Sports

پی ایس ایل کے لاہور میں میچز ؛ کس ٹیم میں کون سا کھلاڑی ان کون آؤٹ؟

Written by Omair Alavi

کراچی میں پی ایس ایل سیزن 7 کے آخری میچ میں کوئٹہ نے لاہور کو شکست دی۔

کراچی — 

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کا پہلا حصہ پیر کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں اختتام پذیر ہو گیا۔ آخری میچ کو کوئٹہ گلیڈی ایٹر زکے جیسن روئےنے دلچسپ بنا دیا ۔انہوں نے پی ایس ایل کے رواں ایڈیشن کی دوسری سینچری اسکور کرکے اپنی ٹیم کو فتح دلا دی۔

پیر کو نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں لاہور قلندرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 204 رنز اسکور کرکے ایک بڑا اسکور سیٹ کیا تھا۔ لیکن جیسن روئے کی دھواں دار بیٹنگ نے قلندرز کی جیت کو ناممکن بنا دیا۔

روئے نے 57 گیندوں پر 116 رنز اسکور کیےاور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 205 رنز کا ہدف تین وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔اس فتح کے ساتھ ہی کوئٹہ کی ٹیم نے پوائنٹس ٹیبل پر چوتھی پوزیشن بھی حاصل کر لی ہے۔

جیسن روئے کی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم میں واپسی کوئٹہ کے لیے اچھی ثابت ہوئی کیوں کہ ان کی غیرموجودگی میں گلیڈی ایٹرز چار میں سے صرف ایک میچ ہی جیت سکی تھی۔

غیرملکی کھلاڑیوں کی آمد اور روانگی

پاکستان سپر لیگ کا دوسرا حصہ جوں جوں قریب آ رہا ہے، لیگ کی چھ فرنچائز ٹیموں کے غیرملکی کھلاڑی یا تو اپنی ٹیم کو جوائن کر رہے ہیں یا پھر اپنے ملک کی ٹیم کی نمائندگی کے لیے اپنے وطن واپس جا رہے ہیں۔

اسلام آباد کی ٹیم کو اپنے آئرش اوپنر پال اسٹرلنگ کی خدمات مزید حاصل نہیں ہو سکیں گی کیوں کہ انہیں عمان میں چار ملکی ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے آئرلینڈ کی ٹیم کو جوائن کرنا ہے۔ اسی طرح افغانستان سے آنے والے مہمان کھلاڑیوں کی بھی لاہور میں ہونے والے تمام میچز میں شمولیت ممکن نظر نہیں آ رہی ہے۔

ورلڈ کپ کرکٹ میں کوالیفائی کرنے کے لیے بنگلہ دیش اور افغانستان کے درمیان 23 ، 25 اور 28 فروری کو ون ڈے میچز کھیلے جائیں گے، جس کے بعد تین اور پانچ مارچ کو دو ٹی ٹوئنٹی میچز کا انعقاد بھی ہو گا۔

اس سیریز کے آغاز سے قبل تربیتی کیمپ کے لیے افغان کھلاڑیوں کو بنگلہ دیش کے شہر سلہٹ میں ایک ہفتے قبل جمع ہونا ہو گا۔

کیا اب شامل ہونے والے کھلاڑی ٹیم کی کارکردگی بہتر کرسکیں گے؟

پاکستان سپر لیگ 7 میں اب تک ناقابل شکست رہنے والی ٹیم ملتان سلطان ہے جو اپنے پانچ کے پانچ میچز میں کامیابی حاصل کرکے پوائنٹس ٹیبل پر پہلے نمبر پرہے۔

محمد رضوان کی قیادت میں ملتان سلطانز کی کارکردگی اچھی جا رہی ہے اور کمبی نیشن اچھا بن گیا ہے اورایسا لگ رہا ہے کہ کسی کھلاڑی کے ٹیم سے باہر جانے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

البتہ ایونٹ میں اپنا دوسرا میچ جیتنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم جیسن روئے کی آمد سے مضبوط ہو گئی ہے۔

رواں سیزن میں جیسن روئے سے قبل کوئٹہ کی ٹیم کو ول اسمیڈ کی خدمات حاصل تھیں جنہوں نے اس سیزن کے پہلے ہی میچ میں پشاور زلمی کے خلاف 62 گیندوں پر 97 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

ول اسمیڈ کوئٹہ کی ٹیم کا تب تک حصہ تھے جب تک انگلینڈ کے جیمز ونس ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں مصروف تھے۔ ان کی پی ایس ایل میں واپسی پر اسمیڈ کا سفر ختم ہو گیا کیوں کہ انہیں جیمز ونس کے متبادل کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔

البتہ فرنچائز کے مداح پُرامید ہیں کہ اگلے سیزن میں اسمیڈ ٹیم کا مسقل حصہ ہوں گے۔

اسی طرح ویسٹ انڈیز کے شمرون ہیٹ مائر بھی جیسن روئے کے متبادل تھے اور انگلش کھلاڑی کے واپس آتے ہی ان کا بھی پی ایس ایل 7 میں سفر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

کوئٹہ کی ٹیم اس حوالے سے خوش قسمت رہی کہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی سیریز کے بعد ان کی ٹیم میں انگلینڈ کی نمائندگی کرنے والے کئی کھلاڑی شامل ہوگئے، فاسٹ بالر لیوک وڈ کی بھی آمد سے ٹیم کا بالنگ اٹیک مضبوط ہوا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی بات کی جائے تو آئرش اوپنر کی کمی کو نیوزی لینڈ کے کولن منرو پورا کرسکتے ہیں۔اگرچہ کپتان شاداب خان کے بطور آل راؤنڈر بہتر فارم کی وجہ سے اسلام آباد کی ٹیم کو ایونٹ میں اب تک زیادہ مشکلات تو پیش نہیں آئیں لیکن اوپننگ بلے باز کی واپسی سے ٹیم کے توازن پر فرق پڑ سکتا ہے۔

اسلام آباد کی ٹیم میں شامل افغان وکٹ کیپر بلے باز رحمٰن اللہ گرباز کو اپنی قومی ٹیم کی نمائندگی کے لیے طلب کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کی واپسی سے ٹیم کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ اعظم خان پہلے ہی اسلام آباد کے لیے وکٹ کیپر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

پی ایس ایل 7 میں اس بار لاہور کی ٹیم شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں کافی بدلی بدلی نظر آ رہی ہے۔اور وہ پانچ میں سے تین میچز جیت کر چھ پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

واضح رہے کہ پی ایس ایل کی تاریخ میں لاہور قلندر واحد ٹیم ہے جو اب تک ٹائٹل نہیں جیت سکی ہے۔البتہ رواں سیزن میں ٹیم نئے کپتان کے ساتھ ٹرافی اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔

قلندرز کو انگلینڈ کی نمائندگی کرنے والے فل سالٹ نے جوائن کرلیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ انگلش کھلاڑی کو مڈل آرڈر میں کھلانے کے بجائے ٹاپ آرڈر میں کھلا کر ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

اسی طرح انگلش کھلاڑی میٹی پوٹس کی جگہ ٹیم کا حصہ بننے والے ان کے ہم وطن ہیری بروک بھی ٹیم میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے پیر کو کوئٹہ کے خلاف 17 گیندوں پر 41 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز بھی کھیلی تھی۔

لاہور کی ٹیم میں مایہ ناز اسپنر راشد خان بھی شامل ہیں۔ تاہم افغانستان اور بنگلہ دیش کی سیریز کے لیے اگر انہیں طلب کیا گیا تو لاہور کی ٹیم ہوم گراؤنڈ پر اپنے اسٹار بالر سے محروم ہو جائے گی۔

اب بات پوائنٹس ٹیبل پر آخری دو پوزیشن پر موجود پشاور زلمی اور کراچی کنگز کی جو بالترتیب پانچویں اور چھٹی پوزیشن پر ہیں۔ پشاور زلمی پانچ میں سے دو میچز میں کامیابی حاصل کرچکی ہے جب کہ کراچی کنگز ایونٹ میں اب تک اپنا کوئی میچ نہیں جیت سکی ہے اور اسے پانچوں میچز میں شکست ہوئی ہے۔

پشاور زلمی کاٹیم میں شامل ہونے والےغیرملکی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا وقت آگیا ہے۔اگر وہاب ریاض کی قیادت میں ٹیم کو ایونٹ میں کم بیک کرنا ہے تو انہیں میٹ پارکنسن اور پیٹ براؤن کی جگہ آنے والے ثاقب محمود اور لیئم لیونگ اسٹون سے فائدہ اٹھانا پڑے گا۔

دوسری جانب یہ امکان بھی ہے کہ جارح مزاج اوپنر حضرت اللہ زازئی افغانستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سیریز کے باعث لاہور میں ہونے والے پی ایس ایل کے باقی میچز میں سے کچھ میں شرکت نہیں کرسکیں۔

آخر میں بات کراچی کنگز کی، جس میں انگلش بالر کرس جارڈن کی واپسی ہوئی ہے ۔ ان کی واپسی پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ مسائل کا شکار کنگز کی ٹیم کا بالنگ اٹیک بہتر ہو سکے گا۔

اسی طرح نوجوان محمدطہ کی جگہ پاکستان انڈر19 ٹیم کے کپتان قاسم اکرم کی شمولیت بھی کراچی کی ٹیم کو مضبوط کرسکتی ہے۔ قاسم اکرم نے حال ہی میں انڈر19 ورلڈ کپ کے ایک میچ میں سینچری کے ساتھ پانچ وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔

پی ایس ایل 7 میں کراچی کنگز کی ٹیم اب تک کی سب سے کمزور ٹیم بن کر سامنے آئی ہے۔ فاسٹ بالر محمد عامر انجری کے باعث پہلے ہی ایونٹ سے باہر ہو چکے ہیں جب کہ محمد الیاس بھی انجری کا شکار ہیں۔ ان کی جگہ عثمان شنواری اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

کراچی کنگز میں شامل افغان آل راؤنڈر محمد نبی کی بھی پورے ٹورنامنٹ میں شرکت افغانستان اور بنگلہ دیش کے میچزپر منحصر ہے۔ اگر افغانستان کی نمائندگی کے لیے انہیں طلب کیا جاتا ہے توکراچی کنگز کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ سیزن 7 کے دوسرے حصے کا آغاز 10 فروری سے لاہور میں ہو رہا ہے۔

دوسرے حصے کے لیے ٹیمیں لاہور پہنچ گئی ہیں۔ایونٹ کے دوسرے حصے میں مزید چودہ میچز کھیلے جائیں گے جس کے بعد ناک آؤٹ مرحلے میں چار ٹیمیں مدِ مقابل ہوں گی۔

ایونٹ میں ملتان سلطانز 10 پوائنٹس کے ساتھ پہلے، اسلام آباد یونائٹیڈ اور لاہور قلندرز چھ چھ پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

سرفراز احمد کی قیادت میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور وہاب ریاض کی کپتانی میں پشاور زلمی چار چار پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہے۔ کراچی کنگز ایونٹ میں اب تک کوئی میچ نہیں جیت سکی ہے اور وہ چھٹے نمبر پر ہے۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi