Films

بلیک لائیوز میٹر، امریکی کرائم شوز بھی کہانیوں پر نظرِ ثانی کرنے لگے

Written by Omair Alavi

کراچی — 

امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر میناپولس میں گزشتہ برس مئی میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں ہلاکت نے جہاں امریکی حکومت کو اپنی بعض پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا وہیں ٹی وی پر نشر ہونے والے کئی ‘کرائم شوز’ کو بھی اپنی کہانیوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑی۔

دنیا کے مختلف ممالک میں دیکھے جانے والے ان ٹی وی شوز نے ‘بلیک لائیوز میٹر’ تحریک کے دوبارہ منظم ہونے کے بعد کئی ایسے قدم اٹھائے جن کی وجہ سے ان پروگراموں میں سیاہ فام اور سفید فام افراد کے درمیان چپقلش کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں سیاہ فام کرداروں اور اداکاروں کی تاریخ پر ایک نظر

امریکی ٹی وی پر نشر ہونے والے کرائم شوز کی نئی پالیسی پر بات کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ امریکی ٹی وی شوز اور فلموں میں سیاہ فام افراد کی نمائندگی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے۔

سن 1928 سے لے کر سن 1960 تک، امریکی ریڈیو پر ‘ایموس اینڈ اینڈی’ نامی پروگرام بے حد مقبول تھا۔ لیکن اس شو میں ‘ایموس اور اینڈی’ نامی دو سیاہ فام افراد کا فرضی کردار دو سفید فام اداکار فری مین گوسڈین اور چارلس کوریل ادا کرتے تھے۔

سن 1930 میں جب اس مقبول شو کی بلیک اینڈ وائٹ فلم ریلیز کی گئی تو مرکزی کردار انہی دو اداکاروں نے ادا کیے جن کی آواز ریڈیو پر سننے والوں میں کافی مقبول تھی، تاہم ان دونوں اداکاروں نے خود پر ‘بلیک فیس’ یعنی کالا رنگ اپلائی کیا تاکہ شائقین کو وہی نظر آئے، جو وہ دیکھنا چاہ رہے تھے۔

جب پچاس کی دہائی میں اس کامیاب ریڈیو شو کو ٹی وی پر پیش کیا گیا تو اس میں مرکزی کردار دو سیاہ فام اداکاروں ایلوین چائلڈریس اور سپینسر ولیمز نے ادا کیے۔

قریباً دو برس جاری رہنے والا ‘دی ایموس اینڈ اینڈی شو’ امریکی تاریخ کا پہلا ٹی وی شو تھا جس میں مرکزی کردار سیاہ فام اداکاروں نے ادا کیے ساتھ ہی ساتھ ملٹی کیمرا تکنیک بھی اسی شو کے ذریعے متعارف کی گئی۔

دو سیزنز کے بعد اس شو کو غیر سفید فام افراد کے حقوق کی تنظیم ‘نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیوپل’ کے احتجاج کے بعد بند کر دیا گیا اور اس کے بعد کافی عرصے تک کسی ٹی وی شو میں مرکزی کردار کسی سیاہ فام امریکی نے ادا نہیں کیا۔

تنظیم کا مؤقف تھا کہ شو کے دوران سیاہ فام افراد سے متعلق لطفیے اور ‘نامناسب’ جملے کسے جاتے ہیں۔

امریکی ٹی وی پر سیاہ فام اداکاروں کی کامیاب واپسی

یہاں امریکی کامیڈین بل کوسبی کا ذکر کرنا ضروری ہے جنہوں نے 1965 میں ‘آئی اسپائی’ نامی سیریز کے ذریعے اپنے ٹی وی کریئر کا آغاز کیا اور اتنے مشہور ہو گئے کہ دیگر سیاہ فام اداکاروں نے بھی ٹی وی کا رخ کرنا شروع کر دیا۔

‘آئی اسپائی’ کے بعد بل کوسبی نے پہلے ستر کی دہائی میں ‘دی بل کوسبی شو’ اور پھر اسی کی دہائی میں ‘دی کوسبی شو’ شروع کیا۔ 1984 میں شروع ہونے والا ‘دی کوسبی شو’ آٹھ سال جاری رہا اور اس شو نے امریکی سفید فام ناظرین کو سیاہ فام ہم وطنوں کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

س کے بعد نہ صرف سیاہ فام امریکی اداکاروں کو ٹی وی پر مرکزی کردار میں کاسٹ کیا جانے لگا بلکہ کئی شوز میں تو ایک مرکزی کردار کا سیاہ فام ہونا کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا۔

اسی اور نوے کی دہائی میں ‘ڈفرنٹ اسٹروکس’ اور ‘دی فریش پرنس آف بیل ایئر’ جیسے ‘سٹ کام’ کی کہانی کا سیاہ فام گھرانوں کے گرد گھومنا ہی سیاہ فام اداکاروں کی کامیابی تھی۔

‘اسکینڈل’ میں اگر اداکارہ کیری واشنگٹن کا کردار اولیویا پوپ امریکی سیاست کے شیرازے کو بکھرنے سے بچاتا ہے تو ‘ہاؤ ٹو گیٹ اوے ود مرڈر’ میں اینالیز کیٹنگ کا کردار نبھانے والی وائولا ڈیوس اپنے شاگردوں اور اپنے آپ کو سزا پانے سے بچاتی ہے۔

امریکی ٹی وی پر سیاہ فام افراد کی نمائندگی میں پہلے سے بہتری

امریکی شہر لاس اینجلس میں واقع یو سی ایل اے کی تحقیق ‘ہالی وڈ ڈائیورسٹی: اے ٹیل آف ٹو ہالی وڈز’ کے مطابق امریکی ٹی وی انڈسٹری میں سیاہ فام اداکاروں کی نمائندگی میں بہتری آرہی ہے۔ یہ تحقیق جو 2018 میں پیش کی گئی، اس کے مطابق 2011، 2012 کے مقابلے میں 2017 اور 2019 ٹی وی پر کام کرنے والے سیاہ فام اداکاروں کے لیے بہتر تھا۔

اس تحقیق نے بتایا کہ امریکی ٹی وی پر 2011، 2012 میں صرف 5.1 فی صد مرکزی کردار سیاہ فام اداکاروں کو دیے گئے جب کہ 2018، 2019 میں یہ تعداد بڑھ کر 24 فی صد ہو گئی۔ تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا کہ امریکہ میں ٹی وی نیٹ ورک کے سربراہوں میں 92 فی صد لوگ سفید فام ہیں جب کہ کیمرے کے پیچھے اب بھی زیادہ سیاہ فام نمائندگی کی ضرورت ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ میں جہاں آبادی کا 13 فی صد حصہ سیاہ فام افراد ہیں وہاں آج بھی صرف 10 سے 15 فی صد غیر سفید فام لوگ ڈیجیٹل، ٹی وی اور اسکرپٹڈ شو کے پروڈیوسر ہیں، صرف 24 فی صد اسکرپٹ لکھتے ہیں اور 22 فی صد کو ہدایت کاری دینے کا موقع ملتا ہے۔

‘سواٹ’ اور ‘دی روکی’ جیسے کرائم شوز امریکی شائقین کی سوچ بدلنے کے لیے پرعزم

امریکہ میں پولیس تحویل میں سیاہ فام افراد کے ساتھ مبینہ طور پر ناروا سلوک کی شکایات میں اضافے کے بعد امریکی ٹی وی نیٹ ورکس نے اپنے کام کرنے کے طریقے کو بدلا۔

گزشتہ برس مسلسل 32 سیزن سے جاری ‘کوپس’ ٹی وی شو کو بند کر دیا گیا کیوں کہ چینل مالکان کا خیال تھا کہ اس شو میں جو دکھایا جارہا تھا وہ حقیقت کے برعکس تھا۔

اسی طرح ایک اور نیٹ ورک نے ‘لائیو پی ڈی’ نامی شو کو عکس بندی سے پہلے ہی ختم کر دیا۔

ماہرین کے مطابق اگر گزشتہ پانچ برسوں میں کسی شو نے سیاہ اور سفید فام امریکیوں کی درست عکاسی کی ہے، تو وہ ہے سی بی ایس کا ‘ایس ڈبلیو اے ٹی’ سواٹ’ جو 1975 میں نشر ہونے والی سیریز کا ری بوٹ ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جب 70 کی دہائی میں ‘سواٹ’ نشر ہوا تھا تو اس میں ایک سیاہ فام اداکار کاسٹ کا حصہ تھا۔ لیکن پانچ سال قبل اس کے ری بوٹ میں مرکزی کردار ایک سیاہ فام پولیس آفیسر کا ہے جسے حالات کو قابو میں لانے کے لیے ٹیم کا سربراہ بنایا جاتا ہے۔

چار برس بعد جب وہی آفیسر سیاہ فام امریکیوں کے خلاف مقامی پولیس کی متعصبانہ کارروائی پر سے پردہ ہٹاتا ہے تو اس کی تنزلی کر کے اسے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ کوئی بھی سسٹم سے ٹکر لے کر بچ نہیں سکتا۔

اسی طرح ‘اے بی سی’ کے شو ‘دی روکی’ کے پہلے تین سیزنز میں جہاں اسٹیشن کا واچ کمانڈر ایک سیاہ فام افسر ہے وہیں اس کے ماتحت کام کرنے والی ایک ٹریننگ آفیسر اور ایک نوجوان بھی سیاہ فام تھے۔

تیسرے سیزن کے دوران جب وہ نوجوان سیاہ فام آفیسر ایک ‘متعصب’ ٹریننگ آفیسر کے ساتھ وقت گزارتا ہے تو اسے سیاہ فام افراد کے خلاف پولیس کے مبینہ ناروا سلوک کا اندازہ ہوتا ہے اسی لیے وہ نوجوان آفیسر اپنے واچ کمانڈر کے ساتھ مل کر اس ‘متعصب’ آفیسر کا راز فاش کرتا ہے۔

صرف یہی نہیں، ‘ایف بی آئی’، ‘بُل’، اور ‘لا اینڈ آرڈر’ جیسے معروف کرائم شوز میں سیاہ فام افراد کے خلاف زیادتی کو سامنے لانے کی کوشش بھی کی گئی ہے اور اس کا حل بھی بتانے کی نہ صرف ان شوز کی مرکزی کاسٹ میں سیاہ فام افراد شامل ہیں، بلکہ ان کی درست ترجمانی بھی کر رہے ہیں۔

امریکی ٹی وی شوز آ گے جا کر کیا اس تحریک کو اسپورٹ کریں گے یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن اتنا ضرور ہو گیا ہے کہ جس ٹی وی پر پہلے سیاہ فام امریکیوں کے لیے جگہ بنانا مشکل تھا، وہاں اب وسطی ایشین، جنوبی ایشیا، یورپ سمیت دنیا بھر سے اداکاروں کو مرکزی کردار میں کاسٹ کیا جا رہا ہے۔

Omair Alavi – BOL News

Films

بلیک لائیوز میٹر، امریکی کرائم شوز بھی کہانیوں پر نظرِ ثانی کرنے لگے

Written by Omair Alavi

راچی — 

امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر میناپولس میں گزشتہ برس مئی میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں ہلاکت نے جہاں امریکی حکومت کو اپنی بعض پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا وہیں ٹی وی پر نشر ہونے والے کئی ‘کرائم شوز’ کو بھی اپنی کہانیوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑی۔

دنیا کے مختلف ممالک میں دیکھے جانے والے ان ٹی وی شوز نے ‘بلیک لائیوز میٹر’ تحریک کے دوبارہ منظم ہونے کے بعد کئی ایسے قدم اٹھائے جن کی وجہ سے ان پروگراموں میں سیاہ فام اور سفید فام افراد کے درمیان چپقلش کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں سیاہ فام کرداروں اور اداکاروں کی تاریخ پر ایک نظر

امریکی ٹی وی پر نشر ہونے والے کرائم شوز کی نئی پالیسی پر بات کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ امریکی ٹی وی شوز اور فلموں میں سیاہ فام افراد کی نمائندگی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے۔

سن 1928 سے لے کر سن 1960 تک، امریکی ریڈیو پر ‘ایموس اینڈ اینڈی’ نامی پروگرام بے حد مقبول تھا۔ لیکن اس شو میں ‘ایموس اور اینڈی’ نامی دو سیاہ فام افراد کا فرضی کردار دو سفید فام اداکار فری مین گوسڈین اور چارلس کوریل ادا کرتے تھے۔

ن 1930 میں جب اس مقبول شو کی بلیک اینڈ وائٹ فلم ریلیز کی گئی تو مرکزی کردار انہی دو اداکاروں نے ادا کیے جن کی آواز ریڈیو پر سننے والوں میں کافی مقبول تھی، تاہم ان دونوں اداکاروں نے خود پر ‘بلیک فیس’ یعنی کالا رنگ اپلائی کیا تاکہ شائقین کو وہی نظر آئے، جو وہ دیکھنا چاہ رہے تھے۔

جب پچاس کی دہائی میں اس کامیاب ریڈیو شو کو ٹی وی پر پیش کیا گیا تو اس میں مرکزی کردار دو سیاہ فام اداکاروں ایلوین چائلڈریس اور سپینسر ولیمز نے ادا کیے۔

تقریباً دو برس جاری رہنے والا ‘دی ایموس اینڈ اینڈی شو’ امریکی تاریخ کا پہلا ٹی وی شو تھا جس میں مرکزی کردار سیاہ فام اداکاروں نے ادا کیے ساتھ ہی ساتھ ملٹی کیمرا تکنیک بھی اسی شو کے ذریعے متعارف کی گئی۔

دو سیزنز کے بعد اس شو کو غیر سفید فام افراد کے حقوق کی تنظیم ‘نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیوپل’ کے احتجاج کے بعد بند کر دیا گیا اور اس کے بعد کافی عرصے تک کسی ٹی وی شو میں مرکزی کردار کسی سیاہ فام امریکی نے ادا نہیں کیا۔

تنظیم کا مؤقف تھا کہ شو کے دوران سیاہ فام افراد سے متعلق لطفیے اور ‘نامناسب’ جملے کسے جاتے ہیں۔

امریکی ٹی وی پر سیاہ فام اداکاروں کی کامیاب واپسی

یہاں امریکی کامیڈین بل کوسبی کا ذکر کرنا ضروری ہے جنہوں نے 1965 میں ‘آئی اسپائی’ نامی سیریز کے ذریعے اپنے ٹی وی کریئر کا آغاز کیا اور اتنے مشہور ہو گئے کہ دیگر سیاہ فام اداکاروں نے بھی ٹی وی کا رخ کرنا شروع کر دیا۔

ئی اسپائی’ کے بعد بل کوسبی نے پہلے ستر کی دہائی میں ‘دی بل کوسبی شو’ اور پھر اسی کی دہائی میں ‘دی کوسبی شو’ شروع کیا۔ 1984 میں شروع ہونے والا ‘دی کوسبی شو’ آٹھ سال جاری رہا اور اس شو نے امریکی سفید فام ناظرین کو سیاہ فام ہم وطنوں کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس کے بعد نہ صرف سیاہ فام امریکی اداکاروں کو ٹی وی پر مرکزی کردار میں کاسٹ کیا جانے لگا بلکہ کئی شوز میں تو ایک مرکزی کردار کا سیاہ فام ہونا کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا۔

اسی اور نوے کی دہائی میں ‘ڈفرنٹ اسٹروکس’ اور ‘دی فریش پرنس آف بیل ایئر’ جیسے ‘سٹ کام’ کی کہانی کا سیاہ فام گھرانوں کے گرد گھومنا ہی سیاہ فام اداکاروں کی کامیابی تھی۔

ماضی قریب میں ہی میں پروڈیوسر شونڈا رائمز کے ٹی وی شوز ‘اسکینڈل’ اور ہاؤ ٹو گیٹ اوے ود مرڈر’ نے ریکارڈ کامیابی حاصل کیں، دونوں سیریز میں مرکزی کردار ایک مضبوط سیاہ فام عورت کا تھا جو اپنے دماغ کو استعمال کر کے بڑے بڑے مسائل کا حل نکال لیتی تھی۔

‘اسکینڈل’ میں اگر اداکارہ کیری واشنگٹن کا کردار اولیویا پوپ امریکی سیاست کے شیرازے کو بکھرنے سے بچاتا ہے تو ‘ہاؤ ٹو گیٹ اوے ود مرڈر’ میں اینالیز کیٹنگ کا کردار نبھانے والی وائولا ڈیوس اپنے شاگردوں اور اپنے آپ کو سزا پانے سے بچاتی ہے۔

امریکی ٹی وی پر سیاہ فام افراد کی نمائندگی میں پہلے سے بہتری

امریکی شہر لاس اینجلس میں واقع یو سی ایل اے کی تحقیق ‘ہالی وڈ ڈائیورسٹی: اے ٹیل آف ٹو ہالی وڈز’ کے مطابق امریکی ٹی وی انڈسٹری میں سیاہ فام اداکاروں کی نمائندگی میں بہتری آرہی ہے۔ یہ تحقیق جو 2018 میں پیش کی گئی، اس کے مطابق 2011، 2012 کے مقابلے میں 2017 اور 2019 ٹی وی پر کام کرنے والے سیاہ فام اداکاروں کے لیے بہتر تھا۔

اس تحقیق نے بتایا کہ امریکی ٹی وی پر 2011، 2012 میں صرف 5.1 فی صد مرکزی کردار سیاہ فام اداکاروں کو دیے گئے جب کہ 2018، 2019 میں یہ تعداد بڑھ کر 24 فی صد ہو گئی۔ تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا کہ امریکہ میں ٹی وی نیٹ ورک کے سربراہوں میں 92 فی صد لوگ سفید فام ہیں جب کہ کیمرے کے پیچھے اب بھی زیادہ سیاہ فام نمائندگی کی ضرورت ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ میں جہاں آبادی کا 13 فی صد حصہ سیاہ فام افراد ہیں وہاں آج بھی صرف 10 سے 15 فی صد غیر سفید فام لوگ ڈیجیٹل، ٹی وی اور اسکرپٹڈ شو کے پروڈیوسر ہیں، صرف 24 فی صد اسکرپٹ لکھتے ہیں اور 22 فی صد کو ہدایت کاری دینے کا موقع ملتا ہے۔

‘سواٹ’ اور ‘دی روکی’ جیسے کرائم شوز امریکی شائقین کی سوچ بدلنے کے لیے پرعزم

امریکہ میں پولیس تحویل میں سیاہ فام افراد کے ساتھ مبینہ طور پر ناروا سلوک کی شکایات میں اضافے کے بعد امریکی ٹی وی نیٹ ورکس نے اپنے کام کرنے کے طریقے کو بدلا۔

گزشتہ برس مسلسل 32 سیزن سے جاری ‘کوپس’ ٹی وی شو کو بند کر دیا گیا کیوں کہ چینل مالکان کا خیال تھا کہ اس شو میں جو دکھایا جارہا تھا وہ حقیقت کے برعکس تھا۔

اسی طرح ایک اور نیٹ ورک نے ‘لائیو پی ڈی’ نامی شو کو عکس بندی سے پہلے ہی ختم کر دیا۔

ماہرین کے مطابق اگر گزشتہ پانچ برسوں میں کسی شو نے سیاہ اور سفید فام امریکیوں کی درست عکاسی کی ہے، تو وہ ہے سی بی ایس کا ‘ایس ڈبلیو اے ٹی’ سواٹ’ جو 1975 میں نشر ہونے والی سیریز کا ری بوٹ ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جب 70 کی دہائی میں ‘سواٹ’ نشر ہوا تھا تو اس میں ایک سیاہ فام اداکار کاسٹ کا حصہ تھا۔ لیکن پانچ سال قبل اس کے ری بوٹ میں مرکزی کردار ایک سیاہ فام پولیس آفیسر کا ہے جسے حالات کو قابو میں لانے کے لیے ٹیم کا سربراہ بنایا جاتا ہے۔

چار برس بعد جب وہی آفیسر سیاہ فام امریکیوں کے خلاف مقامی پولیس کی متعصبانہ کارروائی پر سے پردہ ہٹاتا ہے تو اس کی تنزلی کر کے اسے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ کوئی بھی سسٹم سے ٹکر لے کر بچ نہیں سکتا۔

اسی طرح ‘اے بی سی’ کے شو ‘دی روکی’ کے پہلے تین سیزنز میں جہاں اسٹیشن کا واچ کمانڈر ایک سیاہ فام افسر ہے وہیں اس کے ماتحت کام کرنے والی ایک ٹریننگ آفیسر اور ایک نوجوان بھی سیاہ فام تھے۔

تیسرے سیزن کے دوران جب وہ نوجوان سیاہ فام آفیسر ایک ‘متعصب’ ٹریننگ آفیسر کے ساتھ وقت گزارتا ہے تو اسے سیاہ فام افراد کے خلاف پولیس کے مبینہ ناروا سلوک کا اندازہ ہوتا ہے اسی لیے وہ نوجوان آفیسر اپنے واچ کمانڈر کے ساتھ مل کر اس ‘متعصب’ آفیسر کا راز فاش کرتا ہے۔

صرف یہی نہیں، ‘ایف بی آئی’، ‘بُل’، اور ‘لا اینڈ آرڈر’ جیسے معروف کرائم شوز میں سیاہ فام افراد کے خلاف زیادتی کو سامنے لانے کی کوشش بھی کی گئی ہے اور اس کا حل بھی بتانے کی نہ صرف ان شوز کی مرکزی کاسٹ میں سیاہ فام افراد شامل ہیں، بلکہ ان کی درست ترجمانی بھی کر رہے ہیں۔

امریکی ٹی وی شوز آ گے جا کر کیا اس تحریک کو اسپورٹ کریں گے یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن اتنا ضرور ہو گیا ہے کہ جس ٹی وی پر پہلے سیاہ فام امریکیوں کے لیے جگہ بنانا مشکل تھا، وہاں اب وسطی ایشین، جنوبی ایشیا، یورپ سمیت دنیا بھر سے اداکاروں کو مرکزی کردار میں کاسٹ کیا جا رہا ہے۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi