Films

پاکستانی فلم ‘کارما’ فلم بینوں کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو گی?

Written by Omair Alavi

کراچی — 

ہالی وڈ ہدایت کار کوئنٹن ٹیرنٹینو کے کام سے متاثر ہو کر بنائی گئی پاکستان فلم ‘کارما’ ان دنوں شوبز حلقوں میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ فلم پنڈت کہتے ہیں کہ اس فلم میں بہت کچھ ایسا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو اس سے پہلے پاکستانی فلم میں نہیں ہوا۔

میوزک پروڈیوسر کاشان ادمانی کی فلم ‘کارما’ میں برطانوی گلوکارہ للی کیسلی نے اداکاری کی ہے جب کہ ان کے ساتھ فلم میں اداکارہ ژالے سرحدی پہلی بار ایک خاتون گینگ لیڈر کے کردار میں نظر آئی ہیں۔

فلم کی کہانی ایک ایسے امیر لڑکے کے گرد گھومتی ہے جسے اس کی گاڑی میں ہی اغوا کیا جاتا ہے۔ اغوا کاروں کو اس کے آفس میں موجود ایک ‘خاندانی ورثے’ کی تلاش ہوتی ہے جس کے بارے میں اس لڑکے کو خود بھی نہیں پتا ہوتا ہے۔

‘کارما’ کی کہانی جوں جوں آگے بڑھتی ہے، ویسے ہی ہر کردار کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔

اس فلم کے ذریعے نئے لکھاری فواد حئی اور ہدایت کار کاشان ادمانی نے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا ہے۔ دونوں اس فلم کے پروڈیوسرز بھی ہیں۔اور پرامید ہیں کہ ان کی فلم سنیما بینوں کی اس شکایت کو دور کردے گی جس کے مطابق پاکستان میں مختلف قسم کی فلمیں نہیں بنتیں۔

‘کارما’ کی زیادہ تر عکس بندی گاڑیوں میں ہوئی ہے

تین کروڑ روپے سے بھی کم بجٹ میں بننے فلم ‘کارما’ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی زیادہ تر عکس بندی گاڑیوں میں ہوئی ہے۔ پھر چاہے وہ مرکزی کردار ادا کرنے والے اسامہ طاہر کی اپنی سابق دوست سے لندن میں گفتگو ہو یا اپنی اہلیہ سے کراچی میں پہلی ملاقات یا پھر اغوا ہونے کے بعد کا منظر۔

مسلسل گاڑی میں شوٹ ہونے کی وجہ سے فلم کی لائٹنگ میں کبھی کبھار کمی بیشی بھی نظر آئی ہے۔جسے عام ناظرین تو شاید رد کردیں لیکن ہالی وڈ فلمیں دیکھنے والے عوام شاید نہ بھول سکے۔

اس فلم میں تشدد کے مناظر زیادہ شامل کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے اسے صرف بالغان کے لیے سینسر سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے۔

ایکشن فلموں کے شوقین شائقین کے لیے تو تشدد شاید نئی بات نہ ہو لیکن پاکستانی سنیما بین جو یا تو دوستوں کے ساتھ سنیما جاتے ہیں یا فیملی کے ساتھ، ان کے لیے تشدد دیکھنا اور اسے برداشت کرنا تھوڑا مشکل ہوسکتا ہے۔

‘کار چیس سیکوینس’ شائقین کو محظوظ کرنے کے لیے کافی

ہالی وڈ فلموں کی طرز پر بننے والی اس فلم کی کہانی بھی ‘نان لینئر’ ہے، جس کے مطابق کبھی ماضی میں جو ہوا وہ اسکرین پر نظر آئے گا تو کبھی حال،فلم میں کبھی 2020 میں رونما ہونے والا واقعہ اسکرین پر آتا ہے تو کبھی 2017 میں ہونے والی کوئی بات، اس قسم کی تیکنیک ان ممالک میں زیادہ کامیاب ہوتی ہے جہاں زیادہ فلمیں بنتی ہیں۔لیکن پاکستان میں جب بھی اس قسم کی تیکنیک استعمال ہوئی، لوگوں نے اسے پسند نہیں کیا۔

فلم کی زیادہ تر شوٹنگ کراچی اور لندن میں ہوئی ہے۔ لیکن گاڑی کے اندر عکس بندی کی وجہ سے باہر کے مناظر کو شائقین کم ہی دیکھ سکیں گے۔

البتہ اسپیشل افکیٹس ، متعدد کیمروں کا استعمال اور ‘سنک ریکارڈنگ’ کی تیکنیک نے فلم کو چار چاند لگادیے ہیں۔فلم کی سب سے خاص بات اس کا وہ ‘کار چیس سیکوینس’ ہے جسے دیکھ کر شائقین کافی محظوظ ہوں گے۔

فلم کے آغاز میں ہی نظر آجانے والے سیکوینس میں اداکار اسامہ طاہر پولیس سے بچنے کے لیے کراچی کی سڑکوں پر گاڑی دوڑاتے ہیں اور اپنے وفات پا جانے والے والد (عدنان صدیقی) کی تربیت کا فائدہ اتھاتے ہوئے قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔

اس فلم کے ٹریلر میں نظرآنے والا ایک منظر قابلِ ذکر ہے جس میں ایک گاڑی کو نذرآتش کر دیا جاتا ہے، اس شاٹ کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے کیوں کہ پاکستان میں اس قسم کے شاٹ کم ہی دکھائے جاتے ہیں۔

‘کارما’ صرف کار چیس ہی کا نام نہیں،اس فلم میں رومانس بھی ہے، ایکشن بھی اور بدلہ بھی ،فلم میں اصل ولن کون ہےاور کیوں ہے؟ اس کے لیے شائقین کو 113 منٹ انتظار کرنا پڑتا ہے۔

بہتر ہوتا کہ فلم کا دورانیہ کم ہوتا اور غیر ضروری مناظر جس میں شیکسپیئر کے ڈراموں اور تشدد کی تاریخ پر بات کرنے والے مناظر شامل ہیں۔ اگر کاٹ دیے جاتے تو شائقین کی دلچسپی زیادہ قائم رہتی۔

اس کے علاوہ فلم کا سب سے بڑا ڈرامائی موڑ جس کے گرد کہانی گھومتی ہے اسے ٹریلر میں جگہ دینے سے فلم کو نقصان ہوسکتا ہے۔

ژالے سرحدی ، اسامہ طاہراور نوین وقار کی اداکاری نے فلم میں جان ڈال دی

‘کارما’ میں اداکاری کرنے والے تمام ہی لوگوں نے اچھا کام کیا ، لیکن ژالے سرحدی، نوین وقار اور اسامہ طاہر کا کام الگ ہی سامنے آیا۔ ژالے سرحدی نے ایک ایسے ولن کا کردار ادا کیا جسے تشدد پسند ہے اور وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے ہر حد پار کرسکتی ہے۔

اداکار اسامہ طاہر جنہوں نے’چلے تھے ساتھ’ کے ذریعے اپنا فلمی سفر شروع کیا تھا، وہ اس فلم میں ایک ایسے امیر لڑکے کاکردار ادا کررہے ہیں جنہیں تاوان کے لیےاغوا کرلیا جاتا ہے۔کس طرح وہ اغوا کاروں کو مصروف رکھتے ہیں، یہ اس فلم کے دوران انہوں نے اپنی عمدہ اداکاری سے واضح کیا ہے۔

معروف اداکارہ نوین وقار جنہوں نے سن 2011 میں ڈرامہ ‘ہم سفر’ کے ذریعے اپنے کریئر کا آغاز کیا، انہوں نے ‘کارما’ میں اسامہ طاہر کی اہلیہ کا رول ادا کیا ہے۔ لیکن ان کے کردارکے اور بھی پہلو ہیں جنہیں انہوں نے بڑے آرام سے ادا کیا ہے۔

ژالے سرحدی کے گینگ کے ممبران پارس مسرور، عمر عالم، اور وجدان شاہ بھی فلم کے دوران مختلف کام کرتے نظر آئے جس کی وجہ سے ان کے کرداروں میں الگ رنگ بھر گیا۔

فلم میں سینئر اداکار عدنان صدیقی ، خالد انعم اور ارجمند رحیم نے بھی اہم مگر کم دورانیےکے کردار ادا کیےجن کی وجہ سے فلم کو آگے بڑھنے میں مدد ملی۔

چوں کہ کاشان ادمانی خود میوزک کے شعبے سے وابستہ ہیں اس لیےفلم کے آغاز سے لے کر اختتام تک، موسیقی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا گیا۔فلم کا بیک گراؤنڈ اسکور کاؤبوائے ویسٹرن فلموں کی یاد دلاتا ہے جب کہ کچھ جگہوں پر ٹیرنٹینو کی فلموں کی جھلک نمایاں ہے۔

فلم میں کوئی آئٹم سانگ نہیں ہے۔ البتہ برطانوی گلوکارہ للی کیسلی جنہوں نے فلم میں اسامہ طاہر کی دوست کا کردار ادا کیا، ان کا ایک گیت ‘اِٹس یو’ بھی اس کے ساؤنڈ ٹریک کا حصہ ہے۔

‘کارما’ باکس آفس پر کیسا پرفارم کرتی ہے اس کا فیصلہ تو پہلے ہفتے کے اختتام تک ہوجائے گا۔لیکن اس میں اردو سے زیادہ انگریزی زبان کا استعمال ، تشدد کی زیادتی اور گانوں کی کمی، اسے پاکستان سے زیادہ بیرون ملک شائقین کے لیے زیادہ موزوں بناتا ہے۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi