Showbiz

اداکاری شوق ہے لیکن ٹی وی شوز کی میزبانی سے گھر چلتا ہے: فیصل قریشی

Written by Omair Alavi

کراچی — 

اٹھارہ برس کی عمر میں جب فیصل قریشی نے فلموں میں اداکاری کا سوچا تھا تو اس وقت ان کی والدہ اداکارہ افشاں قریشی نے اس کی مخالفت کی جب کہ ان کے والد عابد قریشی اپنے بیٹے کے فلموں میں اداکاری کے حامی تھے۔

فلموں میں قدم رکھنے کے 30 برس بعد آج بھی فیصل قریشی کا شمار پاکستان کے بہترین اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اسی کی دہائی میں ‘مرزا اینڈ سنز’، ‘دورِ جنوں’ سمیت کئی ڈراموں میں کام کرکے بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا۔

فیصل قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں کالج کے دنوں میں فلموں کی آفر آئی تو ان کی ماں نے اس کی مخالفت کی جب کہ ان کے والد نے اس کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ والدہ کو ان کی پڑھائی کا خیال تھا جب کہ والد کو ان کے کریئر کی فکر تھی اور وہ انہیں کامیاب دیکھنا چاہتے تھے۔

بچپن سے ہی اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جس وقت وہ بطور چائلڈ آرٹسٹ ٹی وی پر کام کر رہے تھے انہیں ہر کوئی یہی کہتا تھا کہ چائلڈ آرٹسٹ آگے جاکر کامیاب نہیں ہوتے لیکن انہوں نے ایسا کرکے دکھایا۔

فیصل قریشی کے بقول “مجھے یاد ہے جب میں نے اداکاری کرنا شروع کی تو لوگ یہی کہتے تھے کہ چائلڈ آرٹسٹ آگے جاکر کامیاب اداکار نہیں بن سکتے لیکن میں اپنی کوشش میں لگا رہا اور اللہ کا شکر ہے کہ بڑے ہو کر اداکاری کو اپنا کریئر بنانے میں کامیاب ہوا۔ “

ان دنوں ‘جیو انٹرٹینمنٹ’ پر فیصل قریشی کا ڈرامہ ‘دلِ مومن ‘نشر ہو رہا ہے جس میں انہوں نے ایک ایسے استاد کا کردار ادا کیا ہے جس کی شاگرد اس پر جھوٹا الزام لگا کر اسے بدنام کردیتی ہے۔

اس ڈرامے کی کہانی پر جہاں لوگوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے وہیں فیصل قریشی کتے ہیں یہ واقعہ ان کے ایک دوست کے ساتھ پیش آیا تھا اس لیے وہ اس پر بحث کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔

ان کے بقول “دلِ مومن میں جو بھی دکھایا گیا ہے اسے اُس لڑکی کی نادانی کہا جا سکتا ہے، ایسا کہنا کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا تو یہ درست نہیں کیوں کہ ایسا ہی واقعہ میرے دوست کے ساتھ ہوا تھا جو ایک ٹیچر ہے۔ اب جب ڈرامے میں اس لڑکی کو اس کے استاد نے معاف کردیا تب بھی لوگوں کو مسئلہ ہے، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے لوگ اتنی جلدی فیصلہ کیوں صادر کردیتے ہیں۔”

فیصل قریشی کا ماننا ہے کہ کسی بھی انسان کے عمل پر فیصلہ کرنے کا کام صرف اللہ کا ہے، لوگ کسی کا فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں اور یہ ڈرامہ بھی اسی بات کو آگے لے کر چلتا ہے ۔

ڈرامہ سیریل’دلِ مومن ‘میں جس طرح یہ دکھایا گیا ہے کہ جھوٹ ایک استاد کی زندگی کو تباہ کردیتا ہے ویسے ہی سوشل میڈیا پر بھی شوبز ستاروں کو اکثر ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے فیصل قریشی نے کہا کہ سوشل میڈیا کا کوئی قصور نہیں بلکہ غلطی لوگوں کی ہے جنہیں اسے استعمال کرنا نہیں آتا۔ ان کے بقول ایسے ایسے لوگ سوشل میڈیا پر تبصرے کرتے ہیں جنہیں ایک تو کسی بات کا پتا نہیں ہوتا دوسرا انہیں ہر چیز پر بات کرنا ہوتی ہے،سوشل میڈیاپر وہی لوگ آپ کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں جو اگر کہیں مل جاتے ہیں تو تصویر کھچوائے بغیر جاتے نہیں۔

فیصل قریشی نے کہا کہ ہمارے ہاں آئے دن سوشل میڈیا پر کسی نہ کسی اداکار و اداکارہ پر تنقید ہورہی ہوتی ہے جس سے دنیا بھر میں ہمارا امیج بھی برا جا رہا ہوتا ہے۔ ‘ارطغرل غازی’ والی اداکارہ نے تو اپنے سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کے کمنٹس ہی بند کردیے ہیں، اسے ترکی میں کوئی کچھ نہیں کہتا ہو گا لیکن ہمارے لوگ شروع ہوجاتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کو درست انداز میں استعمال کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا اور اگر سوشل میڈیا پر تھوڑی فیس لگادی جائے تو یہ سارے بے کار اکاؤنٹس فلٹر ہوجائیں گے۔

‘ہدایت کار سہیل جاوید پر الزامات کی وجہ سے فلم ‘سوری’ کو روکنا پڑا’

نوے کی دہائی میں 18 کے قریب فلمیں کرنے کے بعد فیصل قریشی نے نئی صدی آتے ہی ٹیلی ویژن کا رخ کیا تھا جس کے بعد وہ وہیں کے ہو کر رہ گئے تھے۔ البتہ چند برس قبل انہوں نے فلم کی طرف واپس آنے کا فیصلہ کیا اور ‘سوری’ پروڈیوس کرنے کا اعلان کیا۔

لیکن فلم کے شریک پروڈیوسر اور ہدایت کار سہیل جاوید پر جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد فلم ‘سوری’ کے فنانسر پیچھے ہٹ گئے اور مجبوراً فیصل قریشی کو بھی اسے روکنا پڑا۔

اس حوالے سے انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے فیصل قریشی نے بتا یا کہ جب انہوں نے لکھاری مرحومہ اسما نبیل اور ہدایت کار سہیل جاوید کے ساتھ ‘سوری’ شروع کی تھی تو اس وقت ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کی فلم کے ساتھ ایسا ہو جائے گا۔

ان کے بقول “میں نے ‘سوری’ بغیر کسی پروڈیوسر کے شروع کی تھی کیوں کہ یہ اسکرپٹ ہم تینوں کے دل سے بہت قریب تھا۔ فلم اِس وقت تعطل کا شکار ہے جس کی وجہ میرے دوست و ہدایت کار سہیل جاوید پر ہراسانی کے بے بنیاد الزام ہیں۔”

پاکستانی ڈراموں اور فلموں میں کام کرنے کے بعد فیصل قریشی نے اب ہالی وڈ کا رخ کیا ہے جہاں ان کی ڈیبیو فلم ‘دی ونڈو’ آخری مراحل میں ہے۔ اس فلم میں ہالی وڈ میں کام کرنے والے اداکار فاران طاہر اور حمید شیخ نے کام کیا ہے جب کہ اس فلم کے ذریعے سمیع خان اور اینجلین ملک بھی ہالی وڈ ڈیبیو کریں گے۔

ہالی وڈ میں کام کے حوالے سے فیصل قریشی نے کہا کہ ‘دی ونڈو میں کام کرکے انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کے بقول فلم کی بہت اچھی عکس بندی ہوئی ہے جب کہ اس میں مرکزی کردار ادا کرنے والی سوہائے ابرو کا کام بھی سب کو پسند آئے گا۔

‘ٹی وی شوز کی میزبانی سے میرا کچن بھی چلتا ہے’

فیصل قریشی ٹی وی پر اداکاری کے ساتھ ساتھ گیم شو کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔ اس بارے میں انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اداکاری ان کا شوق ہے لیکن میزبانی سے ان کا گھر چلتاہے۔

ان کے بقول “یہ ہوسٹنگ ہی ہے جو میرا کچن چلاتی ہےاور جس کی وجہ سے میں اس قابل ہوا تھا کہ فلم پروڈیوس کرسکوں، ورنہ یہ ٹی وی پروڈیوسر چیک دینے کے لیے آج کل کرکے مہینہ نکال دیتے ہیں۔”

فیصل قریشی نے مزید بتایا کہ ا ن کے دوستوں نے انہیں کئی بار سمجھایا ہے کہ وہ اپنا دھیان اداکاری پر دیں لیکن جہاں وہ ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں وہیں ان کو اپنا گھر بھی چلانا ہے۔

ڈراموں میں کم عمر شخص کے کردار ادا کرنے کے الزام کو رد کرتے ہوئے فیصل نے بتایا کہ جب وہ 30 برس کے تھے تو ‘میری ذات ذر ہ بے نشاں’ میں عمران عباس کے والد کا کردار ادا کیا تھا جب کہ ‘قیدِ تنہائی ‘میں نیلم منیر کے باپ کا کردار ادا کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈرامہ سیریل ‘حیوان’ میں 70 برس کے آدمی کا کردار ادا کیا تھا جب کہ’دلِ مومن ‘ اور ‘فتور’ میں بھی انہوں نے کسی کم عمر لڑکے کا کردار ادا نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10، 12 برسوں میں وہ اپنی عمر کے قریب کے کردار ادا کررہے ہیں اور جو لوگ ان پر اعتراض کرتے ہیں وہ یا تو ان کے ڈرامے نہیں دیکھتے یا انہیں ان سے کوئی ذاتی مسئلہ ہے۔

فیصل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہالی وڈ میں ٹام کروز، بریڈ پٹ اور ڈینیئل کریگ اگر 50 برس کی عمر میں ہیرو آرہے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں، بھارت میں سلمان خان، عامر خان اور شاہ رخ خان اگر اب بھی مرکزی کردار ادا کررہے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن ہمارے ہاں اگر 40 یا 50 برس کا آدمی کریکٹر رو ل کرلے تو مسئلے ہی مسئلےہیں۔

About the author

Omair Alavi