Sports

پاکستان ٹیم کا دورۂ سری لنکا: ‘مظاہرین کا ہدف حکومت ہے، کرکٹرز نہیں

Written by Omair Alavi

کراچی — 

پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے تیاریوں میں مصروف ہیں۔مگر سری لنکا کے موجودہ حالات میں پاکستان کے جنوبی ایشیائی ملک کے دورے پر کرکٹ حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سری لنکا کی تازہ صورتِ حال کے مطابق صدر گوتابایاراجاپکسے نے ملک سے فرار ہونے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ جس کے بعد ملک کے وزیرِاعظم رانیل وکرما سنگھے سری لنکا کے عارضی صدر بن گئے ہیں۔

پاکستان ٹیم کے مداحوں کا خیال ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب سری لنکا سیاسی اور معاشی طور پر کمزور ہے اور حکومت مخالف مظاہرین کے ہاتھوں صدارتی محل اور ایوانِ وزیراعظم بھی محفوظ نہیں ہیں۔ تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو دورہ ملتوی کردینا چاہیے تھا۔

مداحوں کا ماننا ہے کہ کھلاڑیوں کے جان و مال کی حفاظت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اگر یہ دورہ بعد میں منعقد ہوتا تو بہتر ہوتا کیوں کہ ایک ایسے ملک میں جاکر کھیلنا جہاں حکومت ہی نہیں، پاکستان کی مضبوط ٹیم کو زیب نہیں دیتا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس وقت سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں مظاہرین نے صدارتی محل میں ہنگامہ آرائی کی، اسی وقت وہیں سے کچھ فاصلے پرپاکستان کرکٹ ٹیم تین روزہ پریکٹس میچ میں مصروف تھی۔

اس کے علاوہ آسٹریلیا کی ٹیم گال کے مقام پر میزبان ٹیم کے ساتھ دوسرا ٹیسٹ میچ کھیل رہی تھی۔مظاہرین کی اسٹیڈیم آمد کی وجہ سے کچھ دیر تک میچ روک دیا گیا تھا لیکن ان کے جانے کے بعد میچ معمول کے مطابق جاری رہا تھا۔

دوسری جانب ذرائع کا کہناہے کہ تمام صورتِ حال کے باوجود کھلاڑی اور آفیشلز دونوں سیکیورٹی انتظامات سے مطمئن ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ٹیم کے کھلاڑیوں نے عید الاضحیٰ سری لنکا میں ہی منائی اور سخت سیکیورٹی میں نماز ادا کی۔اس کے علاوہ ہوٹل سے اسٹیڈیم اور کولمبو سے گال تک کے سفر میں پاکستان ٹیم کو سخت سیکیورٹی فراہم کی گئی اور ٹیم کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 16 جولائی سے گال میں کھیلا جائے گا۔

‘دورۂ سری لنکا ملتوی کرنا دانش مندانہ فیصلہ نہ ہوتا’

پاکستان ٹیم کے کچھ مداحوں کے خیال میں ٹیم کو اپنا دورہ ملتوی کرنا چاہیے تھا۔ لیکن بعض مبصرین کی رائے اس سے مختلف ہے۔

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ عبدالماجد بھٹی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سیریز ملتوی ہوجاتی تو اگلے ایک سال تک پاکستان کے پاس سری لنکا جانے کا وقت نہیں ہوتا، اور ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اہم پوائنٹس سے محروم ہوجاتی۔

ان کے بقول یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے بغیر سوچے سمجھے ٹیم کو سری لنکا روانہ کردیا۔کسی بھی ملک کا دورہ کرنے سے پہلے جو جانچ پڑتال کی جاتی ہے، بورڈ نے وہ یقیناً کی ہوگی۔

ان کے بقول پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورۂ سری لنکا سے قبل یقیناً دفتر خارجہ سے رہنمائی حاصل کی ہوگی۔ کسی بھی دورے سے قبل اس ملک میں موجود ہائی کمیشن سے رائے لی جاتی ہے، جو بورڈ نے سری لنکا میں پاکستانی ہائی کمیشن سے لی ہوگی، اس کے بعد ہی ٹیم نے سری لنکا کا دورہ کیا ہوگا۔

ماجد بھٹی کہتے ہیں کہ ٹیم جب سری لنکا پہنچی تھی اس وقت تک حالات اتنے خراب نہیں تھے اور جس وقت صدارتی محل پر حملہ ہوا پاکستان ٹیم اپنا تین روزہ پریکٹس میچ کولمبو جب کہ آسٹریلیا کی ٹیم گال میں سری لنکا کے خلاف دوسرا ٹیسٹ میچ کھیل رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کے دورہ پر جانے والی ٹیم کی سیکیورٹی کی ذمہ داری میزبان بورڈ کی ہوتی ہے۔ سری لنکا کے جو حالات ہیں اس کی وجہ سے سیکیورٹی کا مسئلہ اس لیے نہیں ہوگا کیوں کہ مظاہرین کا ہدف حکومت ہے، کرکٹرز نہیں۔ سری لنکا میں سیاست اور کرکٹ دونوں الگ الگ چل رہی ہیں۔ اس لیے دورے کو جاری رکھنے پر زور دینا چاہیے۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم، سری لنکا اور سیکیورٹی مسائل کا ساتھ کوئی نیا نہیں۔ 1996 کے ورلڈ کپ میں جب ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا نےخراب حالات کی وجہ سے سری لنکا جانے سے انکار کیا تو پاکستان ٹیم نے سری لنکا جاکر ان سے اظہارِ یکجہتی کیا اور یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ سری لنکا کرکٹ کے لیے محفوظ ملک ہے۔

اسی طرح 2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم کے ساتھ ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں پاکستانی سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور سری لنکن کھلاڑی زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد پاکستان میں دس سال تک انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی گئی۔ لیکن جب جب پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کی بات ہوئی سری لنکا نے پاکستان کا ساتھ دیا۔

‘وقت آگیا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ سری لنکا کو سپورٹ کرے’

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل ان دنوں سری لنکا میں ہی موجود ہیں، وہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز میں کمنٹری کے فرائض انجام دیں گے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سری لنکا کو سپورٹ کرے، کیوں کہ مشکل حالات میں ہمیشہ سری لنکا نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ”ماضی میں کئی بار سری لنکا نے پاکستان کا دورہ ایسے حالات میں کیا جب کوئی اور ٹیم سیکیورٹی کو وجہ بنا کر پاکستان آنے سے منع کردیتی تھی۔ ایک اچھے دوست ملک کی طرح اب پاکستان کی باری ہے کہ سری لنکا کا مشکل وقت میں ساتھ دے۔”

ان کے بقول سری لنکا میں کرکٹ سے محبت کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور پاکستان ٹیم سے محبت کرنے والے بھی لوگ وہاں موجود ہیں۔ اس لیے پاکستانی کھلاڑیوں کو بہترین کھیل پیش کرکے سیریز جیتنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

عامر سہیل کا کہنا تھا کہ ’’یہ وقت سری لنکا سے ٹیم کو واپس بلانے کا نہیں بلکہ ان کا ساتھ دینے کا ہے۔ ویسے بھی کرونا قواعد کی وجہ سے کھلاڑیوں اور تماشائیوں میں دوری ہوتی ہے۔ لہٰذا پاکستان کو بغیر کسی ڈر کے سری لنکا کے خلاف سیریز جاری رکھنی چاہیے۔‘‘

ماجد بھٹی سمجھتے ہیں کہ سری لنکا اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات کی وجہ سے ہی دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے عوام کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ان کے بقول سال 2009میں لاہور حملے کے بعد سری لنکا نے ہمیشہ پاکستان میں کرکٹ بحالی کے لیے اپنے کھلاڑی بھیجے چاہے وہ ورلڈ الیون کی نمائندگی کرنے کے لیے ہوں یا انٹرنیشنل سیریز کے لیے۔ ان کے عوام تامل ٹائیگرز کے خلاف آپریشن میں پاکستان فوج کے کردار کو فراموش نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج بھی اگر آپ سری لنکا میں کسی کو بتائیں کہ آپ پاکستانی ہیں تو آپ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

پاکستان نے سری لنکا ٹیم بھیجنے سے قبل سیکیورٹی وفد کیوں نہیں بھیجا ک؟ اس سوال پر ماجد بھٹی کا کہنا تھا کہ ایک تو اس کی ضرورت نہیں تھی دوسرا یہ سری لنکا میں سیکیورٹی سے زیادہ معاشی و سیاسی مسائل ہیں۔

ان کے بقول”سیکورٹی وفد اس ملک میں بھیجے جاتے ہیں جہاں کوئی شکوک و شبہات ہوں کہ حالات خراب ہوں گے۔ سری لنکا میں سیکیورٹی کا تو مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ اندرونی سیاست کی وجہ سے ملک معاشی طور پر کمزور ہوا ہے۔”

ماجد بھٹی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اس لیےبھی سری لنکا میں مسئلہ پیش نہیں آنا چاہیے کیوں کہ جس جگہ ان کا ہوٹل واقع ہے، اس سے کچھ دور برطانیہ اور امریکہ کے سفارت خانے بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ 12 سے 14 مرتبہ سری لنکا گئے ہیں۔ کولمبو میں جس ہوٹل میں پاکستان ٹیم ٹھہری ہوئی تھی، اس سے باہر نکلتےہی پہلے برطانیہ کا سفارت خانہ آتا ہے، پھر امریکہ کا، جس کے بعد صدارتی محل اور کرکٹ اسٹیڈیم آتے ہیں۔ جس دن صدارتی محل پر حملہ ہوا اس دن مظاہرین نےکرکٹ گراؤنڈ کا رخ نہیں کیا اور محدود رہے۔

اگر سری لنکا کے حالات خراب ہوتے تو ماجد بھٹی کے خیال میں آسٹریلیا کی ٹیم 52 دن وہاں قیام نہیں کرتی۔ نہ ہی آسٹریلیا کی اے ٹیم وہاں کا دورہ کرتی۔ پاکستان سے ٹیسٹ سیریز کے بعد وہاں ایشیاکپ بھی پلان ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سیریز میں کامیابی پاکستان کی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں رینکنگ بہتر کرسکتی ہے۔ لیکن اگر اسے ملتوی کردیا جاتا تو اگلے ایک سال تک ٹیم مسلسل کرکٹ کی وجہ سے اس کے لیے’ونڈو ‘ نہیں نکال سکتی تھی۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi