شوبز

یوم پاکستان پر پرانے ملی نغموں کی گونج، نئے نغمے مقبول کیوں نہیں ہوتے؟

Written by Omair Alavi

کراچی — 

کہتے ہیں کہ موسیقی دل کی دھڑکن کی طرح ہے جو کبھی نہیں رکتی، دہائیاں گزر جانے کے باوجود کئی دھنیں آج بھی ویسے ہی مقبول ہیں جیسے کہ اس وقت تھیں جب انہیں کمپوز کیا گیا تھا۔

قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے موسیقاروں نے کئی ایسے ملی نغمے کمپوز کیے جو کئی برس گزر جانے کے باوجود آج بھی مقبول ہیں۔

ہر برس 23 مارچ، 14 اگست اور چھ ستمبر کو پاکستانی ‘جیوے جیوے پاکستان’، ‘اے وطن پیارے وطن’ اور ‘میں بھی پاکستان ہوں ‘ جیسے ملی نغموں کو جوش، ولولے اور جذبے کے ساتھ سنتے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے متعدد ملی نغمے پیش کیے جن میں سے کچھ مقبول ہوئے لیکن انہیں وہ شہرت حاصل نہیں ہوئی جو سالوں پہلے بنائے گئے نغموں کو حاصل ہوتی رہی ہے۔

پاکستان میں ملی نغموں کی تاریخ پر ایک نظر

پاکستان فلم انڈسٹری نے 50 کی دہائی میں فلم ‘بیداری’ کے ذریعے عوام میں قومی جذبہ بیدار کرنے کی کوشش کی۔ ‘اے قائد اعظم تیرا احسان’ ، ‘آؤ بچوں سیر کرائیں’ اور ‘ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے’ جیسے گانوں نے اس فلم کی کامیابی میں اہم کردار بھی ادا کیا۔

لیکن جب سنیما والوں اور ڈسٹری بیوٹرز کو پتا چلا کہ ‘بیداری’ دراصل بھارتی فلم ‘جاگرتی’ کی کاپی ہے اور اس کے گانے تک اسی بھارتی فلم کے گانوں کا چربہ ہیں، تو انہوں نے اس فلم پر پابندی عائد کر دی۔ تاہم بعد میں پاکستان ٹیلی ویژن نے ان گانوں کو نوے کی دہائی میں زندہ کیا اور آج لوگ انہیں پاکستانی گانے ہی سمجھتے ہیں۔

سن 1958 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘چنگیز خان’ میں رشید عطرے کا کمپوز کیا ہوا، طفیل ہوشیار پوری کا لکھا ہوا اور عنایت حسین بھٹی کا گایا ہوا گیت ‘اللہ اکبر’ بے حد مقبول ہوا، اس گانے کے بول سننے والوں کے دلوں کو چھو گئے۔

آج 63 سال بعد بھی یہ گانا عوام میں مقبول ہے اور اسے پاکستان کے شروع کے ملی نغموں میں بھی شمار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد جو سلسلہ شروع ہوا وہ آج تک جاری ہے۔

سن 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران مقبول ہونے والے نغمے

جب چھ ستمبر 1965 کو پاکستان اور بھارت کی افواج بارڈر پر مدمقابل تھیں تو پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان نے ملک بھر میں مورچے سنبھالے ہوئے تھے اور ملکۂ ترنم نور جہاں، نسیم بیگم اور مہدی حسن سمیت کئی گلوکاروں کے ملی نغموں نے نہ صرف فوجی جوانوں کا جوش بڑھایا بلکہ قوم کا حوصلہ بھی کم نہ ہونے دیا۔

مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد جب باقی پاکستان میں عوام کے حوصلے کچھ پست نظر آرہے تھے تب جمیل الدین عالی اور مسرور انور جیسے شعرا کے گیت ‘جیوے جیوے پاکستان ‘ اور ‘سوہنی دھرتی اللہ رکھے’ نے ملک میں ایک نیا جذبہ بیدار کیا۔

ان دونوں ملی نغموں سمیت کئی گانوں کے موسیقار سہیل رعنا تھے جو فلموں اور ٹی وی پر اپنے ہِٹ گانوں کی وجہ سے کافی مقبول تھے۔

سہیل رعنا ملی نغموں کی طرف کیسے آئے؟

سن 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے لیے تیار کیا گیا خصوصی گیت ‘ہم مصطفوی ہیں’ ہو یا انور ابراہیم کا ‘تیری وادی وادی گھوموں’، بچوں کے ٹی وی پروگرامز میں نشر کیے جانے والا ‘دیا جلائے رکھنا’ ہو یا پھر ان کے والد رعنا اکبر آبادی کا لکھا ہوا ‘یہ دیس ہمارا ہے’ سہیل رعنا کے ملی نغموں کو سنیں تو آج بھی جذبہ بیدار ہو جاتا ہے۔

‘تیرا پاکستان ہے’، اور ‘زمین کی گود’ جیسے سدا بہار ملی نغموں کے خالق موسیقار سہیل رعنا نے 1963 میں فلم ‘جب سے دیکھا ہے تمہیں’ سے اپنے کریئر کا آغاز کیا اور پہلی ہی فلم میں پہلا ملی نعمہ ‘ہمت سے ہر قدم اٹھانا’ پیش کیا جسے احمد رشدی نے گایا تھا اور اسے کافی مقبولیت ملی تھی۔

کینیڈا میں مقیم سہیل رعنا کا وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پرندوں کی طرح جیسے ہر انسان کا ایک آشیانہ ہوتا ہے اور وہ اسے دل و جان سے چاہتا ہے ویسے ہی ہم سب کا پہلا اور پیارا آشیانہ پاکستان ہے۔ ہم سب نے بڑی محنت سے اس کو بنایا اور سنوارا ہے۔

سہیل رعنا کے بقول انہیں ملی نغموں کی طرف آنے کا مشورہ ان کے استاد اور بھارت کے مشہور موسیقار نوشاد نے دیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے فلموں کو چھوڑ کر ملی نغموں پر توجہ دی۔

سہیل رعنا کا کہنا تھا کہ "نوشاد صاحب سے میری خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ اپنے ایک خط میں انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ فلم انڈسٹری سب کو بھلا دیتی ہے چاہے وہ کتنا ہی بڑا موسیقار کیوں نہ ہو اس لیے ضروری ہے کہ اپنی جڑیں مضبوط کرتے ہوئے شاخوں کو پھیلانا چاہیے۔”

انہوں نے کہا کہ ‘اسی وجہ سے میں نے فلموں کے لیے گانے بناتے ہوئے ملی نغموں پر بھی کام کیا اور اپنی طرف سے ملک کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی چھوٹی سی کوشش کی۔ آج 50 برس کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی زیادہ تر گانے اسی طرح مقبول ہیں جیسے پہلے دن تھے۔”

کیا موجودہ ملی نغمے پرانے وقت کے گانوں سے مختلف ہیں؟

پاکستان ٹیلی ویژن نے 70 اور 80 کی دہائی میں گانوں خاص طور پر ملی نغموں کے لیے ایک جامع طریقۂ کار اپنایا ہوا تھا جس کے باعث ہر سال متعدد ملی نغمے ریلیز بھی ہوتے تھے اور ان میں سے کئی مقبول بھی ہو جاتے تھے۔

لیکن بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں گانے بنانے والوں اور سننے والوں کے پاس وقت کی کمی ہے اسی لیے جو گانے ریلیز بھی ہوتے ہیں وہ چند روز مقبول رہنے کے بعد منظر نامے سے غائب ہو جاتے ہیں۔

موسیقار اور گلوکار شجاع حیدر کا کہنا ہے کہ ملی نغمہ بنانے کے لیے آپ کا آرٹسٹ ہونے سے کہیں زیادہ آپ کا محبِ وطن ہونا بہت لازمی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملی نغمہ بنانے کے لیے جذبے کے ساتھ ساتھ موقع بھی ضروری ہے۔

ان کے بقول "ہم نے جب بھی اچھے اور جان دار ملی نغمے بنائے ہیں تو اس میں موقع کا بہت عمل دخل ہے، 1965 کی جنگ میں جو جذبہ جو ہمت اور جو تخلیق کاری سامنے آئی تھی، وہ اس کے بعد سے بہت کم دیکھنے میں آئی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس جیسے گانے بھی نہیں آئے۔”

ان کا کہنا تھا کہ "جب ہم جذبے سے سرشار ہوتے ہیں تو ہم بہادر بھی ہو جاتے ہیں، ہمت بھی آجاتی ہے اور اچھا کام تخلیق بھی ہونے لگتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئی گیت آپ کے کلچر کا حصہ بن جائے تو اسے سننے کے لیے قومی دن کی قید نہیں ہوتی یہ کبھی بھی سنا جا سکتا ہے۔

دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ "ہم لوگ سدا بہار ملی نغموں سے شاید اس وجہ سے باہر نہیں نکل پا رہے کیوں کہ وہ ہمارے کلچر کا حصہ بن گئے ہیں، انہیں کسی بھی وقت سن سکتے ہیں اور ان سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم انہی گانوں کے دوہراتے رہیں گے اور نئے گیت بنانے کے بجائے انہیں مختلف طریقوں سے پیش کرتے رہیں گے تو اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی کوئی نیا قومی نغمہ بنانا ہو تو ضروری نہیں کہ پرانے ہی گانوں کی طرف جائیں۔

شجاع حیدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ "آخر 90 کی دہائی میں ‘وائٹل سائنز’ اور ‘جنون’ نے بھی تو قومی نغمے بنائے جو لوگوں نے پسند کیے، سننے والے آج بھی نئے گانوں کی راہ تکتے ہیں، ہمیں اوریجنل کام کی طرف جانا چاہیے نہ کے پرانے گانوں کی جانب کیوں کہ وہ ہمارا ورثہ ہیں، اور وہ ہمیں ہمیشہ ہی اچھے لگتے رہیں گے۔”

نئے ملی نغمے بنانے والے سامنے کیوں نہیں آ رہے؟

پاکستان میں میوزک چینلز مالی مشکلات کا شکار ہیں اور ملک میں موسیقی کی فیلڈ موجودہ دور کے حساب سے ترقی نہیں کر رہی۔

گلوکار علی ظفر
گلوکار علی ظفر

اسی وجہ سے نئے گلوکار اور موسیقار بھی فیلڈ میں آنے سے کتراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

موسیقار و گلوکار علی ظفر کا کہنا ہے کہ جب تک نئے لوگ نہیں آئیں گے، نیا کام نہیں ہو گا۔ آرٹسٹ سے تخلیقی کام بھی اس وقت ہوتا ہے جب اسے عزت ملے اور اس کے مالی حالات بہتر ہوں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی میوزک کمپنی ‘لائٹ انگیل ریکارڈز’ کے پلیٹ فارم سے ہر سال ملک بھر سے 10 نئے گلوکاروں کو لانچ کریں گے تاکہ موسیقی میں پاکستان کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلایا جا سکے۔

علی ظفر کے بقول "پہلے موسیقی کی تنزلی اور اب کووڈ 19 کی وجہ سے پاکستان میں موسیقاروں اور شاعروں کے مالی حالات خراب ہیں۔ اوپر سے جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان سے پہلے اس فیلڈ میں آنے والوں کو وہ عزت اور مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ مستحق ہیں تو وہ موسیقی کی طرف آنے سے گریز کرتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "اسی وجہ سے لائٹ انگیل ریکارڈز نے نئے آرٹسٹوں کو نہ صرف پلیٹ فارم فراہم کرنے کی ٹھانی ہے بلکہ ہماری کوشش ہے کہ انہیں وہ مواقع بھی دیں جس کے ذریعے وہ دنیا بھر کو اپنا ٹیلنٹ دکھا سکیں۔”

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi

عمیر علوی ایک بہت معزز صحافی، تنقید کار اور تبصرہ نگار ہیں جو خبروں، کھیلوں، شوبز، فلم، بلاگ، مضامین، ڈرامہ، جائزوں اور پی ٹی وی ڈرامہ میں مہارت رکھتے ہیں۔ وسیع تجربے اور داستان سوزی کی خصوصیت کے ساتھ، وہ اپنے دلچسپ تجزیوں اور دلکش تقریروں کے ذریعے حاضرین کو مسحور کرتے ہیں۔ ان کی ماہری اور تعاون نے انہیں میڈیا اور تفریحی صنعت کا اہم شخصیت بنا دیا ہے۔