اسپورٹس

کشمیر پریمیئر لیگ کا تنازعات کے ساتھ آغاز، کون سا کھلاڑی کس ٹیم میں شامل؟

Written by Omair Alavi

فائل فوٹو

کراچی — پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرکٹ کا میلہ ’کشمیر پریمیئر لیگ‘ (کے پی ایل) کا آغاز جمعے سے ہو رہا ہے جس میں کئی کھلاڑی مظفر آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔

پاکستان کے مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی راولا کوٹ اور سابق کپتان شعیب ملک میرپور ہاکس کی نہ صرف قیادت کریں گے بلکہ پہلے ہی میچ میں آمنے سامنے ہوں گے۔

آج سے شروع ہونے والی اس کرکٹ لیگ میں مجموعی طور پر 19 میچز کھیلے جائیں گے جس میں ایک کوالیفائنگ میچ اور دو ایلیمنٹرز کے ساتھ ساتھ 17 اگست کو کھیلا جانے والا فائنل بھی شامل ہے۔

ایونٹ میں چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن کا نام کشمیر کے اہم شہروں مظفر آباد، باغ، کوٹلی، راولا کوٹ اور میر پور سے منسوب کیا گیا ہے۔

ایونٹ کے تمام میچز مظفر آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے جنہیں دیکھنے کے لیے گنجائش کے 30 فی صد کے مطابق تماشائیوں کو گراؤنڈ میں آنے کی اجازت ہو گی۔

انٹرنیشنل کرکٹرز کی غیر موجودگی سے ایونٹ کو دھچکا

اگر ایونٹ میں شامل ٹیموں کی بات کی جائے تو پاکستان کے کئی نامور کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ سابق انٹرنیشنل کرکٹرز کو اس میں شرکت کرنا تھی البتہ پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) نے سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والوں کو اس لیگ میں شرکت سے روک دیا تھا۔

یوں پاکستان ٹیم میں شامل عماد وسیم، شاداب خان، فخر زمان اور عثمان قادر اس لیگ کا حصہ نہیں ہوں گے۔ قومی ٹیم کی دورہ ویسٹ انڈیز پر نمائندگی کرنے والے محمد حفیظ، صہیب مقصود اور شرجیل خان لیگ میں حصہ لیں گے کیوں کہ وہ سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوئے تھے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم میں واپسی کے خواہش مند کھلاڑیوں شعیب ملک اور حیدر علی بھی اس لیگ کے ذریعے سلیکٹرز کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے خواہش مند ہیں۔

انگلینڈ کے سابق کھلاڑی مونٹی پنیسر، میٹ پرائر، فل مسٹرڈ اور اویس شاہ جنہوں نے اس لیگ میں شرکت پر رضا مندی ظاہر کی تھی وہ اب ایونٹ کا حصہ نہیں ہوں گے۔

کون سا کھلاڑی کس ٹیم کا حصہ

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چھٹے سیزن میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کئی کھلاڑی اس لیگ میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔ مبصرین کے مطابق نوجوان کھلاڑیوں کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔

باغ اسٹالینز کے پاس پی ایس ایل سیزن سکس میں شاندار کارکردگی دکھانے والے شان مسعود، افتخار احمد، عمید آصف اور محمد الیاس ہیں جب کہ ابھرتے ہوئے نوجوان وکٹ کیپر اور پاکستان انڈر 19 کے سابق کپتان روحیل نذیر اس ٹیم کا حصہ ہوں گے۔

کوٹلی لائنز کے پاس کامران اکمل ہیں۔ جو نہ صرف پاکستان کے لیے کئی سال کھیل چکے ہیں بلکہ آج بھی ان کا شمار بہتر بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ پی ایس ایل اسٹارز آصف علی، عمران خان اور عاکف جاوید بھی اس ٹیم میں شامل ہوں گے۔

میرپور رائلز کی قیادت شعیب ملک کر رہے ہیں۔ اس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں میں خوش دل شاہ اور محمد عرفان تو ہیں ہی۔ ساتھ ساتھ شرجیل خان جو اس وقت پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا حصہ ہیں، ان کے بھی ایکشن میں نظر آنے کا امکان ہے۔

مظفر آباد لائنز کی قیادت سابق پاکستانی کپتان اور حال ہی میں ویسٹ انڈیز میں مین آف دی میچ قرار دیے جانے والے محمد حفیظ کریں گے۔ قومی کرکٹرز سہیل تنویر، صہیب مقصود، محمد وسیم جونیئر اور ارشد اقبال اس ٹیم کا حصہ ہوں گے جب کہ پی ایس اسٹارز سہیل اختر، اسامہ میر اور انور علی بھی اس ٹیم کو مضبوط بنائیں گے۔

سری لنکا کے سابق کھلاڑی تلکرتنے دلشن کی متوقع آمد سے بھی مظفرآباد لائنز کی پوزیشن مستحکم ہو گی۔

راولاکوٹ ہاکس کی قیادت پاکستان کے مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی کریں گے جو انٹرنیشنل کرکٹ سے تو ریٹائرڈ ہو چکے ہیں البتہ اب بھی کرکٹ کے میدان میں نظر آتے ہیں۔ اس ٹیم میں جہاں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے حسین طلعت، ظفر گوہر اور دانش عزیز ہیں، وہیں سابق اوپنر احمد شہزاد بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

اور آخر میں بات اوورسیز وارئیرز کی جس کی جانب سے جنوبی افریقہ کے لیجنڈ ہرشل گبز بطور کھلاڑی ایکشن میں نظر آئیں گے۔ نوجوان پاکستانی کرکٹرز حیدر علی، اعظم خان، محمد موسیٰ اور حماد اعظم کے پاس ون ڈے میں لگاتار چھ چھکے مارنے والےکرکٹر سے کچھ سیکھنے کا اس سے بہترین موقع نہیں ہو گا۔

کے پی ایل سے بھارت کے کرکٹ بورڈ کو کیا مسئلہ ہے؟

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں شروع ہونے والی پریمیئر لیگ (کے پی ایل) پر بھارت نے اعتراض کیا ہے۔ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارت کے کرکٹ بورڈ نے 80 کی دہائی میں دو میچ کرائے تھے جس میں اسے ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا دونوں نے شکست دی تھی۔

لیکن اب بھارت کے کرکٹ بورڈ نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ان تمام کھلاڑیوں کو کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت سے روک دیا ہے جن کا تعلق یا تو بھارت سے تھا، یا جو انڈین پریمیئر لیگ کا حصہ ہیں، یا اس کا حصہ بننے کے خواہش مند ہیں۔

یہ معاملہ سامنے اس وقت آیا جب جنوبی افریقہ کے سابق بلے باز ہرشل گبز نے ایک ٹوئٹ میں بھارت کی کوششوں کا ذکر کیا۔

ہرشل گبز کا کہنا تھا کہ بھارت کے کرکٹ بورڈ نے انہیں ‘دھمکی’ دی ہے کہ اگر وہ کشمیر پریمیئر لیگ کا حصہ بنے تو اُنہیں بھارت میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان سپر لیگ میں شامل ٹیم کراچی کنگز کے ہیڈ کوچ کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے کرکٹ بورڈ کی جانب سے سیاسی معاملات کو کرکٹ میں لانا غیر ضروری ہے۔

بھارت کے کرکٹ بورڈ کے حالیہ اقدامات پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی روایات اور جینٹل مین گیم کی روح کے منافی ہے۔

پی سی بی کے بیان میں کہا گیا کہ یہ معاملہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی سطح پر بھی اُٹھایا جائے گا۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi

عمیر علوی ایک بہت معزز صحافی، تنقید کار اور تبصرہ نگار ہیں جو خبروں، کھیلوں، شوبز، فلم، بلاگ، مضامین، ڈرامہ، جائزوں اور پی ٹی وی ڈرامہ میں مہارت رکھتے ہیں۔ وسیع تجربے اور داستان سوزی کی خصوصیت کے ساتھ، وہ اپنے دلچسپ تجزیوں اور دلکش تقریروں کے ذریعے حاضرین کو مسحور کرتے ہیں۔ ان کی ماہری اور تعاون نے انہیں میڈیا اور تفریحی صنعت کا اہم شخصیت بنا دیا ہے۔