Showbiz

پردے میں رہنے دو:’مردانہ بانجھ پن’کے موضوع پر رومانوی کامیڈی فلم

Written by Omair Alavi

کراچی — 

پاکستان میں ڈراموں کو تو سماجی مسائل اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اب فلموں کے میڈیم پر بھی اس طرح کی کہانیاں سامنے لائی جا رہی ہیں جس سے معاشرتی مسائل کی عکاسی ہو۔

عموماً پاکستان میں رومانس، ایکشن اور کامیڈی سے بھرپور فلمیں پسند کی جاتی ہیں۔ لیکن حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ‘پردے میں رہنے دو’ میں سوشل ایشو کے ساتھ ساتھ کامیڈی اور رومانس کو یکجا کر کے پیش کیا گیا ہے۔اس فلم کو دیکھ کر کہیں کہیں ٹی وی ڈرامے یا ٹیلی فلم کا شبہ ہوتا ہے۔

ہدایت کار وجاہت رؤف کی عید الفطر پر ریلیز ہونے والی ‘پردے میں رہنے دو’ کی کہانی محسن علی نے لکھی ہے جو ایک ایسے نوجوان جوڑے کے گرد گھومتی ہے جنہیں اولاد نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک بانجھ پن کے شکار مرد کو کن حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔

‘پردے میں رہنے دو میں’ نوجوان جوڑے کا کردار اداکارہ ہانیہ عامر اور علی رحمٰن خان نے ادا کیا ہے۔ فلم کے آغاز میں نازو (ہانیہ عامر) کو ایک چلبلی سی لڑکی دکھایا گیا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک سمجھدار عورت کے روپ میں سامنے آتی ہے۔

فلم میں اداکار علی رحمٰن نے شانی نامی لڑکے کا کردار ادا کیا ہے جسے باپ نہ بننے کی وجہ سے پہلے اپنے والدین اور پھر اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ اداکار جاوید شیخ اور اداکارہ منزہ عارف نے شانی کے والدین کا کردار کیا ہےجنہیں اس بات پر شرمندگی ہوتی ہے کہ ان کی نسل آگے نہیں بڑھ رہی۔

‘پردے میں رہنے دو’ کے ذریعے اداکارہ صبا فیصل کی بیٹی سعدیہ فیصل اور تھیٹر اداکار حسن رضا نے اپنا فلمی ڈیبیو کیا ہے۔ فلم میں سعدیہ نے لالی کا کردار ادا کیا ہے جس سے شانی کے والدین اس کی شادی کرانا چاہتے ہیں۔

فلم میں ان تمام لوگوں اور یوٹیوب ٹوٹکوں کی بھی نشاندہی کی ہے جو مردانہ کمزوری کا کامیاب علاج کرنے کے دعوے دار ہیں جب کہ مردانہ کمزوری کا علاج کرنے والے خود ساختہ ڈاکٹروں اور جعلی حکیموں کی اصلیت بھی بیان کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ‘پردے میں رہنے دو’ میں وجاہت رؤف نے کسی تجربہ کار موسیقار کے بجائے اپنے 19 سال کے بیٹے عاشر وجاہت اور ان کے دوست حسن علی ہاشمی کو موقع دیا ہے۔ ان دونوں نوجوانوں نے فلم کا ساؤنڈ ٹریک ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ فلم کے کچھ گانے بھی گائے جن میں عاشر وجاہت کا ‘انکھیاں’ اور حسن علی ہاشمی اور نہال نسیم کا ‘پیلا رنگ’ کافی مقبول ہوا۔

ہدایت کار وجاہت رؤف اور ان کی اہلیہ شازیہ وجاہت کی فلم پروڈیوس ایک ایسے موضوع پر بنائی گئی ہے جس پر کوئی پروڈیوسر ہاتھ نہیں لگاتا۔ سوشل میڈیا پر وجاہت رؤف ‘وائس اوور مین’ بن کر مشہور لوگوں کے انٹرویو کرتے ہیں جس میں کئی مرتبہ ان کے جملے ‘بیلو دے بیلٹ’ کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔

لیکن انہوں نے فلم میں کوئی ایسا سین نہیں رکھا جسے دیکھ کر فلم بین ‘ان کمفرٹ ایبل’ ہوں اور نہ ہی لوگوں کو ہنسانے کے لیے کسی ذومعنی ڈائیلاگ کا سہارا لیا۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi