Sports

اٹلی نے پینالٹی ککس پر انگلینڈ کو شکست دے کر یورو کپ جیت لیا

Written by Omair Alavi

فائنل کا فیصلہ پینلٹی ککس پر ہوا۔

کراچی — انگلینڈ کی فٹ بال ٹیم اور مداحوں کا انتظار بس انتظار ہی رہ گیا اور 1966 کے بعد کسی ایونٹ کے فائنل میں پہنچنے والی انگلش ٹیم وہ کارکردگی نہ دکھا سکی جس کی اس کے مداحوں کو امید تھی۔ اور یورو کپ 2020 کے فائنل میں اٹلی نے انگلینڈ کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

ایونٹ کے فائنل میں اٹلی کے گول کیپر جون لوئیجی دوناروما کی شاندار کارکردگی انگلش مداحوں خواہشوں کے آڑے آگئی، اور انگلش ٹیم پینالٹی ککس پر میچ نہ جیت سکی۔

اٹلی نے انگلینڈ کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر، ہوم کراؤڈ کے سامنے پینالٹی ککس پر دو کے مقابلے میں تین گول سے شکست دے کر دنیائے فٹ بال کے دوسرے بڑے ایونٹ کو دوسری مرتبہ اپنے نام کرلیا۔

اٹلی نے دوسری مرتبہ یورو کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

پچپن سال بعد کسی میگا ایونٹ کے فائنل میں جگہ بنانے والی انگلش ٹیم، ایک مرتبہ پھر پینالٹی ککس پر ٹائٹل سے محروم ہوگئی، اور اس ایونٹ کے فاتح بننے کے لیے مداحوں کا انتظار مزید طویل ہوگیا۔

فل ٹائم، اضافی وقت میں کبھی انگلش، کبھی اطالوی ٹیم کا پلڑا بھاری رہا

دونوں ٹیموں کے درمیان اتوار کو لندن کے ویمبلے اسٹیڈیم میں کھیلا گیا فائنل، ابتدا سے ہی سنسنی خیز رہا۔ انگلینڈ کی جانب سے لیوک شا نے کھیل کے دوسرے ہی منٹ میں شاندار گول اسکور کرکے ٹیم کو برتری دلا دی، جو پہلے ہاف کے اختتام تک برقرار رہی۔

پہلا گول کھانے کے بعد اٹلی کی ٹیم کو سنبھلنے میں کچھ وقت لگا لیکن اس کے بعد سابق چیمپئن نے مخالف ٹیم کے گول پوسٹ پر کئی حملے کیے۔

دوسرے ہاف کے دوران 67 ویں منٹ پر اٹلی کے لیونارڈو بینوچی نے گول کر کے میچ کا اسکور ایک ایک سے برابر کردیا، اس کے بعد دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے کے گول پر متعدد حملے کیے، لیکن کوئی بھی ٹیم برتری حاصل نہ کرسکی۔

مقررہ وقت کے اختتام تک میچ ایک ایک گول سے برابر رہا، جس کے بعد پندرہ پندرہ منٹ کے دو ہاف کا اضافی کھیل ہوا، جو بے نتیجہ رہا اور بالآخر ایونٹ کے فائنل کا فیصلہ پینالٹی ککس پر ہوا۔

اٹلی کی جانب سے پینالٹی ککس پر تین گول ہوئے جبکہ انگلش ٹیم صرف دو بار بال کو جال میں ڈال سکی۔ اٹلی کے طویل قامت گول کیپر جون لوئیجی دوناروما نے نہ صرف میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا بلکہ پینالٹی ککس پر بھی میزبان ٹیم کے کھلاڑیوں کو پریشان رکھا۔

انہیں ان کی اسی شاندار کارکردگی کی وجہ سے پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔

مینیجر روبرٹو مین چینی کی زیرِ نگرانی اٹلی کی ٹیم اس کامیابی کے بعد صرف دوسری مرتبہ یورو چیمپئن بننے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس سے قبل اٹلی نے 1968 میں اس ٹرافی کو اپنے نام کیا تھا۔

اٹلی کے مداحوں نے ٹیم کی کامیابی پر جشن منایا۔

اٹلی کی ٹیم نے 1968 کے بعد دو مرتبہ 2000 اور 2012 میں ایونٹ کا فائنل کھیلا لیکن دونوں ہی میں اسے ناکامی دیکھنا پڑی۔

اس کے برعکس گیرتھ ساؤتھ گیٹ کی انگلش ٹیم کا یہ پہلا یورو کپ فائنل تھا، ہوم کراؤد اور ہوم گراؤنڈ کے فائدے کے باوجود وہ پہلی مرتبہ یورو چیمپئن بننے میں ناکام رہی۔

لندن کے ویمبلے اسٹیڈیم میں، جہاں انگلش ٹیم نے ایونٹ کے کوارٹر فائنل کے علاوہ تمام میچز کھیلے تھے، 60 ہزار کے لگ بھگ تماشائی موجود تھے، جن میں انگلینڈ کے سابق کپتان اور اسٹار فٹ بالر ڈیوڈ بیکہم، ہالی وڈ اسٹار ٹام کروز اور برطانوی شہزادی کیٹ مڈلٹن نمایاں تھے۔

یورو 2020 کے ریکارڈز پر ایک نظر

گیارہ جون سے شروع ہونے والے ایونٹ میں 24 یورپی ممالک نے شرکت کی، ایونٹ میں مجموعی طور پر 51 میچز میں 142 گول اسکور ہوئے، لیکن فاتح وہی ٹیم بنی جس نے سب سے زیادہ گول اسکور کیے۔

انگلینڈ کی ٹیم پہلی مرتبہ یورو کپ کا ٹائٹل جیتنے میں ناکام رہی۔

اٹلی نے ایونٹ میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ 13 گول اسکور کیے جبکہ اس کے خلاف صرف 4 گول ہوئے، تین مرتبہ کی چیمپئن اسپین کے گول کی تعداد بھی 13 ہی تھی، لیکن اٹلی سے شکست کے بعد اس کا سفر سیمی فائنل میں ہی ختم ہو گیا تھا۔

ایونٹ میں سب سے زیادہ گول جن کھلاڑیوں نے اسکور کیے ان کی ٹیمیں بھی فائنل فور میں جگہ نہ بناسکیں۔ پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو اور چیک ری پبلک کے پیٹرک شک پانچ پانچ گول کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے۔

جس ٹیم کو سب سے کم میچز میں گول پڑے وہ رنرز اپ انگلینڈ تھی، جس کے گول کیپر نے پانچ میچز میں اپنی ٹیم کے خلاف گول اسکور نہیں ہونے دیا۔

About the author

Omair Alavi

Leave a Comment