Films

کیا سنیما کا کم بیک نیٹ فلکس کو اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور کررہا ہے؟

Written by Omair Alavi

کراچی — 

معروف اسٹریمنگ سروس ‘نیٹ فلکس’ نے گزشتہ دو برسوں کے دوران تقریباً ہر مہینے ہی ایک بڑے بجٹ کی فلم پیش کی ہے لیکن اب پلیٹ فارم کے مدِ مقابل کرونا وبا کے بعد پھر سے آباد ہونے والے سنیما گھر ہیں۔

عالمی وبا کے دوران سنیما کی بندش کے عرصے میں نیٹ فلکس کے سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا جب کہ دنیا بھر میں اس کی مانگ بھی بڑھی، اور گزشتہ دو برسوں کے دوران نیٹ فلکس اوریجنلز کے تحت بننے والی کئی فلمیں شائقین کو پسند آئیں جس میں ‘دی اولڈ گارڈ’ اور ‘دی ٹرائل آف شکاگو سیون’ شامل ہیں۔

وبا کے بعد ‘اسپائڈر مین: نو وے ہوم’، ‘ڈاکٹر اسٹرینج: ان دی ملٹی ورس اور میڈنیس’ ، ‘ ٹاپ گن میورک’، ‘جراسک ورلڈ: ڈومینین’اور ‘تھور لو اینڈ تھنڈر’ جیسی فلموں کی کامیابی نے سنیما کو ایک مرتبہ پھر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔

حال ہی میں نیٹ فلکس کے بینر تلے ریلیز ہونے والی فلم ‘دی گرے مین’ نیٹ فلکس کے لیے کسی ٹیسٹ سے کم نہیں ہے۔اگر 20 کروڑ ڈالرز کی لاگت سے بننے والی یہ فلم اپنے بجٹ سے تین گنا زیادہ منافع حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس سے نیٹ فلکس کو سنیما گھروں کو ٹکر دینے کا دوبارہ موقع مل جائے گا۔

امریکی جریدے ‘ورائٹی’ کے لیے لکھتے ہوئے مبصر ٹائیلر ایکوی لینا کہتے ہیں کہ اس سال کے آغاز تک نیٹ فلکس کو میعار سے زیادہ تعداد پر اعتماد تھا جس کی وجہ سے تقریباً ہر ماہ نیٹ فلکس اوریجنلز کے بینر تلے ایک بڑے بجٹ کی فلم کی ریلیز ہوتی تھی۔

ان کے بقول فلم کے کامیاب ہونے یا نہ ہونے سے اسٹریمنگ سروس کو اس لیے کو ئی غرض نہیں ہوتا تھا کیوں کہ پانچ ہفتوں بعد نئی فلم کی آمد پرانی فلم کو پیچھے ڈھکیل دیتی تھی اور سنیما کی بندش کی وجہ سے شائقین کے پاس اس فلم کو یکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا تھا۔

انہوں نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ ‘دی گرے مین’ کی ریلیز سے نیٹ فلکس کے ہیڈ آف گلوبل فلم اسکاٹ اسٹوبر اس لیے بھی پُرامید ہیں کہ اس فلم کی ممکنہ کامیابی کے بعد نیٹ فلکس کی توجہ ‘کم اور بہتر’ فلموں کی طرف متوجہ ہوجائے گی۔

مبصر ٹائیلر ایکوی لینا کہتے ہیں کہ ‘دی گرے مین’ سے قبل نیٹ فلکس فلم کی تشہیر پر زیادہ پیسہ خرچ نہیں کرتا تھا لیکن سنیما کے کم بیک کے بعد اسے اپنی اسٹریٹیجی تبدیل کرنا پڑ رہی ہے۔

نیٹ فلکس کےشریک چیف ایگزیکیٹو آفیسر ٹیڈ سرانڈوس نے ‘ورائٹی’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوشش ہوگی کہ نیٹ فلکس دنیا بھر میں اچھا بزنس کرنے کی اہلیت رکھنے والی فلموں کی سرگرمی سے مارکیٹنگ کرے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر فلم ‘دی گرے مین’ دنیا بھر میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس سے نیٹ فلکس کو ‘پیراماؤنٹ’ اور ‘ڈزنی’ جیسے پلیٹ فارمز کے برابر آنے کا موقع ملے گا کیوں کہ دیگر پلیٹ فارمز کے مقابلے میں نیٹ فلکس کے پاس اپنی فرانچائز کی کمی تھی، جو اس فلم سے پوری ہوجائے گی۔

نیٹ فلکس کے پاس اب تک اپنی فرانچائز کیوں نہیں تھی؟

نیٹ فلکس نے سنیما کو ٹکر دینے کے لیے جن فرانچائز فلموں کو ماضی میں اپنی سروس کا حصہ بنایا تھا، دیگر او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے اپنی لانچ کے بعد ان فرانچائز فلموں کو نیٹ فلکس سے ہٹا دیا تھا۔

اس میں ‘مارول سنیماٹک یونی ورس’ میں شامل فلموں کے ساتھ ساتھ ‘ڈزنی’ اور ‘پیراماؤنٹ’ سمیت کئی فلمیں شامل تھیں۔ سن 2022 کے آغاز تک نیٹ فلکس کے پاس سوائے چند بڑی فلموں کے کسی بھی بڑی فرانچائز کی کوئی فلم نہیں رہ گئی۔

گزشتہ برس نیٹ فلکس نے ‘ریڈ نوٹس’ کے ساتھ فرانچائز یونی ورس بنانے کی کوشش کی تھی لیکن فلم کو ڈوین جانسن، گیل گیدوت اور رائن رینلڈز کی موجودگی کے باوجود وہ پذیرائی نہیں ملی جو اس کے برعکس لیونارڈو ڈی کیپریو کی فلم ‘ڈونٹ لک اپ’ نے حاصل کی۔ اس فلم کو اکیڈمی ایوارڈزکے لیے چار کیٹگریوں میں نامزد کیا گیا تھا۔

اسی طرح جون میں نیٹ فلکس اوریجنلز کے تحت ریلیز ہونے والی اداکار ووڈی ہارلسن اور کیون ہارٹ کی فلم ‘دی مین فرام ٹورونٹو’ بھی پر اس طرح کا بزنس نہیں کرسکی جس کی اس سے توقع کی جا رہی تھی۔

انٹرٹینمنٹ ویب سائٹ ‘اسٹینڈرڈ انٹرٹینمنٹ اینڈ لائف اسٹائل’ کے لیے لکھتے ہوئے مبصر ونی ماکینا کا کہنا تھا کہ فلم کی کہانی میں جھول ہونے کے ساتھ ساتھ کردار بھی پسند کے قابل نہیں تھے۔ انہوں نے کامیڈین کیون ہارٹ کی ‘مونوٹنس’ اداکاری کو بھی فلم کی ناکامی کا ذمے دار قرار دیا تھا۔

ان کے بقول ‘بڈی ایکشن کامیڈی’فلم ہونے کے باوجود دونوں کرداروں کے درمیان کسی قسم کی کیمسٹری نہیں تھی اور بڑے بجٹ کے ہوتے ہوئے ناقص ایفیکٹس نے شائقین کو مایوس کیا۔

اس سے قبل نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی مائیکل بے کی ‘سکس انڈرگراؤنڈ’ اور ول اسمتھ کی فلم ‘برائٹ’ کو شائقین نےمایوس کیا جب کہ ‘دی اولڈ گارڈ’ کا سیکوئل اس وقت تکمیل کے مراحل میں ہے۔

کیا ‘دی گرے مین’ نیٹ فلکس کے لیے خوش آئند ثابت ہوگی؟

‘دی گرے مین’ ایک ایسے وقت میں نیٹ فلکس پر ریلیز ہوئی جب دنیا بھر میں اس کے سبسکرائبرز میں کمی آرہی ہے۔ رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے اسٹریمنگ سروس کو 20 لاکھ صارفین سے ہاتھ دھونا پڑا تھا جس میں 70 ہزار روسی صارف شامل تھے۔

نیٹ فلکس کی انتظامیہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں اندازہ تھا کہ اپریل سے جون والی سہ ماہی میں اتنے ہی صارفین ان کی سروس چھوڑ یں گے تاہم سیریز ‘اسٹرینجر تھنگز ‘کے چوتھے سیزن کی بدولت جانے والوں کی تعداد کم رہی۔

امریکی جریدے ‘ورائٹی’ کے مطابق سن 2019 میں صرف 81 فلمیں ریلیز کرنے والے پلیٹ فارم نیٹ فلکس نے 2020 میں 123، اور 2021 میں 286 فلمیں ریلیز کیں جب کہ اس سال جولائی تک ان کی فلموں کی تعداد 253 ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی تمام تر امیدیں ‘ایونجرز’ سیریز کی چار فلموں کے ہدایت کار روسو برادرز کی ‘دی گرے مین’ سے جڑی ہوئی ہیں۔

‘دی گرے مین’ کو بڑا کینویس دینے کے لیے ‘مشن امپاسبل’ کی طرح امریکہ کے ساتھ ساتھ یورپ کے مختلف ممالک میں شوٹ کیا گیا جب کہ اس میں فائٹ سینز اور اسٹنٹ بھی بہترین انداز میں فلمائے گئے ہیں۔

ویب سائٹ ‘ڈسکسنگ فلم’ کےلیے لکھتے ہوئے مبصر بیٹئرین شہزاد کا کہنا تھا کہ فلم کے ہدایت کاروں روسو برادرز نے مارول فلموں سے ہٹ کر کچھ نیا کرنے کا موقع اس فلم کے ذریعے گنوا دیا۔ان کے بقول صرف دو گھنٹے کی مار دھاڑ دیکھنے والوں کے لیے یہ فلم بہترین ہے لیکن اس سے زیادہ توقع رکھنے والوں کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اس سے دور رہیں۔

انہوں نے اس فلم کو ‘کیپٹن امریکہ: دی ونٹر سولجر ‘سے ملتی جلتی قرار دے دیا جس میں ‘دی گرے مین’ کے ولن کرس ایونز ہیرو اور روسو برادرز ہدایت کار تھے۔ ان کے خیال میں ایک سیکنڈری پلاٹ کا ہونا ہر فلم کی ضرورت ہوتی ہے جس کی ‘دی گرے مین’ میں کمی نظر آئی۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi