کراچی —
فٹ بال کے عالمی کپ کے بعد سب سے بڑا ٹورنامنٹ یورو 2020 اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ایونٹ میں اب صرف آٹھ ٹیمیں باقی رہ گئی ہیں جو کوارٹر فائنل میں مدِ مقابل ہوں گی۔ان آٹھ ٹیموں میں تین مرتبہ یورو کا ٹائٹل جیتنے والی اسپین کی ٹیم سرِ فہرست ہے جب کہ سابق چیمپئنز اٹلی، چیک ری پبلک اور ڈنمارک کی ٹیم دوسری مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
کوارٹر فائنل میں پہنچنے والی انگلینڈ، سوئٹرزلینڈ، بیلجیم اور یوکرین کی ٹیمیں آج تک ٹرافی نہیں جیت سکی ہیں۔
یورو کپ کی دفاعی چیمپئن پرتگال، عالمی کپ کی چیمپئن فرانس، سابق چیمپئن جرمنی کی ٹیموں کا سفر ایونٹ کے دوسرے مرحلے میں ہی اختتام تک پہنچا۔
یورو 2020 کا تیسرا مرحلہ دو جولائی سے شروع ہو گا جس میں ایونٹ کی آٹھ بہترین ٹیمیں سیمی فائنل کی چار برتھ کے لیے آمنے سامنے ہوں گی۔
پہلا کوارٹر فائنل روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں سوئٹزرلینڈ اور اسپین کے درمیان کھیلا جائے گا۔ ایک طرف سوئٹزرلینڈ کی ٹیم ہوگی جس نے آج تک ایونٹ کے فائنل میں جگہ نہیں بنائی تو دوسری جانب سب سے زیادہ گول اسکور کرنے والی سابق عالمی چیمپٔن ٹیم اسپین ہو گی۔
اسی روز دوسرے کوارٹر فائنل میں جرمنی کے شہر میونخ میں ان فارم بیلجیم کی ٹیم سابق چیمپٔن اٹلی سے ٹکرائے گی۔ اٹلی نے آخری بار 1968 میں ایونٹ جیتا تھا جب کہ سن 2000 اور 2012 میں فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔
بیلجیم اس وقت عالمی رینکنگ میں نمبر ون ٹیم ہے لیکن اس نے صرف ایک مرتبہ 1980 میں ایونٹ کا فائنل کھیلا تھا جس میں اسے جرمن ٹیم کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔
ایونٹ کا تیسرا کوارٹر فائنل آذربائیجان کے شہر باکو میں تین جولائی کو سابق چیمپئنز چیک ری پبلک اور ڈنمارک کے درمیان کھیلا جائے گا۔ چیک ری پبلک (سابقہ چیکوسلاواکیہ) 1976 میں ایونٹ کا ٹائٹل جیت چکی ہے جب کہ ڈنمارک کی ٹیم بھی 1992 میں ٹرافی اٹھانے میں کامیاب ہوئی تھی۔
ایونٹ کا چوتھا اور آخری کوارٹر فائنل اٹلی کے شہر روم میں انگلینڈ اور یوکرین کے درمیان کھیلا جائے گا۔ دونوں ٹیمیں آج تک یورو کے فائنل میں جگہ نہیں بنا سکی ہیں۔
انگلینڈ کی ٹیم ایک مرتبہ ایونٹ کے ‘لاسٹ فور’ میں پہنچی تھی لیکن اس کا سفر سیمی فائنل میں ہی ختم ہوگیا تھا۔ یوکرین کی ٹیم اگر اس بار سیمی فائنل میں پہنچ گئی تو یہ ان کا یورو فٹ بال چیمپئن شپ میں سب سے بڑا کارنامہ ہو گا۔
The #EURO2020 quarter-finals are set
— GOAL (@goal) June 29, 2021
Who is lifting the trophy?pic.twitter.com/Q1GTxwaLvi