Films

بریڈ پٹ کی نئی فلم ‘بلٹ ٹرین،’ باکس آفس پر کامیاب مگر ناقدین کی مختلف آرا

Written by Omair Alavi

کراچی — 

معروف ہالی وڈ اداکار بریڈ پٹ کی نئی فلم ‘بلٹ ٹرین’ اس وقت امریکی باکس آفس پر تیزی سے اپنی منزلیں طے کررہی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں ریلیز ہونے والی اس فلم نے امریکہ سمیت دنیا بھر میں اب تک 11 کروڑ چھ لاکھ ڈالرز کا بزنس کرکے باکس آفس پر پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔

اپنے اوپننگ ویک اینڈ پر امریکی باکس آفس پر تین کروڑ ڈالرز کمانے والی اس ایکشن فلم کی دنیا بھر میں پذیرائی ہو رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کے دوسرے ویک اینڈ کا بزنس نسبتًا کم رہا۔ وہ صرف ایک کروڑ 34 لاکھ ڈالرز کماسکی جس کے بعد امریکی باکس آفس پر اس کا مجموعی بزنس ساڑھے پانچ کروڑ ڈالرز بنتا ہے۔

اب ‘بلٹ ٹرین’ کی مزید کامیابی کا دارومدار انٹرنیشنل باکس آفس پر ہے جہاں اس نے امریکی باکس آفس سے بھی زیادہ بزنس کیا ہے۔اس وقت انٹرنیشنل باکس آفس پربریڈ پٹ کی فلم چھ کروڑ ڈالرز (ساٹھ ملین ڈالرز)کماچکی ہے اور آنے والے ہفتوں میں چھوٹے بجٹ کی فلموں کی متوقع ریلیز کی وجہ سے اس کے مقابل کسی اور فلم کا آنا مشکل ہے۔

فلم کی کہانی بریڈ پٹ کےکردار لیڈی بگ کے گرد گھومتی ہے جس پر بدقسمتی کا سایہ اسے ایک کامیاب جاسوس بناتا ہے۔ لیکن جب اسے جاپان کی ایک بلٹ ٹرین سے ایک بریف کیس چوری کرنے کا ٹاسک ملتا ہے تو اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا کہ اس کی یہ بدقسمتی اس کے کتنےکام آئے گی۔

ڈیوڈ لیچ کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم میں مکالمے کم اور ایکشن زیادہ ہے جس کی وجہ سے نوجوان اسے زیادہ پسند کررہے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ باکس آفس پر مسلسل دو ویک اینڈز کے بعد بھی اس کا راج قائم ہے۔

لیکن بعض ناقدین اس فلم سے زیادہ خوش نہیں، کسی نے مرکزی کردار میں بریڈ پٹ کے انتخاب کو غلط قرار دیا تو کسی کے خیال میں فلم میں کہانی کا نہ ہونا اس کا سب سے کمزور پہلو ہے۔

ناقدین کو ‘ڈیوڈ لیچ کی ہدایت کار گائے رچی بننے کی کوشش ‘ خاص پسند نہیں آئی۔ دی ٹیلی گراف کے لیے لکھتے ہوئے فلمی نقاد روبی کولن نے کہا کہ بریڈ فلم کی ‘بلٹ ٹرین’ کسی ‘ٹرین ریک’ سے کم نہیں۔

ان کا کہنا تھا 58 سالہ اداکار کو اس فلم میں مرکزی کردار میں کاسٹ کرنا ہدایت کار کی سب سے بڑی غلطی تھی، یہ کردار رائن رینلڈز کے لیے آئیڈیل تھا جو ڈیوڈ لیچ کے ساتھ ‘ڈیڈپول ٹو ‘میں کام کرچکے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس فلم کی اسٹار کاسٹ کو دیکھ کر 60 کی دہائی کی مشہور فلم ‘اٹس اے میڈ میڈ میڈ ورلڈ ‘ کی یاد آتی ہے، لیکن وہ فلم کامیڈی کی وجہ سے جانی جانتی ہے اور ‘بلٹ ٹرین’ اس ‘سر درد’ کی وجہ سے جو اس کو دیکھنے کے بعد ہوتا ہے۔

انہوں نے فلم میں کمپیوٹر گرافکس کے ذریعے جاپان دکھانے کی کوشش کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور پونے دو گھنٹے بعد مرکزی ولن مائیکل شینن کی انٹری کو ‘مضحکہ خیز ‘ قرار دیا۔

اسکرین ڈیلی میں فلم کا ریویو کرتے ہوئے ٹم گرائرسن لکھتے ہیں کہ یہ فلم نہ ہی مکمل طور پر ایکشن فلم ہے اور نہ ہی کامیڈی اور یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

میٹرو یو کے ٹوری بریزئیر کا خیال باقی دونوں ناقدین سے مختلف تھا، انہیں بریڈ پٹ کی نئی فلم ‘سلک، سلی اور اسٹائلش’ ہونے کی وجہ سے پسند آئی۔ ان کے خیال میں نہ صرف پریڈ پٹ اس فلم کے لیے ایک اچھی چوائس تھے بلکہ جس طرح اس فلم میں اینی میٹڈ سیریز ‘ٹامس دے ٹینک انجن’ کے کرداروں کو استعمال کیا گیا وہ قابلِ دید ہے۔

انہوں نے ایکشن اسٹائل اور کامیڈی کو ملا کر پیش کرنے پر ہدایت کار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ فلم کا خود کو سنجیدہ نہ لینا اسے دوسروں سے ممتاز بناتا ہے۔

‘بلٹ ٹرین ‘کی کامیابی باکس آفس کے لیے پریشان کن کیسے ہے؟

دوسرے ویک اینڈ کے دوران باکس آفس پر ‘بلٹ ٹرین’ کی رفتار میں کمی سے سنیما مالکان کی پریشانیاں بڑھ رہی ہیں، کیونکہ ایک تو اس کے مقابل کوئی فلم نہیں، دوسرا اگلی بڑی فلم کے آنے میں دو ماہ لگیں گے۔

دوسرے ویک اینڈ پر ایک کروڑ چونتیس لاکھ ڈالرز کمانے والی بلٹ ٹرین کے پروڈیوسرز تو اپنی فلم کی کارکردگی سے مطمئن ہوں گے، تاہم اس ویک اینڈ صرف ایک فلم کا ایک کروڑ ڈالرز سے زائد بزنس کرنا سنیما مالکان کے لیے پریشان کن ہے۔

آخری بار یہ صورتِ حال اس سال فروری میں پیدا ہوئی تھی جب مسٹری تھرلر ‘ڈیتھ اون دی نائل’ باکس آفس پر دس ملین ڈالرزکرنے والی واحد فلم تھی، اور اب تقریباً چھ ماہ بعد معاملات وہی واپس آگئے جہاں سے آگے بڑھے تھے۔

ان چھ ماہ میں ‘ڈاکٹر اسٹرینج ان دی ملٹی ورس آف میڈنیس’ ، ‘ٹاپ گن، میورک’، ‘جراسک ورلڈ، ڈومینین’ اور ‘تھور، لو اینڈ تھنڈر’ نے باکس آفس پر خوب بزنس کیا، ٹام کروز کی ایئر فورس فلم تو اس وقت بھی دنیا بھر کے سنیما گھروں میں شائقین کو محظوظ کرنے میں مصروف ہے۔

بلٹ ٹرین کی دوسرے ویک اینڈ کی کم کمائی پر ہی سنیما مالکان کو اکتفا کرنا پڑ ےگا کیونکہ اگلی بڑی فلم جوباکس آفس کی زینت بنے گے وہ ‘بلیک ایڈم’ ہوگی اور وہ 21 اکتوبر کو ریلیز ہو گی۔

پاکستان میں اس دوران ستمبر میں باکسنگ فلم ‘ڈوڈا’ اور ایکشن فلم ‘کارما’ جب کہ ‘اکتوبر میں ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ ریلیز ہوں گی، لیکن ہالی وڈ میں اس دوران کسی بڑی ریلیز کا امکان نہیں۔

رواں ماہ معروف اداکار اڈرس ایلبا کی جنگل ایڈونچر فلم ‘بیسٹ’ سنیما میں اور سلوییسٹر اسٹیلون کی سپر ہیرو فلم ‘سمارٹین’ او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر شائقین کو تفریح تو مہیا کرے گی لیکن ‘بلٹ ٹرین ‘کو پٹڑی سے اتارنا ان دونوں کے بس کی بات نہیں ہو گی۔

Omair Alavi – BOL News

About the author

Omair Alavi