شوبز

او جے سمپسن جنہیں ڈریم ٹیم نے ‘ٹرائل آف دی سینچری’ سے بری کرایا

Written by ceditor

سترہ جون 1994 کو دنیا بھر کی نظریں چند لمحوں کے لیے لاس اینجلس کی سڑکوں پر ہونے والی ایک ایسی کار چیز پر مرکوز تھیں جس میں فٹ بالر اور مقبول اداکار او جے سمپسن سوار تھے۔ لیکن وہ اپنی سابقہ بیوی اور اس کے دوست کے قتل کے الزام میں بھی مطلوب تھے۔ – کراچی

او جے سمپسن کی سابقہ بیوی نکول اور اس کے دوست رون گولڈمین کا قتل 12 جون 1994 کو ہوا تھا۔ اس قتل کے پانچ روز بعد حراست سے بچنے کے لیے او جے سمپسن اپنے دوست ایل کاؤلنگز کے ہمراہ اُس کی گاڑی میں سوار ہو کر روانہ ہوگئے تھے۔ گاڑی کے تعاقب میں متعدد پولیس موبائل کے ساتھ ساتھ نیوز ہیلی کاپٹرز بھی تھے۔

تقریباً چار گھنٹے کے بعد جب او جے سمپسن کو پولیس نے حراست میں لیا تب تک وہ دنیا بھر کے ٹی وی چینلوں کی شہ سرخی بن چکے تھے۔ جو ایک ایسے وقت میں بہت بڑی بات تھی جب نہ سوشل میڈیا کا وجود تھا اور نہ ہی انٹرنیٹ عام تھا۔

او جے سمپسن بعد ازاں اپنی سابقہ بیوی اور اس کے دوست کے قتل کے الزام سے تو بری ہو گئے تھے لیکن جتنا وقت انہوں نے فٹ بال اور اداکاری کے میدان میں گزارا، اس سے زیادہ عرصہ انہیں عدالتوں کے چکر کاٹنا پڑے۔

گیارہ اپریل 2024 کو مشہور کھلاڑی، اداکار و ٹی وی پریزینٹر او جے سمپسن 76 برس کی عمر میں کینسر کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔

انہوں نے اپنی زندگی کے آخری 15 برسوں میں سے نو سال ایک اور کیس میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے جس میں انہیں 33 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اوجے سمپسن کے کیس کو ٹرائل آف دی سینچری کیوں کہا جاتا ہے؟

نوے کی دہائی میں اورینتھل جیمز سمپسن کے کیس کے بارے میں امریکہ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں تجسس پایا جاتا تھا۔

او جے پر الزام تھا کہ وہ 12 جون 1994 کی رات کو اپنی سابقہ بیوی نکول براؤن اسمتھ اور ان کے دوست رون گولڈمین کے قتل میں ملوث تھے۔

ان کی سابق اہلیہ نکول اور ان کے دوست رون کو کسی نے نکول کے گھر کے باہر چاقو کے وار کرکے قتل کیا تھا۔ رون اس وقت نکول کی والدہ کی وہ عینک واپس کرنے گیا تھا جو وہ اسی روز ان کے ریستوران میں بھول آئی تھیں۔

او جے سمپسن پر پولیس کو اس لیے شک ہوا تھا کیوں کہ ان کی سابقہ بیوی ان پر متعدد بار گھریلو تشدد کا الزام لگا چکی تھیں۔

اس کے علاوہ او جے کے گھر سے کچھ ایسے شواہد بھی ملے تھے جو ان کے قتل میں ملوث ہونے کی جانب اشارہ کر رہے تھے جس میں خون آلود دستانہ، گاڑی میں خون کا نشان اور ان کا قتل کے وقت گھر سے باہر ہونا شامل تھا۔

سابق فٹ بالر نے نہ صرف ان الزامات کی تردید کی بلکہ اپنے دفاع میں جس قانونی ٹیم کو اکٹھا کیا اسے ‘ڈریم ٹیم’ کے نام سے جانا جاتا ہے کیوں کہ اس میں امریکہ کے بہترین وکیل شامل تھے۔

نو ماہ تک جاری رہنے والے اس مقدمے میں او جے سمپسن کے وکلا کا مؤقف تھا کہ تفتیشی افسران نے ان کے کلائنٹ کو پھنسانے کے لیے ان کے گھر پر مبینہ طور پر ثبوت پلانٹ کیے۔

ساتھ ہی ساتھ انہوں نے لاس اینجلس پولیس ڈپارٹمنٹ پر نسلی تعصب کا الزام بھی لگایا تھا جس نے او جے سمپسن کو بے قصور ٹھہرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ تھی کہ کئی واضح شواہد اور شہادتوں کی موجودگی کے باوجود جیوری نے او جے سمپسن کو بے قصور قرار دیا تھا۔

او جے سمپسن کے کیس کو وکلا نے نسلی تعصب کا رنگ دے کر دنیا بھر کے اخبارات اور میڈیا میں جس قسم کی کوریج حاصل کی تھی اسی وجہ سے اسے ‘ٹرائل آف دی سینچری’ بھی کہا جاتا ہے۔

فٹ بالر اور اداکار کی رہائی سے متعلق اُس وقت کے کئی ماہرینِ قانون نے جیوری میں افریقی امریکی افراد کی اکثریت کو بھی او جے سمپسن کی بریت کی ایک وجہ قرار دیا تھا۔

وہیں 1991 میں ایک افریقی امریکی شہری روڈنی کنگ کی لاس اینجلس پولیس کے ہاتھوں تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بھی عوام کا پولیس پر سے اعتبار اٹھ گیا تھا جس نے بظاہر او جے کی بریت میں کردار ادا کیا تھا۔

روڈنی کنگ پر تشدد کے واقعے کی ویڈیو ایک شہری نے نیوز چینلز کو بھیج دی تھی جس کے بعد پہلے تشدد کرنے والے افسران کو معطل کیا گیا۔ لیکن بعد میں اِن پولیس افسران کو رہا کردیا گیا تھا جس پر عوام نے امریکہ بھر میں کافی احتجاج کیا تھا۔

جیوری کے فیصلے کے بعد رون گولڈمین کے خاندان نے او جے سپمسن پر رانگ فل ڈیتھ یعنی قتل کا مقدمہ دائر کیا۔

عدالت نے اس کیس میں او جے سمپسن کو لائیبل یعنی ذمے دار قرار دیا جس کے نتیجے میں او جے کو رون گولڈمین کے لواحقین کو 35 ملین ڈالرز جرمانے کے ساتھ ساتھ ساڑھے آٹھ ملین ڈالرز بطور معاوضہ دینا پڑا تھا۔

او جے سمپسن اور قانون کی آنکھ مچولی کا سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ اسٹار فٹ بالر اس کے بعد بھی متعدد مرتبہ کبھی کسی کار سوار سے جھگڑا کرنے پر تو کبھی اپنی گرل فرینڈ کی شکایت پر عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

لیکن 2008 میں انہیں جس کیس میں 33 سال کی سزا سنائی گئی وہ کسی کے قتل کا مقدمہ نہیں بلکہ کھیلوں کے میموری بلیا یعنی یادگار آئٹم بیچنے والے دو ڈیلروں کے اغوا اور ڈکیتی کی واردات تھی۔

او جے سمپسن اور ان کے ساتھیوں پر الزام تھا کہ انہوں نے لاس ویگاس کے ایک ہوٹل میں اسلحے کے زور پر نہ صرف دونوں ڈیلروں کو قابو کیا بلکہ انہیں کئی یادگار اسپورٹس آئٹم سے محروم بھی کیا۔

اس الزام کے جواب میں او جے سمپسن کا کہنا تھا کہ وہ وہی مال واپس لے رہے تھے جو ان کی ملکیت تھی۔ لیکن دیگر ساتھیوں کے بیانات کے بعد او جے سمپسن کو اس کیس میں 33 سال کی سزا ہوئی۔

نو سال کے بعد انہیں پرول پر رہا کر دیا گیا تھا اور 2021 میں انہیں اچھے رویے کی وجہ سے پرول سے آزاد کر دیا گیا تھا۔ لیکن تب تک ان کا فٹ بال اور شوبز کریئر خاک ہو چکا تھا۔

او جے سمپسن کے کریئر پر ایک نظر

او جے سمپسن نے قانون سے ٹکر لینے سے قبل اداکاری اور کھیلوں دونوں ہی میدانوں میں خوب نام کمایا تھا۔

ساٹھ اور ستر کی دہائی میں او جے سمپسن کا شمار امریکہ کے بہترین فٹ بالرز میں ہوتا تھا۔ جس وقت وہ ریٹائر ہوئے اس وقت وہ امریکی نیشنل فٹ بال لیگ کی ‘رشنگ لسٹ’ میں دوسرے نمبر پر تھے۔ اس لسٹ میں ان کھلاڑیوں کو شامل کیا جاتا ہے جو 10 ہزار یارڈز سے زیادہ کا فاصلہ طے کر چکے ہوں۔

او جے نے اپنے کریئر کے دوران 11 ہزار یارڈز کا فاصلہ طے کیا تھا جو ان کی ریٹائرمنٹ کے وقت دوسرا بہترین ریکارڈ تھا۔

یہی نہیں 1973 میں انہیں سال کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا تھا جب کہ 1985 میں وہ پروفیشنل فٹ بال کے ‘ہال آف فیم’ میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

سن 1974 میں انہوں نے مشہور فلم ‘دی ٹاورنگ انفرنو’ سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا تھا لیکن افریقن امریکن افراد کے گرد بننے والی ٹی وی سیریز ‘روٹس’ میں اداکاری نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔

او جے سمپسن نے دیگر افریقی امریکی اداکاروں کے برعکس چھوٹی فلموں میں مرکزی کردار ادا کرنے کے بجائے بڑے بجٹ کی فلموں میں کام کرنے کو ترجیح دی۔ اسی لیے ان کے کریڈٹ پر ‘دی کلینزمین: دی کسینڈرا کراسنگ’ اور ‘کیپریکورن ون’ جیسی ہٹ فلمیں شامل ہیں۔

ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہدایت کار جیمز کیمرون نے آرنلڈ شوارزنیگر سے پہلے او جے سمپسن کو ‘دی ٹرمنیٹر’ کے مرکزی کردار کے لیے موزوں سمجھا تھا۔ لیکن بعد میں یہ کردار شوارزنیگر کے حصے میں آیا تھا جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔

سن 1988 سے 1994 تک وہ اداکار لیزلی نیئلسن کی فلم فرینچائز ‘دی نیکڈ گن’ کا بھی حصہ تھے جہاں انہوں نے ایک ایسے پولیس والے کا کردار نبھایا تھا جو بے وقوفی سے کیس حل کرتا تھا۔

عمیر علوی – امریکا کی آواز

About the author

ceditor