت معزز صحافی، تنقید کار اور تبصرہ نگار ہیں جو خبروں، کھیلوں، شوبز، فلم، بلاگ، مضامین، ڈرامہ، جائزوں اور پی ٹی وی ڈرامہ میں مہارت رکھتے ہیں۔ وسیع تجربے اور داستان سوزی کی خصوصیت کے ساتھ، وہ اپنے دلچسپ تجزیوں اور دلکش تقریروں کے ذریعے حاضرین کو مسحور کرتے ہیں۔ ان کی ماہری اور تعاون نے انہیں میڈیا اور تفریحی صنعت کا اہم شخصیت بنا دیا ہے۔