Sports

محمد حفیظ، کرکٹ کے ‘پروفیسر’ کی 18 سالہ اننگز میں کب کیا ہوا؟

Written by Omair Alavi

کراچی — 

‘منی ہائیسٹ’ کے پروفیسر کو تو سب ہی جانتے ہیں، لیکن پاکستانی کرکٹ کے پروفیسر محمد حفیظ ان سے بہت پہلے آئے اور ان کے کریئر کا اختتام بھی ‘منی ہائیسٹ’ کے اختتام کے ساتھ ہی ہوا۔ 2003 سے 2021 تک پاکستان کی تینوں فارمیٹ میں نمائندگی کرنے والے محمد حفیظ نے پیر کو انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہتے ہوئے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔

لیکن اگر محمد حفیظ کے کریئر پر نظر ڈالی جائے تو وہ بھی ‘منی ہائیسٹ ‘سے کچھ کم نہیں، اس کہانی میں ڈرامہ ہے، ٹریجڈی ہے، کامیڈی ہے، اور بہت سا ایکشن بھی۔ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کون سے واقعات ہیں جن کی وجہ سے محمد حفیظ کا نام کرکٹ کے ایوانوں میں یاد رکھا جائے گا۔

ایک سال میں سب سے زیادہ مین آف دی میچ ایوارڈز جیتنے والے پاکستانی کرکٹر

عام طور پر پاکستان میں 2011 کو ورلڈ کپ کرکٹ کے سیمی فائنل میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے سال کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ لیکن یہ وہی سال تھا جب محمد حفیظ نے پاکستان کے لیے ریکارڈ 10 مرتبہ انٹرنیشنل کرکٹ میں مین آف دی میچ کا ایورڈ جیتا۔

وہ مجموعی طور پر پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ مین آف دی میچ ایوارڈ جیتنے والے کھلاڑی تو نہیں۔ لیکن ایک سال میں 10 بار مردِ بحران بننے کی مثال پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔

مجموعی طور پر اپنے کریئر کے دوران تینوں فارمیٹس میں انہوں نے 32 مرتبہ مین آف دی میچ کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔

کلینڈر ایئر میں کئی بار ایک ہزار سے زائد رنز بنانے والے کھلاڑی

ایک سال کے دوران ون ڈے کرکٹ میں ایک ہزار رنز اسکور کرنے کا شوق تو ہر بلے باز کو ہوتا ہے، لیکن بہت کم افراد کو یہ موقع ملتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ کارنامہ محمد یوسف چار مرتبہ انجام دے چکے ہیں اور ان کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں محمد حفیظ۔

ویسے تو اعجاز احمد نے 1996 اور 1997 میں اور انضمام الحق نے 1999 اور 2000 میں ایک روزہ میچز میں ایک سال میں ہزار رنز کا کارنامہ انجام دیا۔ لیکن 2011 اور 2013 میں جس وقت محمد حفیظ نے کلینڈر ایئر میں ہزار رنز کا ہندسہ عبور کیا اس وقت پاکستان ٹیم مشکلات کا شکار تھی۔

ایک ہی ون ڈے سیریز میں تین سینچریاں بنانے والا بلے باز

سن 2013 میں جب محمد حفیظ رنز کے انبار لگا رہے تھے، تب ہی انہوں نے ایشین بریڈمین ظہیر عباس کا ایک ایسا ریکارڈ برابر کیا جو بہت کم لوگوں کو یاد تھا۔ سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی سیریز میں محمد حفیظ نے ایک ہی ملک کے خلاف ایک ہی ون ڈے سیریز میں تین سینچری بنائیں جو کہ اس وقت ایک انوکھا کارنامہ تھا۔

محمد حفیظ نے پانچ میچز پر مشتمل سیریز کے پہلے میچ میں 129 گیندوں پر 122، تیسرے میچ میں 136 گیندوں پر اپنے کریئر کی سب سے بڑی اننگز 140 ناٹ آؤٹ اور چوتھے میچ میں ناقابلِ شکست 113 رنز کی اننگز کھیلی۔ تینوں میچ میں وہ مین آف دی میچ بھی رہے۔

اس سے قبل یہی کارنامہ 20 برس قبل ظہیر عباس انجام دے چکے تھے، انہوں نے بھارت کے خلاف مسلسل تین ون ڈے میچز میں سینچریاں اسکور کی تھیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں ڈبل سینچری، ٹی ٹوئنٹی میں ناقابلِ شکست 99 رنز

محمد حفیظ کو بطور آل راؤنڈر تو دنیا بھر میں شہرت ملی، لیکن اس آل راؤنڈر میں ایک ایسا بلے باز بھی چھپا تھا جو جب چل جاتا تھا تو اسے روکنا مشکل ہو جاتا تھا۔ 2014 میں بنگلہ دیش کے خلاف کھلنا ٹیسٹ میچ ہو یا 2020 میں نیوزی لینڈ کے خلاف جارحانہ 99 ناٹ آؤٹ، محمد حفیظ جب بھی چلے خوب چلے۔

کھلنا ٹیسٹ میں انہوں نے نہ صرف اپنے کریئر کی پہلی اور واحد ڈبل سینچری (224 رنز) اسکور کی تھی بلکہ پاکستان کے اسکور کو 628 رنز تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میں ناقابل شکست 99 رنز نے میزبان ٹیم کو سخت پریشان کیا۔ 57 گیندوں کی اس اننگز میں انہوں نے دس چوکے اور پانچ چھکے بھی لگائے۔

ڈیل اسٹین، محمد حفیظ کے نجات دہندہ

ایک طرف آف اسپنر محمد حفیظ کو لیفٹ ہینڈرز کا نجات دہندہ کہتے تھے تو دوسری جانب ڈیل اسٹین کو محمد حفیظ کا۔ اپنے کریئر کے دوران ایک درجن سے بھی زائد بار جنوبی افریقن فاسٹ بالر کا شکار بنے۔

ایک وقت تو ایسا بھی آیا تھا جب ڈیل اسٹین بالنگ کرنے آتے تو شائقین اس بات کا انتظار کرتے تھے کہ محمد حفیظ کتنی دیر تک وکٹ پر ٹھہر سکتے ہیں۔ 2013 میں کھیلی جانے والی سیریز میں تو ڈیل اسٹین نے محمد حفیظ کو آؤٹ کرنے کے بعد ایک زوردار قہقہہ بھی لگایا تھا۔

محمد حفیظ اور دو ٹھپوں والی گیند

محمد حفیظ کا شمار پاکستان کے منجھے ہوئے آف اسپنرز میں تو ہوتا ہے، لیکن اپنے کریئر کے دوران انہیں متعدد بار اپنے بالنگ ایکشن کی وجہ سے معطلی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب جب انہیں غیر قانونی بالنگ ایکشن کی وجہ سے معطل کیا گیا، انہوں نے بطور بلے باز ٹیم کی کامیابیوں میں اہم کردار کیا، لیکن اپنے کریئر کے آخری چھ سال وہ معطل زیادہ اور بحال کم ہی رہے۔

بالنگ ایکشن سے زیادہ جس بات پر انہیں لوگ یاد رکھیں گے وہ ہے ان کے آخری انٹرنیشنل میچ میں ایک ایسی ڈیلیوری جو بیٹسمین کے پاس پہنچنے سے پہلے دو مرتبہ زمین پر باؤنس ہوئی۔ اس دو ٹھپوں والی گیند پر آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر نے چھکا مار کر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کی مسلسل کامیابیوں کے سلسلے کو بریک لگانے کی طرف قدم بڑھایا۔

اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کی مخالفت

جب جب محمد عامر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی بات ہو گی تب تب محمد حفیظ کا ذکر آئے گا۔ کیونکہ نہ صرف انہوں نے محمد عامر کی واپسی کی کھل کر مخالفت کی تھی، بلکہ یہ بھی محض اتفاق تھا کہ محمد عامر کی واپسی کے بعد اُنہوں نے سلپ میں اُن کی گیند پر کئی کیچز بھی چھوڑے جس پر یہ مطالبات بھی سامنے آئے کہ عامر کی بالنگ کے دوران حفیظ کو سلپ پر نہ کھڑا کیا جائے۔

یہی نہیں، مایہ ناز آل راؤنڈر ٹیسٹ عبد الرزاق نے بھی 2012 میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد اپنے کپتان محمد حفیظ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ سینئر کھلاڑی کے مطابق انہیں ایونٹ میں صرف ایک میچ کھلانے کا فیصلہ محمد حفیظ کا تھا۔

‘میرا 12 سالہ بیٹا رمیز راجہ سے زیادہ کرکٹ جانتا ہے’

جس دن سابق کپتان رمیز راجہ نے بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ چارج سنبھالا، کرکٹ کے دیوانوں نے محمد حفیظ کی ریٹائرمنٹ کی پیش گوئی کر دی، وجہ محمد حفیظ کے وہ بیانات تھے جو انہوں نے اس وقت دیے جب رمیز راجہ ایک کمنٹیٹر اور تجزیہ کار کی حیثیت سے اپنا کام کر رہے تھے۔

ایک بہت ہی مشہور بیان میں محمد حفیظ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے (اس وقت) 12سال کے بیٹے کو رمیز راجہ سے زیادہ کرکٹ کا علم ہے۔ اس بیان کو رمیز راجہ نے تو شاہدبھلا دیا ہو گا، لیکن شائقینِ کرکٹ کو وہ آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi