Films

ڈونٹ لک اپ: ‘گھبرانا نہیں ہے’ کا فلمی ورژن

Written by Omair Alavi

راچی — 

ہالی ڈے ویک اینڈ پر ریلیز ہونے والی فلم ‘ڈونٹ لک اپ’ ان دنوں آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس کی ٹاپ ٹین لسٹ میں سرِ فہرست ہے۔

دو سائنس دانوں کے گرد گھومنے والی سائنس فکشن، ڈرامہ اور کامیڈی فلم ‘ڈونٹ لک اپ’ 24 دسمبر کو نیٹ فلکس پر ریلیز ہوئی تھی۔

فلم کی کہانی دو سائنس دانوں پر مبنی ہے جو دنیا کی طرف بڑھتے ہوئے ایک خطرناک دم دار ستارے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

‘ڈونٹ لک اپ’ میں ان سائنس دانوں کا کردار معروف اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو اور جنیفر لارنس نے ادا کیا ہے جو دنیا والوں کو خبردار کرتے ہیں کہ جس سیارے پر وہ رہتے ہیں وہ تباہ ہونے والا ہے۔ لیکن سوائے ایک دو افراد کے انہیں کوئی بھی سنجیدہ نہیں لیتا۔

یہاں تک کے جب وہ فلم میں امریکی صدر کا کردار ادا کرنے والی (میرل اسٹریپ) کے پاس یہ معاملہ لے کر جاتے ہیں تو وہ بھی انہیں مذاق میں ٹال دیتی ہیں اور ایسے میں یہ دونوں سائنس دان کس طرح لوگوں تک اپنی آواز پہنچاتے ہیں یہ جاننے کے لیے آپ کو فلم دیکھنا پڑے گی۔

‘ڈونٹ لک اپ’ بالکل ویسا ہی نعرہ ہے جیسا پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کا نعرہ ‘گھبرانا نہیں ہے’ ہے کیوں کہ یہاں امریکی صدر اور ان کی کیمپین ٹیم لوگوں کو بتا رہی ہے کہ دنیا سے ٹکرانے والا وسیع و عریض کومیٹ ہے ہی نہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ وہ اپنے مستقبل کو دیکھیں نہ کہ اوپر سے آنے والی اس مصیبت کو جو ان کا وجود مٹانے کی اہلیت رکھتی ہے۔

‘ڈونٹ لک اپ’ کی دھوم کیوں مچی ہوئی ہے؟

‘ڈونٹ لک اپ’ میں سائنس دان جس طرح حکام بالا کو آنے والے خطرے سے آگاہ کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح دنیا بھر کے سائنس دان ماہرینِ ماحولیات اور اپنے اپنے ممالک کی حکومتوں کو ماحولیات کی خرابی اور فیکٹریوں سے پیدا ہونے والی تباہ کاریوں سے آگاہ کر رہے ہیں۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے ان افراد کی آواز آگے پہنچنے سے پہلے ہی دبا دی جاتی ہے اور کس طرح ایک مستند سائنس دان کو منٹوں میں سوشل میڈیا پاگل قرار دے سکتا ہے۔

‘ڈونٹ لک اپ’ میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر اہم بات پر غیر اہم بات کو کیسے ترجیح دی جاتی ہے۔

فلم میں مارک رائلینس کا کردار ادا کرنے والے پیٹر ایشرویل اپنی ڈیوائس کے ذریعے سب کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب کسی ہالی وڈ فلم کے ذریعے دنیا کی تباہی کے منظر کی عکاسی کی گئی ہو۔

فلم ‘ڈونٹ لک اپ’ کے ذریعے لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ دنیا کی حکومتیں ماحول کو بہتر کرنے کی کوشش نہیں کریں گی اور وہ اس معاملے کو مکمل نظر انداز کر رہی ہیں۔

ہدایت کار ایڈم میکے نے بتایا کہ مارننگ شو میں لیونارڈو ڈی کیپریو اور جنیفر لارنس کے کرداروں نے دنیا کو خبردار کیا اور وہیں اسی شو میں ایک پاپ گلوکارہ نے اپنے سابق بوائے فرینڈ سے صلح کی تو زیادہ ریٹنگ پاپ گلوکارہ کی خبر پر آئی۔

‘ڈونٹ لک اپ’ پر شائقین کیا کہتے ہیں؟

‘ڈونٹ لک اپ’ 10 دسمبر کو امریکی سنیما میں جب کہ 24 دسمبر کو نیٹ فلکس پر ریلیز کی گئی تھی۔

اس فلم نے ریلیز کے ساتھ ہی گولڈن گلوب ایوارڈز میں چار کیٹیگری (بہترین اداکار، بہترین اداکارہ، بہترین فلم اور بہترین اسکرین پلے) میں نامزدگی حاصل کی جب کہ ‘کریٹکس چوائس مووی ایوارڈز’ میں بھی اسے چھ مختلف کیٹیگریز میں نامزد کیا گیا ہے۔

فلم میں جہاں اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو نے دو جوان بیٹوں کے باپ کا کردار ادا کیا ہے وہیں اداکارہ جینفر لارنس ان کی اسٹوڈنٹ کے کردار میں نظر آئی ہیں۔

متعدد آسکرز جیتنے والی میرل اسٹریپ اور کیٹ بلینچٹ نے بھی فلم میں بہترین اداکاری کی ہے جب کے ان کے ساتھ ران پرل مین، جونا ہل، ٹائیلر پیری اور دیگر نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

دنیا بھر میں ٹوئٹر صارفین کی جانب سے فلم کی تعریفیں کی جا رہی ہیں جس میں سوشل میڈیا کو ولن کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

اداکار و ہدایت کار سیتھ میک فرلین کا کہنا ہے کہ ‘ڈونٹ لک اپ’ ان لوگوں کو دیکھنی چاہیے جو اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں۔

فلم میں کام کرنے والے اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو نے ایک ٹوئٹ میں دنیا پر زور دیتے ہوئے کہا وہ ‘کلائمیٹ کرائسس’ کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں۔

سائنس دان پیٹر کاملس کا کہنا تھا کہ وہ روز ہی ‘ڈونٹ لک اپ’ کی صورتِ حال سے گزرتے ہیں۔

امریکی صحافی تھی اسٹیفنی نے فلم میں سائنس دانوں کو غیر سنجیدہ لینے کو حقیقت سے تشبیہ دے دی۔

‘ڈونٹ لک اپ کے طنز میں بھی ایک مزہ ہے’

پاکستانی فلم ‘نامعلوم افراد’، ‘ایکٹر ان لا’ اور ‘کھیل کھیل میں’ کے ہدایت کار نبیل قریشی نے بھی ‘ڈونٹ لک اپ’ کو ایک شان دار فلم قرار دیا ہے۔

وائس آ ف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس فلم میں ماحولیات پر تو بات کی گئی ہے ساتھ ہی اس میں شامل طنز نے بہت محظوظ کیا۔

نبیل قریشی کا کہنا ہے کہ جس طرح فلم میں حکومت، میڈیا اور سوشل میڈیا کے دوغلے پن کو سامنے لایا گیا ہے وہ ایک اچھا ہدایت کار ہی کر سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ہاں یہ کلچر بن گیا ہے کہ جو ٹھیک بات کرتا ہے اس کی میم بن جاتی ہے اور جو لوگ غیر سنجیدہ بات کر رہے ہوتے ہیں ان کی بات وائرل ہو جاتی ہے۔

ان کے بقول فلم میں جس طرح نیوز مارننگ شو دکھایا گیا ہے وہ غلط ہونے کے باوجود بھی چل رہا ہے۔ یہی سب کچھ تو ہمارے ہاں بھی ہو رہا ہے۔

نبیل قریشی کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں اس قسم کی فلم کا پاکستان میں بننا مشکل ہے لیکن وہ پُرامید ہیں کہ آئندہ آنے والے فلم ساز ایسے تجربے کریں گے۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi