Sports

ویمنز ورلڈ کپ، سات میں سے چھ میچز ہارنے والی پاکستان ٹیم کا سفر ختم

Written by Omair Alavi

کراچی — 

نیوزی لینڈ میں جاری ویمنز ورلڈ کپ تو فی الحال ناک آؤٹ مرحلے کی طرف رواں دواں ہےلیکن اس میں پاکستان ٹیم کا سفر اب ختم ہو گیا ہے، بسمعہ معروف کی قیادت میں قومی ٹیم نے مایوس کن کارکردگی دکھائی اور سات میں سے چھ میچز میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

گو کہ پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے اس بار ورلڈ کپ میں ایک میچ جیت کر 2009 کے ایڈیشن سے جاری سلسلے کو روکا لیکن پورے ٹورنامنٹ میں صرف ایک فتح نے شائقینِ کرکٹ کو مایوس کیا۔

وہ کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کی ویمنز کرکٹ ٹیم عالمی ٹورنامنٹ میں خاطر خواہ کارکردگی نہیں دیکھا سکی آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

پاکستان کی ویمنز کرکٹ ٹیم کا ورلڈ کپ میں سفر کیسا رہا؟

نیوزی لینڈ میں جاری ورلڈ کپ کرکٹ میں پاکستان ٹیم کا سفر وارم اپ مرحلے تک بہترین تھا، نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کو شکست دینے والی ٹیم کو جب راؤنڈ میچز میں کھیلنا پڑا تو اس کے حصے میں صرف ایک کامیابی آئی۔

پاکستان ٹیم کو ایونٹ کے پہلے میچ میں بھارت نے 107 رنز کے بڑے مارجن سے ہرایا تو دوسرے مقابلے میں آسٹریلیا نے سات وکٹ سے زیر کیا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں پاکستانی خواتین نے مقابلہ تو خوب کیا لیکن صرف چھ رنز کے فرق سے شکست کھا گئیں۔

اسی بنگلہ دیش کو جسے وارم اپ مقابلوں میں پاکستانی خواتین نے ہرایا تھا، لیگ میچز میں گرین شرٹس ان سے نو رنز سے ہار گئیں۔ پاکستان کو ایونٹ کی واحد کامیابی ویسٹ انڈیز کے خلاف ملی لیکن وہ بھی ایک ایسے میچ میں جو بارش کی وجہ سے 20 اوورز تک محدود کر دیا گیا تھا۔

انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف بالترتیب نو وکٹ اور 71 رنز سے شکست کے ساتھ ہی ایونٹ میں پاکستان ویمنز ٹیم کا سفر ختم ہوا اور کئی میچز میں اسے بڑے مارجن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

جس وقت پاکستان کی ویمنز ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کر رہی تھی، اسی دوران کپتان بسمعہ معروف کی بیٹی کی ایک ایسی تصویر وائرل ہوئی، جس میں بھارتی کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی ان کے ساتھ سیلفی لے رہی ہیں۔

اس تصویر کو جہاں کرکٹ کے بے تاج بادشاہ سچن ٹندولکر نے ٹوئٹ کیا وہیں اس پر پاک بھارت کرکٹرز کی دوستی پر بھی بات کی، جبکہ بعض مبصرین نے اسے تنقید کا ذریعہ بنایا۔ ا ن کے مطابق بسمعہ معروف کی قیادت پر ان کی آف دی فیلڈ سرگرمیوں کا اثر پڑا جو دورانِ ٹورنامنٹ ان کی کارکردگی سے نظر بھی آیا۔

اگر قومی ٹیم کی کپتان کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ اس ایونٹ میں انہوں نے بلے بازی تو بری نہیں کی، لیکن ناقدین کے مطابق کپتانی کے شعبے میں مایوس کیا۔ ایونٹ کے دوران وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں 5000 رنز کا سنگِ میل عبور کرنے والی پہلی پاکستانی تو بنیں لیکن صرف ایک میچ میں کامیابی کی وجہ سے ان کا یہ انفرادی ریکارڈ کہیں کھو گیا۔

سات میں سے چھ میچز ہارنے والی بسمعہ معروف نے سات میچز میں 38 عشاریہ دو صفر کی اوسط سے 191 رنز بنائے جس میں ایک ففٹی شامل تھی۔

قومی ٹیم میں ان سے زیادہ رنز صرف سدرہ امین نے اسکور کیے جنہوں نے ایونٹ میں پاکستان کی جانب سے واحد سینچری اسکور کی تھی۔ انہوں نے اپنے 202 رنز تقریباً 29 کی اوسط سے اسکور کیے۔

اگر ایونٹ کی ٹاپ ٹین بلے بازوں کی فہرست پر نظر ڈالیں تو اس میں کوئی بھی پاکستانی بلے باز شامل نہیں، لسٹ میں آسٹریلیا، بھارت، نیوزی لینڈ، اور جنوبی افریقہ کی دو دو، جب کہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ایک ایک بلے باز شامل ہیں۔

البتہ سیریز کے دوران دو مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے والی بلے بازوں کی فہرست میں پاکستان کی دو کھلاڑی شامل ہیں جن میں عالیہ ریاض اور فاطمہ ثنا شامل ہیں۔

پورے ایونٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے کامیاب کھلاڑی ندا ڈار رہیں جنہوں نے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی طرح بیٹنگ اور بالنگ دونوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔

ایونٹ کے دوران انہوں نے 10 وکٹیں حاصل کیں جب کہ بلے بازی کرتے ہوئے دو نصف سینچریوں کی مدد سے 118 رنز اسکور کیےاگر دیگر کھلاڑی بھی ان کے جیسا پرفارم کرتے یا ان جیسے کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کیا جاتا تو پاکستان ٹیم کی جیت کا تناسب بہتر ہوتا۔

پاکستان کی ویمنز کرکٹ ٹیم ایونٹ میں اچھی کارکردگی کیوں نہ دکھا سکی؟

مبصرین کے مطابق ایونٹ میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ نئے زمانے میں پرانے زمانے کی کرکٹ کھیلنا تھا جس قسم کے ہدف پاکستان کی ویمنز ٹیم نے دوسری ٹیم کو دیے اور جس انداز میں ہدف کا تعاقب دیا، وہ 1980 اور 1990 کی دہائی میں تو چل سکتا تھا، لیکن 2022 میں نہیں۔

ایونٹ کے پہلے میچ میں روایتی حریف بھارت کے 244 رنز کے جواب میں صرف 137 رنز بنا نا ہو، آسٹریلیا کے خلاف 50 اوورز میں 6 وکٹ پر 190 رنز بنا کر 35اوور میں میچ ہارجانا ہو، یا جنوبی افریقہ کے خلاف 224 رنز کے تعاقب میں اوپنر ناہیدہ خان کا 56 اور بلے باز عمیمہ سہیل کا 62 کے اسٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کرنا ، اچھی سے اچھی ٹیم کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔


بنگلا دیشی ٹیم کے خلاف 235 رنز کے تعاقب میں تین بلے بازوں کا پہلی بال پر صفر پر آؤٹ ہونا ہو، انگلینڈ کے خلاف صرف 105 رنز پر ڈھیر ہوجانا، یا پھر نیوزی لینڈ کے خلاف ٹاپ چار بلے بازوں کا 70 کے اسٹرائیک ریٹ سے بھی کم پر رنز اسکور کرنا، انہی وجوہات کی بنا پر پاکستان کرکٹ ٹیم کو ایونٹ میں صرف ایک کامیابی ملی۔

پاکستان ویمنزکرکٹ ٹیم پر سب سے زیادہ تنقید اسپورٹس صحافیوں کی جانب سے سامنے آ رہی ہے، جن کے خیال میں گروپنگ کی وجہ سے اچھے کھلاڑی فائنل الیون میں شامل نہیں، کسی نے آف اسپنر رمین شمیم کی غیر موجودگی کو گرین شرٹس کے لیے دھچکہ قرار دیا تو کسی نے ایمن انور کی ٹیم میں شمولیت پر سوال اٹھایا۔

اگر آ ل راؤنڈر ڈیانا بیگ ان فٹ تھیں، تو ان کی جگہ کسی اور کھلاڑی کو بھی کھلایا جاسکتا تھا، تاہم کپتان اور مینجمنٹ نے ایسا نہیں کیا اور سات میچز میں تین وکٹ اور 68 رنز بنانے والی کھلاڑی کو ایک میچ میں بھی ڈراپ نہیں کیا گیا۔

سات میچز میں 11 عشاریہ چار کی اوسط سے 57 رنز بنانے والی سدرہ نواز ٹیم کے ساتھ رہیں جب کہ عالیہ ریاض سے آل راؤنڈر ہونے کے باوجوود صرف ایک اوور کرایا گیا جب کہ 7 میچز میں ایک نصف سینچری کی بدولت انہوں نے صرف 74 رنز بنائے۔

پاکستان کی تیز ترین خاتون بالر ماہم طارق کو اے ٹیم کے ساتھ اچھی کارکردگی کےباوجود ایونٹ کے لیے منتخب نہیں کیا گیا،

کیا رمیز راجہ ویمنز ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر ایکشن لیں گے؟

ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے قومی ویمنز کرکٹ ٹیم کی ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کا نوٹس لے کر وطن واپسی پران سے اس حوالے سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم قومی ٹیم میں کسی بڑی قسم کی تبدیلی کی جانب ہوئی عندیہ نہیں دیا۔

پاکستان کی ویمنز ٹیم کی ورلڈ کپ میں جیسی بھی کارکردگی ہو، رمیز راجہ ویمن کرکٹرز کیلئے پاکستان سپر لیگ کی تصدیق کرچکے ہیں، ان کے خیال میں یہ ایشیا میں اس قسم کی پہلی ٹی ٹوئنٹی لیگ ہو گی، لیکن کیا ویمنز پی ایس ایل پاکستان میں چل سکے گی، یہ ایک الگ ہی بحث ہے۔

About the author

Omair Alavi