اسپورٹس

فواد عالم کی ‘فولادی واپسی’ اور لمبی جدائی کا ریکارڈ

Written by Omair Alavi

کراچی — 

چار ہزار دو سو اٹھارہ دن۔ یہ وہ وقت ہے جو سلیکٹرز اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مبینہ غفلت اور کپتانوں کی پسندیدہ فہرست میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ کرکٹر فواد عالم نے دو سینچریوں کے درمیان گزارا۔

فواد عالم نیوزی لینڈ کے خلاف ماؤنٹ مانگنوئی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں 102 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ پاکستانی ٹیم میچ تو نہ بچا سکی لیکن کھیل کے پانچویں روز مشکل حالات میں نیوزی لینڈ کے برق رفتار پیس اٹیک اور اسپنرز کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہنے والے فواد عالم کی کارکردگی کے ہر طرف چرچے ہیں۔

جولائی 2009 میں جب فواد عالم نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں سینچری بنائی تھی تو براک اوباما امریکہ کے صدر تھے۔ پاکستان میں پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت تھی۔ یونس خان ٹیم کے کپتان تھے اور موجودہ کپتان بابر اعظم کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ اب وہی یونس خان ٹیم کے بیٹنگ کوچ ہیں۔

آخری بار جب فواد نے ٹیسٹ کرکٹ میں تین کا ہندسہ عبور کیا تو یونس خان ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔ یہاں فواد عالم نے چوکا مار کر دوسری ٹیسٹ سینچری بنائی وہاں ٹیم کے کھلاڑیوں نے بیٹنگ کوچ کو مبارک باد دینا شروع کر دی اور کیوں نہ دیتے۔ فواد عالم نے محنت کی اور کسی سے گلہ نہیں کیا۔ بھروسہ کیا تو صرف اس پر جو سب کی سنتا ہے اور جس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔

ایک نظر فواد عالم کے ٹیسٹ کریئر پر

فواد عالم کا ٹیسٹ کریئر دوسرے مڈل آرڈر بلے بازوں سے کچھ مختلف رہا ہے جب ڈیبیو کیا تو اننگز کا آغاز کرنے بھیج دیا گیا۔

پہلی اننگز میں ناکامی کے بعد دوسری میں انہوں نے ایک شان دار سینچری اسکور کی۔ ان کے 168 رنز پاکستان کی جانب سے پہلے ٹیسٹ میں کسی بھی کھلاڑی کا سب سے بڑا اسکور ہے اور یہ اننگز انہوں نے ملک میں نہیں بلکہ سری لنکا میں کھیلی۔

دوسرے ٹیسٹ میں انہوں نے ایک بار پھر اننگز کا آغاز کیا اور دونوں اننگز میں 16، 16 رنز بنائے۔ تیسرا میچ نمبر تین پر کھیلا اور 29 اور پانچ رنز اسکور کرکے واپس پویلین آئے۔

یہ اتنی خراب کارکردگی نہیں تھی کہ انہیں ٹیسٹ کرکٹ سے باہر کر دیا جاتا۔ لیکن ہوا کچھ ایسا ہی۔ کیوں کہ یہی وہ میچ تھا جس میں عمر اکمل نے ڈیبیو سینچری اسکور کی۔ کہا جاتا ہے کہ چوں کہ وہ کامران اکمل کے بھائی تھے اس لیے وہ ٹیم میں رہے اور فواد عالم باہر ہو گئے۔

مجھے میرے گزرے ہوئے سال لوٹا دو، جج صاحب!

نیوزی لینڈ کے خلاف 2009 میں سیریز کے بعد فواد عالم کو ایک دہائی تک اپنی باری کا انتظار کرنا پڑا۔

ٹیم سے باہر ہونے کے باوجود فواد عالم نے ہمت نہ ہاری۔ ان کے پاس ایک راستہ وہ تھا جو حال ہی میں محمد عامر نے اختیار کیا جس میں الزام تراشی تھی، جگ ہنسائی تھی، اور کرکٹ سے کنارہ کشی بھی۔ لیکن فواد عالم نے ایسا نہیں کیا۔

جس طرح فلموں میں اداکار محمد علی اور امیتابھ بچن عدالت میں جج کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے کھوئے ہوئے سالوں کا حساب مانگتے تھے، فواد عالم نے ٹھیک اسی طرح رنز کا انبار لگا کر معاملہ سب کے سامنے رکھ دیا۔

نہ صرف ملک بھر کے معتبر صحافیوں نے فواد عالم کی واپسی میں ان کا ساتھ دیا بلکہ ان کے چاہنے والوں نے بھی ان کی ہمت بڑھائی اور انہوں نے سب کی امیدوں کا بھرم رکھتے ہوئے ایک مشکل وقت میں ایسی اننگز کھیلی جس کی کوئی توقع نہیں کر رہا تھا۔

فواد عالم سے فولاد عالم تک کا سفر!

اس سینچری کے لیے انہیں 11 سال کا انتظار کرنا پڑا ویسے تو یہ ان کا چھٹا ٹیسٹ میچ تھا اور ان کی دوسری ٹیسٹ سینچری۔

لیکن گیارہ سال کے عرصے میں سب کچھ بدل گیا۔ پہلی سینچری کے وقت 24 سال کا نوجوان اب 35 سال کا آدمی بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ کرکٹ کھیلنے والے بہت کم لوگ انٹرنیشنل کرکٹ میں کھیل رہے ہیں اور اس کے بعد آنے والے بھی ریٹائرڈ ہو کر سابق ٹیسٹ کرکٹر بن چکے ہیں۔

لیکن 11 سال کے دوران فواد عالم نے فولادی قوت کا مظاہرہ کیا اور پہلے پاکستان شاہینز کی جانب سے پریکٹس میچ میں سینچری بنائی اور پھر قومی ٹیم کی طرف سے سینچری بنا کر شاہین کی پرواز اڑی۔

طویل وقفے بعد سینچری اسکور کرنے والے دیگر کھلاڑی

فواد عالم کے پاس دو سینچریوں کے درمیان سب سے زیادہ وقت کا پاکستانی ریکارڈ تو ہے۔ لیکن ورلڈ ریکارڈ اب بھی آسٹریلوی بلے باز وارین بارڈزلی کے پاس ہے۔

انہوں نے 1912 میں جنوبی افریقہ کے خلاف لارڈز کے مقام پر سینچری اسکور کی تھی، جس کے بعد آسٹریلوی کھلاڑی کو تین ہندسوں کی اننگز کے لیے 14 سال انتظار کرنا پڑا۔

1926 میں جب انہوں نے اسی مقام پر انگلینڈ کے خلاف ناقابلِ شکست 193 رنز کی اننگز کھیلی تو ان کا پانچ ہزار ترانوے دن کا انتظار ختم ہوا۔ اس طویل انتظار کی وجہ ان کی ناقص کارکردگی، سلیکٹرز کی ہٹ دھرمی یا بورڈ کا ناروا سلوک نہیں تھا۔ بلکہ پہلی جنگِ عظیم تھی جس کی وجہ سے کرکٹ تو کیا، دنیا بھر کا نظام درہم برہم رہا۔

بھارت کے مشتاق علی کو بھی دوسری جنگِ عظیم کی وجہ سے عظیم انتظار کرنا پڑا۔ اُنہیں بھی تین اعداد کا ہندسہ دوسری بار عبور کرنے کے لیے چار ہزار پانچ سو چوالیس دن کا عرصہ انتطار کرنا پڑا۔

انہوں نے اپنی پہلی سینچری چوتھے میچ میں انگلینڈ کے خلاف مانچسٹر میں بنائی، یہ بات ہے سنہ 1936 کی، جب بھارتی ٹیم نے انگلینڈ کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد دوسری جنگِ عظیم کی وجہ سے ٹیسٹ کرکٹ کو ایسا بریک لگا کہ بھارت سمیت تمام ٹیموں کو طویل انتظار کرنا پڑا۔

ویسے تو مشتاق علی نے دوسری سینچری تین میچز بعد ہی اسکور کی، لیکن اس دوران ان کو 12 سال کا انتظار کرنا پڑا۔ پچھلی سینچری متحدہ بھارت کی طرف سے 1936 میں، دوسری سینچری بھارت کی جانب سے 1948 میں۔ اس انتظار کے باوجود بھی وہ مزید چار سال کرکٹ کھیلے اور 11 ٹیسٹ میچوں میں دو سینچریوں کی مدد سے 612 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے۔

فواد عالم کی لمبی جدائی، ہیملٹن میساکاڈزا سے بھی لمبی

اور اگر بات ہو ان کھلاڑیوں کی جن کے ٹیسٹ کریئر میں وقفہ جنگِ عظیم کی وجہ سے نہیں ہوا، اس کا ریکارڈ گزشتہ ہفتے تک زمبابوے کے ہیملٹن میساکاڈزا کے پاس تھا۔

فواد عالم کی طرح انہوں نے بھی اپنے ڈیبیو میچ میں سینچری اسکور کی تھی۔ لیکن ان کی پہلی اور دوسری سینچری کے درمیان 10 سال اور ایک ہفتے کا وقت تھا، اور یوں فواد عالم اس لمبی جدائی میں ان سے آگے نکل گئے۔

About the author

Omair Alavi

عمیر علوی ایک بہت معزز صحافی، تنقید کار اور تبصرہ نگار ہیں جو خبروں، کھیلوں، شوبز، فلم، بلاگ، مضامین، ڈرامہ، جائزوں اور پی ٹی وی ڈرامہ میں مہارت رکھتے ہیں۔ وسیع تجربے اور داستان سوزی کی خصوصیت کے ساتھ، وہ اپنے دلچسپ تجزیوں اور دلکش تقریروں کے ذریعے حاضرین کو مسحور کرتے ہیں۔ ان کی ماہری اور تعاون نے انہیں میڈیا اور تفریحی صنعت کا اہم شخصیت بنا دیا ہے۔