Showbiz

عشرت میڈ اِن چائنا: پاکستان میں گدھوں کے گرد گھومنے والی پہلی فلم نہیں

Written by Omair Alavi

فلم کی شوٹنگ عالمی وبا کرونا وائرس کے مشکل دنوں میں ہوئی تھی جب کہ فلم کی کاسٹ کئی دنوں تک تھائی لینڈ میں پھنسی رہی تھی۔

کراچی — 

پاکستان کے اداکار و ہدایت کار محب مرزا کی فلم ‘عشرت میڈ اِن چائنا’ حال ہی میں ریلیز کی گئی ہے، اس فلم کے ذریعے محب مرزا نے اپنے مشہور کردار ‘عشرت باجی’ کو ایک مرتبہ پھر زندہ کیا ہے جو آج سے پندرہ برس قبل ‘آگ ٹی وی’ پر نشر ہوتا تھا۔

اس کردار کی خاص بات اس کا نام ‘عشرت’ تھا جس کی وجہ سے محلے کے لڑکوں سے لے کر اساتذہ تک سب اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ‘آگ ٹی وی’ پر نشر ہونے والے اس شو میں محب مرزا کا کردار ‘عشرت’ ناظرین سے کیمرے میں دیکھ کر بات کرتا تھا۔

اس شو میں عشرت کی ماں کو کبھی اسکرین پر نہیں دکھایا گیا تھا جب کہ عشرت دو نمبر طریقوں سے امیر بننے کی کوشش کرتا تھا اور اس کی انہی حرکتوں کی وجہ سے یہ شو مقبول بھی ہوا تھا۔

رواں برس 13 فروری کو ‘عشرت میڈ ان چائنا’ کا ٹریلر ریلیز کیا گیا جسے شائقین نے بے حد پسند کیالیکن تین مارچ کوجب فلم سنیما گھروں کی زینت بنی تو وہ شائقین کو متاثر نہ کرسکی۔

‘عشرت میڈ ان چائنا’ کی کہانی ایک ایسے آوارہ نوجوان کے گرد گھومتی ہے جسےاپنے نام سے نفرت ہے۔ اسےپڑھنے لکھنے کا کوئی شوق نہیں ہوتا۔ البتہ اس کو صرف ایک ہی کام آتا ہے، گدھوں کی ریس میں شرکت کرکے پہلی پوزیشن لینا۔

جب عشرت کو چین سے ایک شخص (امام سید) اپنے ملک کی سب سے بڑی گدھوں کی ریس میں شرکت کے لیے دعوت دیتا ہے تو پہلے اسے یقین نہیں آتا لیکن بعد میں وہ چین جاکر اس ریس کے لیے کوالی فائی کرتا ہے۔

ریس سے پہلے ماسٹر منگشی (حسن شہریار یاسین) کے کارندے عشرت کو خطرہ سمجھ کر خوب مارتے پیٹتے ہیں اور اسے مردہ سمجھ کر سمندر میں پھیک دیتے ہیں۔ لیکن ماسٹر بی پی (شمعون عباسی) اور اس کی بیٹی جیا (سارہ لورین) نہ صرف اسے بچا لیتے ہیں بلکہ اسے تربیت دے کر اس قابل بنادیتے ہیں کہ وہ ریس جیت کر ماسٹر منگشی کی دہشت کا خاتمہ کرسکے۔

‘عشرت میڈ ان چائنا’ پاکستان میں گدھوں کے گرد گھومنے والی پہلی فلم نہیں بلکہ اس سے قبل سید کمال 70 کی دہائی میں ‘انسان اور گدھا’ نامی طنزیہ فلم بناچکے ہیں جس میں ایک گدھا منگو رنگیلا کی شکل میں انسان بن کر انسانوں میں رہنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔

اس کے علاوہ چند برس قبل اینی میٹڈ فلم ‘دی ڈونکی کنگ’ نے بھی باکس آفس پر خوب بزنس کیا تھا جس میں بھی مرکزی کردار ‘منگو’ گدھے نے ادا کیا تھا۔ تاہم ‘عشرت میڈ ان چائنا’شائقین کو محظوظ نہ کر سکی۔

اس فلم کی شوٹنگ عالمی وبا کرونا وائرس کے مشکل دنوں میں ہوئی تھی جب کہ فلم کی کاسٹ کئی دنوں تک تھائی لینڈ میں پھنسی رہی تھی۔

‘عشرت میڈ ان چائنا’ میں آج سے پندرہ برس قبل فلم ‘واپسی دی ریٹرن’ میں مونا لیزا کے نام سے ڈیبیو کرنے والی اداکارہ سارہ لورین بھی اسکرین پر نظر آئی ہیں جب کہ اداکار شمعون عباسی نے ماسٹر پی بی کا کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کے معروف ڈیزائنر حسن شہریار یاسین (ایچ ایس وائی) نے بھی اس فلم کے ذریعے ڈیبیو کیا ہے جب کہ فلم میں اداکار محب مرزا کے ساتھ اداکارہ صنم سعید، شبیر جان، علی کاظمی، مصطفیٰ چوہدری اور مانی سمیت دیگر نے اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

‘عشرت میڈ ان چائنا’کا مزاح کراچی تک ہی محدود ہے جس میں لفظ ‘پونکا’، ‘کومون’، ‘ایل و ایل’، ‘ آلو’ اور ‘کدو’ کا استعمال کیا گیا ہے جب کہ نوے کی دہائی میں کالج او ریونی ورسٹی میں استعمال ہونے والے لطیفوں کی بھی کثرت ہے۔

‘عشرت میڈ ان چائنا’ کے نام سے ہی ظاہر تھا کہ فلم میں کامیڈی کا عنصر زیادہ ہوگا۔ فلم کے ٹریلر سے یہ ظاہر ہو رہا ہے تھا کہ یہ بالی وڈ اداکار اکشے کمار کی فلاپ فلم ‘چاندی چوک ٹو چائنا’ سے مشابہت رکھتی ہو گی لیکن اس کے برعکس ‘عشرت میڈ ان چائنا’ میں منطق کا فقدان پایا جاتا ہے۔

کیا ‘عشرت میڈ ان چائنا’ہالی وڈ فلم ‘دی بیٹ مین ‘کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے؟

گزشتہ برس دسمبر میں پاکستانی فلم ‘کہے دل جدھر ‘ اس وقت ریلیز کی گئی تھی جب ہالی وڈ کی کامیاب فلم ‘اسپائڈر مین: نو وے ہوم’ بھی سنیما گھروں کی زینت بنی ہوئی تھی۔

اسی طرح محب مرزا نے بھی اپنی فلم اس وقت ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا جب ہالی وڈ فلم ‘دی بیٹ مین’ چار مارچ کو ریلیز ہونے کے لیے تیار تھی۔

‘عشرت میڈ ان چائنا’ کے پروڈیوسرز نے فلم کو جمعے کے بجائے جمعرات کو ریلیز کرنے کی روایت تو توڑ ڈالی لیکن وہ یہ بھول گئے کہ اس کے مدِمقابل وہ فلم ہے جس کا انتظار پوری دنیا کررہی ہے جس میں رابرٹ پیٹن سن، جیفری رائٹ اور کولن فیرل جیسے منجھے ہوئے اداکار ایکشن میں نظر آئیں گے۔

ایسے میں ‘عشرت میڈ ان چائنا’ کا سنیما میں لگنا ایک غلط فیصلہہ ثابت ہوسکتا ہے کیوں کہ ایک تو سنگل اسکرین سنیماؤں کی تعداد کم ہے جب کہ وہاں ‘دی بیٹ مین’ کا اردو ورژن بھی لگے گا جسے دیکھنے کے لیے لوگ سنیما کا رخ کرسکتے ہیں۔

کیا ‘عشرت میڈ ان چائنا’ عید الفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں پر اثر انداز ہو گی؟

عید الفطر پر پاکستان میں چار اردو فلمیں ‘دم مستم’، ‘چکر’، ‘پردے میں رہنے دو’ اور ‘گھبرانا نہیں ہے’کے ساتھ ساتھ ایک پنجابی فلم ‘تیرے باجرے دی راکھی’ کے بھی لگنے کا امکان ہے۔ عید کی چھٹیوں کے فوراً بعد ہالی وڈ فلم ‘ڈاکٹر اسٹرینج ملٹی ورس آف میڈنیس’ آجائے گی۔

ایسے میں ‘عشرت میڈان چائنا’ کو رمضان سے ایک ماہ قبل ریلیز کرنے کا فیصلہ درست تھا یا غلط اس بات کا اندازہ پروڈیوسرز کو پہلے ہی ہفتے میں ہو جائے گا۔

گیارہ مارچ کو پاکستانی فلم ‘تھوڑی لائف، تھوڑی زندگی’ اور 18 مارچ کو سرمد کھوسٹ کی فلم ‘زندگی تماشہ’ کی ریلیز سے عشرت کے شوز کی تعداد یقیناً کم ہو گی جس کے بعد رمضان کے مہینے میں سنیما میں شوز کی تعداد آدھی ہو جائے گی۔

رواں ماہ کے آخر میں انگریزی فلمیں ‘ایمبولینس’، آپریشن فورچیون’، دی لوسٹ سٹی’ اور ‘موربئیس’ جب کہ آئندہ ماہ ‘سونیک دی ہیج ہوگ ٹو’ جیسی فلموں کی وجہ سے ‘عشرت میڈ ان چائنا’ کو کتنے شوز ملیں گے؟ سنیما والے اس بات کا فیصلہ شائقین کا رش دیکھ کر ہی کریں گے۔

About the author

Omair Alavi