Films

فلم بینوں کو ‘کملی’ کیوں پسند آ رہی ہے؟

Written by Omair Alavi

فلم ‘کملی’ کی کہانی تین خواتین کے گرد گھومتی ہے جنہیں حالات و واقعات ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں۔اداکارہ صباقمر، ثانیہ سعید اور  نمرہ بچہ نے اسکرین پر اداکاری کا جادو جگایا ہے۔

کراچی — 

پاکستان میں عموماً رومانوی اور کامیڈی فلمیں باکس آفس پر کامیابیاں سمیٹتی ہیں لیکن حال ہی میں ریلیز ہونے والی سائیکلوجیکل تھرلر فلم ‘کملی’ نے تین ہفتوں کے دوران چار کروڑ کا بزنس کیا ہے۔ فلم کے گانے، عکس بندی اور کہانی میں تجسس کے پہلو کی وجہ سے شائقین اس فلم کو خاصا پسند کر رہے ہیں۔

ہدایت کار سرمد کھوسٹ کی فلم ‘کملی’ میں دیگر پاکستانی فلموں کے مقابلے میں ڈائیلاگ سے زیادہ پرفارمنس پر زور دیا گیا ہے۔ جب کہ اس کی عکس بندی زیادہ تر دیہی علاقوں، جنگلات اور پُر فضا مقامات پر ہی ہوئی ہے۔ تین جون کو ریلیز ہونے والی فلم ‘کملی’ میں سیٹ کا بہت کم استعمال کیا گیا ہے۔

فلم کی کہانی تین خواتین کے گرد گھومتی ہے جنہیں حالات و واقعات ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں۔اداکارہ صباقمر، ثانیہ سعید اور نمرہ بچہ نے اسکرین پر اداکاری کا جادو جگایا ہے۔

فلم ‘کملی’ میں صبا قمر نے حنانامی لڑکی کا کردار ادا کیا ہے جس کا شوہر روزگار کی تلاش کے لیے بیرونِ ملک گیا ہوتا ہے اور حنا آٹھ سال سے اپنے شوہر کی منتظر ہوتی ہے۔ جب کہ اداکارہ ثانیہ سعید نے حنا کی نند سکینہ کا کردار ادا کیا ہے جو نابینا ہونےکے باوجود اپنی بھابی کا خیال رکھتی ہے۔

حنا اپنا گھر چلانے کے لیے ایک رئیس خاتون زینت (نمرہ بچہ) کے لیے ماڈلنگ کرتی ہے۔کہانی اس وقت ایک نیا موڑ اختیار کرتی ہے جب حنا کی ملاقات املتاس (حمزہ خواجہ) سے ہوتی ہے جو اسے ایک دن پانی میں ڈوبنے سے بچاتا ہے۔ فلم میں ‘املتاس’ کی انٹری سے تینوں خواتین کی زندگی میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ یہ ‘کملی’ کے دوسرے ہاف میں دکھایا گیا ہے۔

‘کملی’ حمزہ خواجہ کی پہلی فلم ہے جس میں وہ ہیرو کے روپ میں نظر آئے ہیں جب کہ صبا قمر کے ساتھ ان کے رومانوی سین اور مکالموں کو اگر فلم کی جان کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ حال ہی میں ٹی وی سیریز ‘مس مارول’ میں اداکاری کرنے والی نمرہ بچہ ‘کملی’ میں منفرد کردار ادا کرتی نظر آئی ہیں۔ انہوں نے ایک ایسی امیرعورت کا کردار ادا کیا ہے جو صبا قمر کے کردار کو اپنے ہی شوہر (عمیر رانا)کے لیے پسند کرتی ہے۔

فلم کملی میں سکینہ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ ثانیہ سعید کہتی ہیں ” پاکستان میں اس وقت ہر طرح کی فلم کے لیے امید اور گنجائش موجود ہے اور ہم اپنے سنیما بینوں کو دریافت کرنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔”

انہوں نے سوال کیا کہ اگر ہم دوسرے ممالک کی وہ فلمیں دیکھ سکتے ہیں جو مختلف ہونے کے باوجود کامیاب ہوتی ہیں تو پھر اپنے ملک میں ایسا کیوں نہیں کرتے؟” ان کے بقول جب تک ہم اپنی کہانیاں اپنے لوگوں کو اپنی طرح سے نہیں سنائیں گے تب تک وہ ہماری فلمیں نہیں دیکھیں گے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ثانیہ سعید نے کہا کہ فلم میں اداکاری کئی مراحل میں سے ایک مرحلہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسکرپٹ میں پرفارمنس کا بہت مارجن تھا لیکن اگر آپ کا ہدایت کار سنیما بینوں پر جادو کرنے کا ہنر جانتا ہے تو ضرور لوگوں پر سحر طاری ہوجاتا ہے۔ ‘کملی’ میں بھی ایسا ہی ہوا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پردے پر ‘کملی’ اتنی پسند کی جائے گی اس کا تو اندازہ تھا لیکن اتنی کامیاب ہو گی، یہ نہیں سوچا تھا۔

‘اگر لوگ ‘کملی’ سے سبق لے رہے ہیں تو اس سے اچھی کوئی بات نہیں’

ہدایت کار سرمد کھوسٹ کی پروڈیوس کردہ فلم’جوائے لینڈ’ کو کان فلم فیسٹیول 2022 میں جیوری ایوارڈ ملا ہے۔ اب ان کی حالیہ فلم ‘کملی’ کو بھی پسند کیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سرمد کھوسٹ نے کہا کہ “کملی نے پہلے تین ہفتوں کے بعد چار کروڑ روپے کا بزنس کیا جو کسی بھی نان کمرشکل فلم کے لیے ایک بڑی رقم ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ سنیما میں شائقین کے ردِ عمل سے لے کر اپنے سوشل میڈیا پر لوگوں کے پیغامات پڑھنے تک، زیادہ تر مثبت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

منفرد فلم بنانے کے تجربے پر بات کرتے ہوئے سرمد نے کہا کہ کسی بھی اسٹائل سے ہٹ بننے والی فلم کے پروڈیوسر کو یہ خطرہ لگا رہتا ہے کہ لوگ اس کی فلم کے بارے میں کیا سوچیں گے اورکیسے دیکھیں گے؟ لیکن ‘کملی ‘نے لوگوں کو سنیما کی جانب مائل کیا۔ ان کے بقول اگر ‘کملی’ لوگوں کو سوچنے پر مجبور کررہی ہے اور دیکھنے والے اس سے سبق لے رہے ہیں تو اس سے اچھی کوئی بات نہیں ہوسکتی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی فلم کے بزنس سے متعلق پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ۔ اگر لوگوں کو اچھا مواد دیا جائے اور وہ فلم دیکھ کر بور یت کا شکار نہ ہوں تو یہی فلم کی کامیابی ہے۔

ماضی کے تجربے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ہدایت کار سرمد کھوسٹ نے کہا کہ’منٹو’ سے انہوں نے یہ سیکھ لیا تھا کہ فلم صرف پہلے ویک اینڈ کے بزنس پر کامیاب یا ناکام نہیں ہوتی۔ ان کے بقول ‘منٹو’ عید سے پہلے لگی تھی اور عید کے بعد اس کو دوبارہ شوز دیے گئے ۔ فلم لوگوں کو پسند آئی تھی تب ہی اسے سنیما والوں نے اتنا لمبا موقع دیا تھا۔

فلم ‘کملی’ سے متعلق سرمد کھوسٹ کہتے ہیں اس فلم کا چوتھے ہفتےمیں داخل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کو فلم پسند آرہی ہے۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi