Showbiz

وہ 11 مشہور پاکستانی گانے جو حقیقت میں پاکستانی نہیں

Written by Omair Alavi

کراچی — 

پاکستان میں پاپ موسیقی کو نوجوان خوب پسند کرتے ہیں اور اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

لیکن جہاں نئے دور کی موسیقی سننے والوں کو یہ پاپ میوزک اپنی طرف متوجہ کرتا ہے وہیں متعدد ایسے موسیقار بھی ہیں جو گانا کاپی کر لیتے ہیں۔

اگر آپ نے بھی نیٹ فلکس کی مشہور سیریز ‘منی ہائیسٹ’ کے بیک گراؤنڈ میں معروف پاکستانی پاپ سنگر عالمگیر کا مقبول گانا ‘البیلا راہی’ سنا ہے تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ کیوں کہ وہاں وہ اوریجنل کیوبن گانا ‘گوانتا نا میرا’ بجا تھا جس کی نقل پاکستانی پاپ سنگر نے کی تھی۔

پاکستان میں دوسرے ممالک کی موسیقی کو اپنا بنا پیش کرنے کا معاملہ 1950 کی دہائی میں شروع ہوا تھا جب مشہور بالی وڈ فلم ‘جاگرتی’ کے دو مقبول گانوں ‘آؤ بچوں تمہیں دکھائیں’ اور ‘ہم لائے ہیں طوفان سے’ کے پاکستانی ورژن فلم ‘بیداری’ میں ‘آؤ بچو سیر کرائیں’ اور ‘ہم لائے ہیں طوفان سے’ ہی بنا کر پیش کیا گیا تھا۔

پچاس کی دہائی میں ان دونوں گانوں پر مقبول ہونے کے باوجود پابندی لگا دی گئی کیوں کہ یہ بھارتی ملی نغمے تھے۔

پابندی کے بعد اگلے 25 برس تک ان دونوں گانوں کا نہ ریڈیو پر کوئی نام تھا اور نہ یہ ٹی وی پر نظر آتے تھے۔ البتہ پھر 80 کی دہائی میں ان گانوں کو دوبارہ ایسے پیش کیا گیا جیسے وہ پاکستانی گانے ہی ہیں اور اس وقت بڑی ہونے والی نسل انہیں پاکستانی گانے ہی سمجھتی رہی۔

مگر یہاں بات بھارتی فلموں سے گانے چرانے کی نہیں ہے بلکہ دیارِ غیر سے اس طرح مرعوب ہونے کی ہے کہ گانا کاپی بھی ہو گیا اور پتا بھی نہ چلا۔

آئیے ایسے ہی چند گانوں پر نظر ڈالتے ہیں جو پاکستانی سننے والوں کے دل سے تو قریب ہیں لیکن ان کا دل پاکستانی نہیں۔

1۔ جب مقبول فلمی گیت ہالی وڈ کی مشہور فلم کا میوزک نکلا

ساٹھ کی دہائی میں پاکستانی فلم ‘دال میں کالا’ کا گانا ‘سمجھ نہ آئے دل کو کہاں لے جاؤں’ بے حد مقبول ہوا تھا۔

لیکن صرف انگریزی گانے سننے اور ہالی وڈ کی فلمیں دیکھنے والے یہ جانتے تھے کہ یہ گانا فلم ‘کم سپٹمبر’ کی تھیم سانگ تھا۔

موسیقار مصلح الدین کا ترتیب دیا گیا یہ گانا مشہور گلوکارہ ناہید نیازی نے گایا تھا۔

تیس برس بعد بالی وڈ نے بھی اسی گانے کو کاپی کیا تھا لیکن تب تک پاکستان میں اس گانے کا دوسرا ورژن فلم ‘استادوں کے استاد’ میں حمیرا چنا اور تحسین جاوید کی آواز میں پیش کیا جا چکا تھا۔

2۔ ہالی وڈ گانا ‘سمر وائن’ پاکستانی انداز میں

اگر ساٹھ کی دہائی کے مقبول انگریزی گانوں کی فہرست بنائی جائے تو نینسی سناٹرا اور لی ہیزل وڈ کا مشہور گانا ‘سمر وائن’ اس میں یقیناََ جگہ پائے گا۔

چند برس قبل معروف گلوکارہ آئمہ بیگ اور ٹی وی میزبان مبشر لقمان نے اسی گانے کو دوبارہ گا کر نوجوان نسل کے لیے اپنے انداز میں پیش کیا تھا۔

لیکن ساٹھ کی دہائی میں موسیقار جاوید سرور نے فلم ‘گھر داماد’ میں اسی گانے کو احمد رشدی اور رونا لیلیٰ کی آواز میں پیش کیا تھا۔

سید کمال اور دیبا پر فلمایا گیا گانا ‘تجھ کو بسایا ہے نگاہوں میں’ سننے والوں کو اس وقت نیا اور تازہ گانا لگا جو اتنا مقبول ہوا کہ نوے کی دہائی میں اسے ایک اشتہار تک میں استعمال کیا گیا تھا۔

3۔ پاکستان کا مشہور پاپ گیت ‘دیکھا نہ تھا’

معروف گلوکار عالمگیر کے مقبول ترین گانوں میں سے ایک ‘دیکھا نہ تھا کبھی ہم نے یہ سما’ جسے 1970 کی دہائی میں عالمگیر کے ساتھ ترکی کی گلوکارہ نازی نے ٹی وی پر گایا تھا۔

یہی گانا موسیقار کریم شہاب الدین کی ہدایات میں فلم ‘بوبی اینڈ جولی’ کے لیے بھی گایا گیا تھا جو عالمگیر اور ناہید اختر نے گنگنایا تھا۔

اس گیت کو عالمگیر سے قبل ترکی کی مشہور گلوکارہ شینائے یوزبش وگلو ‘سیو کاردے شم’ کے نام سے گا کر مشہور کر چکی تھیں۔

لیکن بہت کم سننے والوں کو یہ بات معلوم ہے یہ گانا دراصل خود ایک اسرائیلی فوک گانے سے مرعوب ہو کر بنایا گیا۔ جسے ایلانت نامی گلوکارہ نے 1970 کے آغاز میں گا کر مقبولیت حاصل کی تھی۔

4۔ حسن جہانگیر کا گانا ‘ہوا ہوا’

اسی کی دہائی میں گلوکار حسن جہانگیر کو جس گانے نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا وہ گانا بھی در اصل ان کا اپنا تخلیق کردہ نہیں تھا۔

‘ہوا ہوا اے ہوا’ سے قبل ایرانی گلوکار کورش یغمائی 1970 کی دہائی میں ‘ہوار ہوار’ کے نام سے گا کر مقبول ہو چکے تھے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے حسن جہانگیر کی آواز میں یہ گانا دو مرتبہ بالی وڈ فلموں میں بھی استعمال ہوا۔ لیکن اس کے علاوہ بھی متعدد مرتبہ بھارتی فلموں میں اس کاپی شدہ گانے کو کاپی کیا گیا۔

5۔ جب عالمگیر نے یورپی بینڈ ‘ایبا’ کے گانے کو اپنا بنا کر پیش کیا

اسی کی دہائی میں عالمگیر شہرت کی بلندیوں پر تھے۔ اس دوران انہوں نے کچھ ایسے گانے بھی کمپوز کیے جو پہلے کوئی اور ترتیب دے کر ان کا کام آسان کر گیا تھا۔

ایسا ہی ایک گانا ‘میں نے کل دیکھا تھا’ ہے جو پاکستان ٹیلی ویژن پر بہت چلا اور پسند بھی کیا گیا۔

پاکستان میں ٹی وی ڈراموں کا معیار پہلے جیسا کیوں نہیں؟

پاکستان میں ٹی وی ڈراموں کا معیار پہلے جیسا کیوں نہیں؟

اس گانے کا اصل ورژن معروف یورپی بینڈ ایبا نے ‘ڈز یور مدر نو’ کے نام سے 1979 میں گایا تھا جو بے حد مقبول ہوا تھا۔

کئی برس بعد مسٹر بین کے کردار سے شہرت پانے والے اداکار روون ایٹکنسن نے بھی اس گانے کو اپنی فلم ‘جانی انگلش’ میں ازراہِ مذاق استعمال کیا تھا۔

6۔ وائٹل سائنز کا ‘گورے رنگ کا زمانہ’ اور ‘یہ شام’

سن 1980 اور 1990 کی دہائی میں وائٹل سائنز بے حد مقبول بینڈ تھا جس کے گانے آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔

ایک طرف اس بینڈ نے ‘دل دل پاکستان’ کے ذریعے پاکستان میں میوزک سین کو بدلا تو دوسری جانب کچھ ایسے مشہور گانوں کو بدل کر اپنا بنا کر پیش کیا جو پہلے بھی مقبول تھے اور لوگ آج بھی انہیں سنتے ہیں۔

معروف پنجابی لوک گیت ‘کالے رنگ دا پراندا’ ہو یا اس کا وائٹل سائنز ورژن ‘گورے رنگ کا زمانہ’ آج بھی دونوں ہی گانے لوگوں کو پسند ہیں۔

اس بینڈ کے پہلے میوزک البم نے جہاں ریکارڈز بنائے وہیں کچھ لوگوں کے دل بھی توڑے ہیں۔

وائٹل سائنز نے کبھی میوزک بینڈ یو بی فورٹی کے ‘ریڈ ریڈ وائن’ کو ‘سمجھانا’ بنا کر پیش کیا تو کبھی ‘اے فلوک آف سی گلز’ نامی بینڈ کے گانے ‘دی مور یو لو’ کو ‘تم دور تھے’ کے روپ میں پیش کیا۔

یہاں تک کے اس البم کا سب سے زیادہ پاکستانی لگنے والا گانا ‘یہ شام’ بھی پنک فلائیڈ کا کا گانا تھا۔

7۔ سجاد علی کا مقبول گانا ‘بے بیا’

نوے کی دہائی میں پاپ میوزک کی دنیا میں قدم رکھنے والے معروف کلاسیکل گلوکار سجاد علی کے پہلے پاپ البم ‘بے بیا’ نے پورے پاکستان میں دھوم مچا دی تھی۔

اس البم میں جہاں سارے گانے مقبول ہوئے وہیں سب سے زیادہ ‘بے بیا’ پسند کیا گیا۔

سجاد علی نے عربی گلوکار خالد کے مقبول گانے ‘دی دی’ کو نہ صرف کاپی کیا بلکہ اس کے بول بدل کر اسے اپنا بنا کر پیش کیا۔

‘بے بیا’ کو ہدایت کارہ شمیم آراء نے اپنی فلم ‘ہاتھی میرے ساتھی’ میں بھی استعمال کیا تھا۔ جس پر اداکار افضل خان عرف ریمبو نے پرفارم کیا تھا۔

8۔ وائٹل سائنز کا ‘ناراض’ اور ‘اعتبار’

پہلے میوزک البم کی کامیابی کے بعد وائٹل سائنز کے مداح امید کر رہے تھے کہ آگے میوزک بینڈ زیادہ اوریجنل گانے بنائے گا۔ لیکن ان کے گانے ‘ناراض’ اور ‘اعتبار’ مداحوں کی توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔

وائٹل سائنز کا گانا ‘ناراض’ فکشن فیکٹری کے ‘فیلز لائیک ہیون’ سے متاثر تھا جب کہ ‘اعتبار’ فل کولنز کے ‘اے گرووی کائنڈ آف لو’ سے ملتا جلتا تھا۔

9۔ ایلوارو سولیر کی صوفیہ پاکستانی فلم پرے ہٹ لو میں

دو سال قبل ریلیز ہونے والی فلم ‘پرے ہٹ لو’ کا گانا ‘ہائے دل بیچارا‘ عوام نے بے حد پسند کیا تھا۔

لیکن ہدایت کار عاصم رضا کی فلم کے اس گانے کی مقبولیت اس وقت ماند پڑ گئی جب لوگوں نے یورپی گلوکار ایلوارو سولیر کا گیت ‘صوفیہ’ سنا۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi